1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سلگن

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Jul 3, 2014.

  1. [​IMG]

    ماسی بشیراں انڈا پھینٹ رہی ہے اور مجھے لگ رہا ہے اس برتن میں انڈا نہیں میرا وجود پھینٹا جا رہا ہے۔ غصہ زیادہ ہو یا بے بسی دونوں ہی صورتوں میں انسانی وجود اسی طرح پھینٹا جاتا ہے۔
    تھوڑی دیر پہلے میں نے گھر کے ملازموں میں تنخواہیں بانٹی ہیں۔ مہینے بھر کا سودا سلف لانے کے لیے پیسے دیے ہیں۔ دھوبی کا بِل، دودھ والے کا حساب، اخبار والے کے پیسے… سبھی ادا کردیے ہیں۔ یہ سارا بوجھ اُتار کے اصولی طور پر تو مجھے یوں شانت ہوجانا چاہیے تھا جیسے گرد بھرے پتوں سے لدے درخت کو بارش کی پہلی پھوار دھو ڈالتی ہے۔ ہلکا اور آسودہ کردیتی ہے۔
    مگر میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ صرف ایک نگاہ نے سب کچھ زیروزبَر کردیا ہے۔ میری اپنی ماں کی نگاہ نے یہ کام کیا ہے۔ سردیوں اور سرد ہوائوں کا سیدھا اثر نئی کونپلوں اور پھلدار پودوں کے پھلوں پر ہوتا ہے۔ ان پہ ایک نامہربان سرد رات بھی بہت بھاری پڑجاتی ہے۔ پالے سے ساری نمو مار دیتی ہے۔ نئی بڑھوتری کے امکان مٹا دیتی ہے۔ یہ پالا مارے پودے پھر کبھی پھل نہیں دے پاتے۔ پروان کیا چڑھتے، وہیں گچھو مچھو ہوجاتے ہیں۔
    جیسے جیسے اسکول جانے کا وقت قریب آرہا ہے۔ میں سوچ رہی ہوں کیا اس بھرے پُرے گھر پر اب کبھی بہار نہیں اُترے گی۔ کیا اب خزاں ہی یہاں مستقل بسیرا کرے گی اور ان سوکھے پتوں جیسے ناگوار رویوں کے ساتھ ہی جینا پڑے گا۔ میری ماں کی نگاہوں میں ناگواری ہمیشہ بوچھاڑ کی صورت رہتی ہے۔ وہ اپنے انتخاب اور حدف کو ڈھونڈتی اور بدلتی رہتی ہیں۔ اتفاق کہیے یا سوئے اتفاق کہ میں جو ان کی سب سے بڑی مداح اور حامی تھی اور ان کے ہر کام کی توجیح ڈھونڈا کرتی تھی۔ اب خود کو کتنی دیر سے سمجھا نہیں پا رہی۔ دکھ اور تکلیف سے اب میرا اپنا سانس پھول رہا ہے۔ آپ کو کیسے بتائوں کہ میرے ماضی کے کتنے سال اس دکھ سے بھرے ہیں۔
    تذکرہ نہ کیا جائے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ دکھ کا وہاں سے گزر ہی نہیں ہوا۔ یا کسی درد نے اس دل میں قیام نہیں کیا۔ میرا تو دل بھی اس دکھ سے لبالب بھر ا ہے۔ اسی دکھ میں صبح ہوتی ہے اور اسی میں شام۔ یہ ایسی قید ہے جس سے رہائی ممکن نہیں۔ اس کی اونچی دیواریں میری اپنی ہی ماں کی بنائی ہوئی ہیں۔ اس کی اتنی محنت کا حاصل یہ دیواریں میں کیونکر توڑ سکتی ہوں۔ پیارے ابو میں آپ کا کیا کروں؟ میں آپ کے اس آدھے اور پورے گھرکا کیا کروں جس میں جابجا مکڑی کے جالے لگے ہوئے ہیں۔
