1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

Kia Ramadan Ka Purpose Sirf Kamai Hai


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Ramadan Sharif' started by Net KiNG, Jun 24, 2014.

Ramadan Sharif"/>Jun 24, 2014"/>

Share This Page

  1. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49


    السلام علیکم۔۔
    آج ایک کالم زیر نظر گزرا تو سوچا تعلیمی مرکز کے قارئین کے ساتھ شئیر کیا ہے۔۔اس کالم میں ماہ رمضان میں عبادات پر کمائی کو فوقیت دینے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔۔براہ مہربانی اس تھریڈ کو ضرور پڑھیں۔اور اس تھریڈ کا لنک سوشل سائٹس پر بھی شئیر کریں۔۔
    کالم کا متن کچھ یوں ہے۔۔


    [​IMG]
    درزی ہو یا نائی یا پھر حلوائی اور پھل فروش سب ہی زبان پر ایک ہی تو جملہ ہوتا ہے کہ بس "یہی تو مہینہ ہے کمانے کا

    تو جناب آنے والا ہے برکتوں کا مہینہ جس کی آمد کے ساتھ ہی کچھ لوگوں کے تجوریاں بھرنے کا عمل شروع ہو جائے گا اور شاید کچھ کا تو ہو بھی گیا ہے بھلا رمضان جو آرہا ہے اور آپ کو تو معلوم ہی ہے یہ سال میں صرف ایک ہی بار آتا ہے۔ اب اگر کوئی سال بھر کی کسر ایک ہی ماہ میں نکالنے کی سر توڑ کوششیں کرتا ہے تو کیا ہوا؟ یہاں تو ہر وہ فرد یہ کام کرتا ہے جس کو موقع ملتا ہے ۔۔۔۔ اور وہ مثال تو یاد ہے نہ کہ یہاں سیدھا اور شریف وہ ہے جس کو موقع نہ ملے باقی سب ایک ہی حمام کے ساتھی ہیں۔

    کل بس اسٹاپ پر ایک صاحب کی آواز کان میں آئی جو اپنے دوست سے فرما رہے تھے کہ کاش رمضان سال میں دو بار آیا کرے،یقین جانئے دلی مسرت ہوئی کہ کوئی تو ہے جو اس بابرکت مہینے کی فضیلت سے پوری طرح واقف ہے۔ استسفار کرنے پر معلوم ہوا کہ موصوف درزی ہیں اور بقول ان کے، ان کی عید تو پہلے روزے سے ہی شروع ہوجاتی ہے اور جب چاروں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاحی میں ہو تو ہر دن عید کا دن اور ہر رات چاند رات۔۔۔

    بات صرف اس درزی تک ہی محدود نہیں بلکہ شاید ہی کوئی ہو جو اس ماہ کی “برکتیں” پوری طرح سمیٹنے میں ذرا سی بھی کوتاہی برتے،نائی سے لے کر حلوائی اور پھل فروش سے لے کر ہر عادمی سے زبان پر ایک ہی تو جملہ ہوتا ہے کہ بس “یہی تو مہینہ ہے کمانے کا “۔ اب بھلا کوئی ہے جو انہیں یہ بتلائے کہ یہ مہینہ کمانے کا ضرور ہے لیکن لوگوں کی جیبیوں پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ان کی مجبوریوں سے کھیل کر چند ٹکے کمانے کا نہیں بلکہ اپنی ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گناہ بخشوانے اور نیکیاں کمانے کا ہے۔

