1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

انصاف سب کے لیے برابر ہوتا ہے


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'News & Views' started by Net KiNG, Jun 21, 2014.

News & Views"/>Jun 21, 2014"/>

Share This Page

  1. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49


    السلام علیکم۔۔
    بچپن سے سن رہے ہیں کہ انصاف سب کے لیے برابر ہوتا ہے۔۔آج اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا۔۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
  2. Ali
    Offline

    Ali Regular Member
    • 38/49

    ستر اسی آدمیوں
    کا قتل کرنے پر صرف استعفی ؟؟؟

    کیا قانون ہے پاک کا واہ جی واہ
     
  3. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    لاہور: پاکستان عوامی تحریک اور منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ کو عہدے سے ہٹانے کے فیصلے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہٹایا نہیں بلکہ ہنی مون پر بھیج دیا گیا ہے۔
    ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ رانا ثنا للہ کا استعفی ناکافی ہے، انہیں عہدے سے ہٹایا نہیں بلکہ چھٹیوں پر ہنی مون منانے کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 17 جون کو تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں پر فائرنگ کا حکم وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دیا، پنجاب میں گلو بٹوں کی حکومت کا راج ہے اورمیری درخواست ہے کہ سپریم کورٹ سانحہ لاہور کی آزادانہ تحقیقات کرائے۔
    اس سے قبل لاہور میں سیاسی جماعتوں کے وفود سے کینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ لاہور میں ہمارے 100 کارکن اب بھی زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا اور کئی لاپتا ہیں جبکہ کئی افراد کی میتیں بھی غائب کردی گئی ہیں،اتنی بڑی بربریت اور دہشت گردی 65 سالوں میں کبھی نہیں دیکھی،کیا رات کے اندھیرے میں لوگوں کو گولیاں مارنے کا نام ہی جمہوریت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ پر کسی پولیس اہلکار سے انتقام نہیں لیں گے اب صرف انقلاب آئےگا۔​
     