    جب جب اسکول سے لوٹ کر آتی ہوں مجھے ان جالوں میں ایک بڑی سی مکڑی نظر آتی ہے۔ میں نے پہلی بار یہ جالا کب دیکھا، اب تو یاد بھی نہیں۔ ہاں وہ دن ضرور یاد ہیں جب اپنے ابو کو ایک جالے کے پاس کھڑے روتے دیکھا تھا۔ میرا کتنا جی چاہا تھا کہ بھاگ کر ان سے لپٹ جائوں، ان کے سینے میں چھپ جائوں، ان کے دکھ اور تکلیف کو چُن لوں اور رونے نہ دوں۔ پھر یہ سوچ کر رونے دیا کہ سنا ہے رونے سے اندر کا غبار دھل جاتا ہے۔ دل کو تھوڑا سکون آجاتا ہے۔ میں دھیرے دھیرے چلتی ان کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔ ممکن ہے یہ بہانہ ہو، میرا خیال ہو اور ابو کو دل سے پیار کرنے کی خواہش کبھی اتنی زور آور ہوئی ہی نہ ہو کہ اس پر عمل ہوتا۔
    ابو کیا ہوا؟ میں نے بہت مان سے پوچھا تھا۔ انھوں نے میری طرف دیکھے بنا کہا۔ بچے! کچھ بھی تو نہیں۔ بس پڑھتے پڑھتے اس کا خیال آگیا۔ ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اس میں لکھا تھا ’’ان کی مثال مکڑی سی ہے۔ وہ بھی ایک طرح کا گھر بناتی ہے اور کچھ شک نہیں کہ تمام گھروں میں مکڑی کا گھر ہی کمزور ہوتا ہے۔ یہ جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو۔ خدا اسے جانتا ہے۔‘‘ سورۃعنکبوت کی یہ آیت تھی جس نے انھیں اندر باہر سے دھواں دھواں کردیا تھا۔بولے ’’وہ گھر جو میں نے تمھاری ماں کے لیے بنایا تھا وہ بھی تو اس جالے کی طرح بودا اور کمزور ثابت ہوا۔ بس اس میں ایک ہی تار باقی ہے، بچے! اور وہ ہو تم… تم میرے یقین اور بے یقینی… اُمید اور نااُمیدی کے درمیان ایک تارعنکبوت بن کر اس لیے لٹکتی رہوگی کہ تم سے ابو نے پیار کیا ہے۔‘‘
    ’’پاپا پلیز!‘‘ میں زور سے بڑبڑائی تھی۔
    ’’جی بی بی جی!‘‘ ماسی بشیراں نے گھبرا کر میری طرف دیکھا۔ وہ جانے کب سے ناشتا لیے میرے سامنے کھڑی تھی۔ بی بی جی آپ کا ناشتا کہاں رکھوں۔ اسکول سے دیر ہو رہی ہے آپ کو۔ وہ میرے جواب کا انتظار کیے بغیر بول رہی تھی۔ بڑی بی بی کو کمرے میں ہی ناشتا کروادیا ہے جی!
    ’’ہور حکم! ‘‘
    میں ناشتا کیے بغیر ہی اسکول آگئی ہوں۔ یہ سٹی اسکول کئی سالوں سے میری زندگی میں ہے۔ بے شک یہ شہر کے مہنگے اسکولوں میں سے ایک ہے، مگر مجال ہے اس کی آبادی میں کبھی کمی ہوئی ہو۔ میں عام طور پر جلدی اسکول آنے کی عادی ہوں۔ پہلے اس لیے کہ مجھے کسی کی ڈانٹ نہ سننی پڑے اور اب اس لیے کہ مجھے کسی کو ڈانٹنا نہ پڑے۔ آپ ٹھیک سمجھے ہیں۔ پہلے میں یہاں پڑھا کرتی تھی۔ اب پڑھنے والوں کو سنبھالتی ہوں۔ان کو سنبھالنے سے فرصت ملے، تو پڑھا بھی دیتی ہوں۔ میری کلاس کے اکثر بچے بڑے عجیب ہیں۔ ان کا گھر جانے کو دل ہی نہیں کرتا۔ کلاس ختم ہوجائے تو کھیلنے لگتے ہیں۔ کھیلنے کو منع کریں تو کسی کونے میں آنکھیں موندے اور اونگھتے نظر آئیں گے۔