    اور ہاں دوسروں پر لعن طعد کرتے ہوئے ذرا ایک نظر خود پر بھی،گیارہ ماہ گناہوں کی دلدل میں ڈوبے رہنے کے بعد اپنے گناہوں کو بخشوانے کا ایک مہینہ ملتا ہے اور ہم صبح سے لے کر شام تک خالی پیٹ رہ کر یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم نے سارے فرائض انجام دے ڈالے۔ وہی جھوت کے انبار ،غیبت کے بازار ، بات بات پر تکرار ،عبادتوں میں دکھاوا لیکن پھر بھی دوسروں پر انگلیاں اٹھانا کہ لعنت ہو فلاں تو روزے ہی نہیں رکھتا، ارے جناب آپ نے بھوک ہڑتال کر کے کیا تیر مار لیا جب نیت میں ہی کھوٹ ہے تو ایسا روزہ بھلا کس کام کا۔

    ہر رمضان میں ایک رات شب قدر بھی آتی ہے۔۔۔

    بے شک ہم نے قرآن پاک شب قدر میں اتارا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیسی ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے!اترتے ہیں اس میں فرشتے اور روح، اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر،یہ رات سراسر سلامتی کی ہو تی ہے اور طلوع فجر تک رہتی ہے۔(بیان القرآن،۱۲؍۱۱۱)

    ہزار مہینے کی عبادت سے بھی افضل اس رات کو جب قدسیوں کے سردار حضرت جبرائل رحمت بن کر ہمارے شہروں میں نزول فرماتے ہوں گے تو مولوی صاحبان جس انداز سے لاؤڈ سپیکروں پر شوروغوغا مچا رہے ہوتے ہیں آپ کا کیا خیال ہے فرشتے ہماری دعاوں پر آمین کہتے ہوں گے ؟؟ شاید نہیں،کیونکہ عبادت تو چھپکے چھپکے انسو بہا کر اپنے رب کو منانے کا نام ہے نہ کہ دکھاوے کالاوڈ اسپیکر پر اپنے شور مچاکر لوگوں کی عباتوں میں مخل ہو کر فرشتوں کی دعاؤں کا حق داربننا ممکن ہے یا حصے میں ان کی بے زاری آتی ہو گی ؟؟

    باقی رہی جہاں تک ہماری بات، تو زندگی کی عیدیں عیدی مانگتے مانگتے گزر گئیں اور آدھی عیدی دینے اور نہ دینے کی بہانے سوچنے میں۔۔ جب میں خود اور پھر پورے معاشرے کو دیکھتا ہوں تو گویا ایسا لگتا ہے کہ ہمارے نذدیک رمضان محض مالی فوائد کا ذریعہ ہی بن کر رہ گیا ہے!
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    بہت عمدہ اشتراک کیا ہے۔ہمارے ہان یہاں سبھی سٹور جس کے مالک عیسائی اور دیگر مذھب سے تعلق رکھنے والے سبھی چیزون کے نرخ کم کر دیتے ہیں اور یہ اگر ایسا نہ بھھی کریں تو کوئی اس طرف توجہ بھی نہی دے گا-لیکن ایسا کرکے وہ اپنے گاہکوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم آپکے اس مذھبی مہینے میں گاہکوں کی پاکٹوں کا خالی نہی بلکہ آپکی بچت کر رہے ہیں اور ستم کی بات ہے پاکستانی جو دوکانوں کے مالک ہیں وہ ایسا نہی کرتے بلکہ اپنے سودہ سلف کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔اللہ اب سبکو مزھب کے نام پر کمانے والوں کو ہدائت دے۔​
     
  3. *MS*
    Offline

    *MS* Well Wishir
    • 16/16

    جی
    آپ نے بالکل درست تھریڈ پوسٹ کیا ہے
    شکریہ
    اللہ ہمیں اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے​
     
  4. ✿ℓ๏ɲ€ℓ¥ ʍµ$Ќąɲ ™✿
    Offline

    ✿ℓ๏ɲ€ℓ¥ ʍµ$Ќąɲ ™✿ ITU Lover
    • 38/49

    bhut acha artical lihka apne
     
  5. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    پسند کرنے کا شکریہ
     
  6. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49


    آمین
    پسند کرنے کا شکریہ
     
  7. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    پسند کرنے کا شکریہ
     

Share This Page