  4. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    Nice Information
     
  5. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    قانون کہاں ہے ؟

    جہاں قانون کی حکمرانی قائم ہو وہاں قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں ،چاہے کوئی امیر ہو یا غریب،حاکم ہویا محکوم،قانون کی حکمرانی میں سب کو عدل وانصاف میسر آتا ہے اور کسی پر بھی ظلم نہیں ہوتا ۔لیکن جب قانون کی نظر میں سب برابر ہونے کی بجائے قانون سب کی نظر میں برابر ہوجائے تو پھر چاروں طرف ظلم کی فضا ہوتی ہے ،امیر ہویا غریب کسی کے ساتھ بھی انصاف نہیں ہوتا ،حاکم ومحکوم دونوں کے جان ومال محفوظ نہیں رہتے دونوں کی عزت وآبروکا تحفظ ممکن نہیں رہتا ۔جیسا کہ آج نصف سے زیادہ دنیامیں ہورہا ہے لوگوں نے قانون پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اگر کوئی قانون لوگوں کو جرم کرنے سے روکتا ہے تو اُسے نہ صرف توڑا جاتا ہے بلکہ اُسے ہمیشہ کے لیے ختم کرکے ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو طاقتور کو تحفظ فراہم کریں ۔لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب تک عدل وانصاف اور قانون کی حکمرانی قائم نہ ہو کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا ،جہاں ناانصافی ہوتی ہے وہاں انتقام عام ہوتا ہے اور انتقام لینے والا ظالم سے بھی زیادہ ظالم بن جاتا ہے ۔وطن عزیز میں پھیلی ناانصافی وبدامنی چیخ چیخ کرکہہ رہی ہے کہ یہاں قانون سب کی نظرمیں برابر ہے یعنی کوئی بھی قانون پر عمل نہیں کرتا چاہے کوئی حاکم ہویا محکوم سب کے سب قانون کو پاﺅں تلے روند کر آگے گزر جاتے ہیں ۔ قانون بڑے کام کی چیزہے اگر قانون کی نظر میں سب ایک ہوں ،اگر سب کی نظر میںقانون اپنا اپنا ہوتو بے کار چیز ہے ۔قانون قوم کو متحد اور مضبوط رکھ کر پورے معاشرے کو انصاف فراہم کرسکتا ہے لیکن قانون اپنااپنا کسی ایک شخص کو بھی انصاف فراہم نہیں کرسکتا ۔جس قوم کا ہرفرد قانون کو اپنا کھلونا تصور کرے اور ہر ادارے کو اپنے تابع کرنے کا خواہش مند ہواُس قوم کا خُداہی حافظ۔آپ سمجھ تو گئے ہوں گے میں کیا کہنا چاہتا ہوں اگر نہیں سمجھے تو میں پاکستانی قوم کی بات کر رہا ہوں ۔خیرات اور قرضہ ہم عالمی بینک اور امریکہ سے لیتے ہیں ،گیس ہم ایران سے لے رہے ہیں ،بجلی گھر ہم کرائے پر لیتے ہیں ،بسیں اور سڑکیں ہم ترکی سے لیتے ہیں ،اسی طرح کئی اور چیزیں ہمیں مختلف ممالک سے لینی پڑتی ہیں تو کیا ہم کہیں سے قانون پر عمل درآمد کرنے اور کروانے کی عادت قرض یا اُدھارنہیں لے سکتے ؟ یا پھر کسی بیرون ملک کمپنی کو 20.10سال کا ٹھیکہ کیوں نہیں دے دیتے ؟اگر ہم کوڑا کرکٹ اُٹھانے کا کام تُرکی کی کمپنی البراق کو دے سکتے ہیں توپھر قانون پر عمل درآمد کروانے والی کسی کمپنی کی تلاش کیوں نہیں کرتے؟ اِس وقت قانون کہاں ہے اور کیا کر رہاہے؟یہ سوال میں نے مسلم لیگ ن اور لاہور کے ممتاز تاجر رہنماءراﺅ ناصر علی خان میو کے سامنے رکھا تو انہوں جواب دیا کہ اگر سچ پوچھتے ہیں تو قانون بہت بیمار ہے اور پچھلے 66سالوں سے سیاسی اوراسٹبلشمنٹی ہسپتالوں میں زیر علاج ہے ،جہاں ڈاکٹر دن،رات قانون کی خدمت کرتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ قانون زندہ رہے لیکن مکمل صحت یاب نہ ہونے پائے۔انہوںکہا کہ آج کل رحمن ملک اُن ڈاکٹروں کا سربراہ ہے جو قانون کا علاج کررہے ہیں ۔میں نے پوچھا کہ کیا قانون سے ملنے اور تےمارداری ہرخاص و عام کرسکتا ہے ؟وہ مسکراتے ہوے بولے ارے بابا قانون صرف صاف ستھرے افراد سے مل سکتا ہے یعنی امیروں سے غریب آدمی تو قانون سے 4.2سو کلومیٹر دور سے بھی گزرے تو وہ بے ہوش ہوجاتا ہے اور اگر ڈاکٹر توجہ نہ دیں تو مر بھی سکتا ہے اس لیے میرے بھائی جہاں تک بات ہے خاص کی ، تو وہ ضرور مل سکتا ہے رہی بات عام آدمی کی تو اُسے قانون سے ملنا تودور کی بات ہے اُس کے بارے میں سوچنا بھی سختی سے منع ہے (س)جناب آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قانو ن بیمار ہے ؟(ج)آپ نے کبھی دیکھا یا سنا تو ہوگا کہ بغیر نمبر پلیٹ یا بغیر لائسنس گاڑی چلانے کی وجہ سے ٹریفک پولیس شہری کاچالان کردیتی ہے۔ اور شہری چار پانچ سوروپے جرمانہ ادا کرکے پھر اُسی طرح گاڑی چلاتا پھرتا ہے ۔قانون کا استعمال صرف جرمانے کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ناکہ جرائم کو ختم کرنے کے لیے،(س) کہیں ایساتونہیں ٹریفک پولیس صرف اپنی تنخوائیں پوری کرنے کے لیے چالان کرتی ہے ؟(ج)لگتاتو کچھ ایساہی ہے لیکن یہ سارا سچ نہیں کیونکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک پولیس وزیروں ،سفیروںاور اعلیٰ آفیسروں کوگزارنے کے لیے عام شہروں کو کئی کئی گھنٹے سڑک پر روکے رکھنے کا کام بھی سرانجام دیتی ہے، (س)اس کامطلب ےہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نوکری شاہی خاندانوں کی کرتے ہیں اور تنخواہ عام شہریوں سے اکٹھی کرتے ہیں ؟(ج)نہیں یہ بھی درست نہیں کہ ادارے کسی خاندان کی نوکری کرتے ہیں ادارے تو صرف اورصرف ریاست کے ہیں ،یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر ادارے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو شاہی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں یا غلامی کرتے ہیں ،ہم پاکستان کے قومی اداروں کو بے کار نہیں کہہ سکتے کیونکہ اگر ادارے بے کار ہوجائیں تو نظام نہیں چلاکرتے ،آپ پولیس ہی کی مثال لے لیں ہماری پولیس بہت بدنام ہے لیکن اگر محکمہ پولیس نہ ہوتا توجرائم اس قدر بڑھ جاتے کہ ملک میں صرف جرائم پیشہ افراد ہی زندہ رہتے، (س)آپ کیا سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی قائم کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری یا عوام کے حصے میں بھی کوئی ذمہ داری آتی ہے ؟(س)بالکل حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی حکمرانی قائم کرے اور سب سے پہلے حکمران خود قانون کااحترام اور پاسداری کریں ۔اُس کے بعد عوام بھی قانون کا احترام کریں گے ،حاکم ہویامحکو م جوبھی قانون کی خلاف ورزی کرے اُسے اُس کے جرم کی سزا دی جائے تو قانون کی حکمرانی قائم ہوسکتی ہے، (س)آپ کے خیال میں ہمیں پاکستان میںقانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے کسی دوست ملک سے مدد مانگنی چاہیے ؟(ج)ہرگز نہیں بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ بھوکے مر جاﺅ لیکن قرض اور مدد کے نام پرکسی دوست یادشمن ملک سے کچھ نہ مانگوجو اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے اُسی سے کام چلاﺅ،جس قوم کے پاس پیٹ بھرنے کے لیے کھانا اور تن ڈھکنے کے لیے کپڑا ہواُسے ترقی کرنے سے دنیاکی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ،پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے تمام تر نعمتوں سے نوازرکھا ہے اور پھر مسلما ن تو خود بھوکا رہ کردوسروں کو کھلاتا ہے ہم کیونکر بھیک مانگتے پھریں ؟​
     

Share This Page