    وہ گھروں کو جائیںبھی توکیسے۔ ان کو لانے لے جانے والی ویگنیں تو ہیں نہیں کہ وقت پر آجائیں۔ یہ بڑے گھروں کے بچے ہیں۔ ان کو پک کرنے والے بھی بڑے لوگ ہیں۔ کبھی کسی کی مما آتی ہیں تو کبھی کسی کے پاپا۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی ذمہ داری سمجھ کر اسکول آنا ہی بھول گئے اور بچوں کو رخصت کرنے کی ڈیوٹی کی وجہ سے مجھے کئی کئی گھنٹے ان کے انتظار میںسلگنا پڑا۔
    یہ سلگن بھی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ٹھنڈی میٹھی ہوتی ہے، بس رُلا دیتی ہے۔ ایک کڑوی کسیلی ہوتی ہے، سلگا دیتی ہے، اندر سے دہکا دیتی ہے۔ ایک سلگن ایسی بھی ہوتی ہے جو لمحوں میں جھلسا دیتی ہے، آگ لگا دیتی ہے۔ سلگن کوئی بھی ہو اور کیسی بھی ہو نہ من کو راحت دیتی ہے نہ تن کو۔ بس سلگائے جاتی ہے۔ آنسو چھلکائے جاتی ہے، جھلسائے جاتی ہے۔
    وہ ایک جھلسی ہوئی دوپہر تھی۔ جب سالوں پہلے ایک کالے کوٹ والے صاحب ہمارے گھر آئے۔ یہ کئی مہینوں بعد ہوا تھا کہ کسی مہمان نے ہمارے گھر کی بیل بجائی ہو۔ ابو کے مہمان اس لیے نہیں آسکتے تھے کہ امی انھیں ہی نہیں ان کے مہمانوں کو بھی بہت گھٹیا اورگنوار سمجھا کرتی تھی۔ مسکرا کے ملنا تو درکنار وہ پاس سے گزر بھی جائیں تو آنے والے کو اپنے کانوں کی فکر پڑجاتی جو ان کے آتے جاتے کہے جملوں کے باعث کبھی سرخ ہوتے اور کبھی گرم۔ امی کے مہمانوں کو یہ گھر اپنے گھروں سے چھوٹا، اس کا آرام اپنے گھروں سے تھوڑا اور اس کے باسی اپنے لوگوں سے چھوٹے لگتے تھے۔ ایسے میں امی کی زبان بہت کاٹ دار ہوگئی تھی۔
    ’’دو دو ٹکے کے کالے کوٹ پہن کر آجاتے ہیں ملنے! میرے والد تو اپنے نوکروں کو بھی ایسے ردی کوٹ پہننے کو نہ دیتے۔‘‘ دروازہ کھولنے سے پہلے یہ ارشادات مہمان کے کانوں تک پہنچ چکے تھے۔ دروازہ کھلا تو ایک مسکراتا ہوا چہرا طلوع ہوا۔
    ’’میڈم! یہ میرا پروفیشنل کوٹ ہے۔ پانچ ہزار روپے میں اسے H.Karim Bukhsh سے خریدا تھا۔ آپ کہیں تو رسید پیش کردوں۔ آج تک فائل میں لگی ہوئی ہے۔‘‘ امی نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ بلکہ گھورا تھا۔ کسی نے ان کی بات کا اس قدر برمحل اور برموقع جواب کب دیا ہوگا۔
    ’’کون ہو تم…؟‘‘ امی نے بڑے تکبر اور بدتمیزی سے سوال کیا تھا۔ ’’خاتون! میں عمر، تجربے اور رتبے میں آپ سے بڑا ہوں۔ یہ طرز گفتگو مناسب نہیں۔ کاش آپ نے کسی پڑھے لکھے اور مہذب خاندان میں آنکھ کھولی ہوتی تو آپ کی زبان میں کسی قدر نرمی اور زندگی میں راحت ہوتی۔‘‘ یہ سن کر میری والدہ نے ترنت جواب دیا تھا۔
    ’’میرے والد اس شہر کے بڑے رئوسا میں سے ہیں کسی بھول میں مت رہیے۔ آپ جیسے کئی دو دو کوڑی کے وکیل ان کے ذاتی ملازم ہیں۔ جسے آپ ملنے آئے ہیں اس کو پہلی ملازمت میرے والد نے ایک سیمنٹ فیکٹری میں لے کر دی تھی تب اس ٹٹ پونجیے کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ آج بڑا بنا پھرتا ہے۔ دانش ور۔ وہاں رہتا تو آج جنرل منیجر ہوتا۔ ممکن ہے میرے والد اسے کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔‘‘
    ’’ثمن بی بی! میرا خیال تھا کہ تکبر حماقت ہی کی ایک قسم ہے مگر آج پتا چلا اگر دونوں مل جائیں تو ان کا جادو دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ پھر یہ زبان سے فوارے کی طرح پھوٹتا ہے۔ بوند بوند نہیں گرتا۔ چھینٹے اُڑاتا ہے۔ پٹخ پٹخ کر متکبر کو گراتا ہے اور گرائے چلا جاتا ہے۔ بڑی ہمت ہے عبدالقدیر صاحب کی۔ آپ جیسی خاتون کے ساتھ اتنے سال رہ لیا۔
    آج بھی وہ مجھے منع کرتے ہی رہ گئے کہ خود مت جائیے۔ ڈاک سے بھجوا دیں یا کسی ہرکارے کے ہاتھ۔ مگر میں نے سوچا چل کر بات کرتا ہوں۔ شاید کوئی بہتری کی صورت نکل آئے۔پرآپ دوسروں کو زخم دے کر اپنی انا کو خوراک دیتی ہیں۔آپ کو کوئی کیا سمجھائے۔‘‘
    میں صوفے پر ہاتھ رکھے یہ سب سن رہی تھی۔ میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ کسی ڈر اور خوف سے نہیں۔ صدمے سے، بے بسی سے، ایک دو بار میری سہیلیاں آئی تھیں۔ مما نے انھیں کھلانے پلانے اور حال احوال پوچھنے کے بجائے اپنا اور اپنے خاندان کی امارت کا اس قدر تذکرہ کیا کہ میری دوستیں بے مزہ ہو کر اُٹھ گئیں۔ پھر کبھی میرے گھر نہ آنے کے لیے۔
    ’’ایڈووکیٹ صلاح الدین نام ہے میرا۔ عبدالقدیر میرے کلائنٹ ہی نہیں، پرانے دوست بھی ہیں۔ ایک سیلف میڈ اور مہذب انسان کے طورپر انھیں ایک دنیا جانتی ہے۔ مگر میں نے انھیں ایک متوازن اور احسان شناس آدمی پایا ہے۔
    انھوں نے آپ کی خواہش اور مطالبے کے مدِنظر اس گھر کا آدھا حصہ آپ کے نام کردیا ہے اور باقی کا آدھا حصہ آپ کی بیٹی ملیحہ کے نام ہوگا۔ آپ کو اپنی مرضی کا حصہ چننے کا بھی حق دیا گیا ہے۔ اس دستاویز پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی آپ دونوں کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ ملیحہ اس گھر میں رہے گی اور اسے تمام عمر بغیر کسی مطالبے کے اپنی اور گھر کی ضرورت کے تمام اخراجات ملتے رہیں گے۔ آج سے گھر کی چابیاں اس کے حوالے ہوں گی۔ آیندہ سے نوکروں، ملازموں اور لین دین کے تمام معاملات کی مختار وہی ہوگی۔ اسی کی بات مانی جائے گی۔‘‘
    ’’گڈ!‘‘ امی نے جلدی سے سائن کردیے تھے۔ ’’تو اس جاہل نے بالآخر گھر پر میرا حق مان ہی لیا۔ یہ میری زندگی کا نیا تجربہ ہوگا۔‘‘ وہ بڑبڑائی تھیں۔ ’’جی جی!‘‘صلاح الدین ایڈووکیٹ زیرِ لب مسکرائے۔ ’’خاتون! برا مت مانیے گا آپ کو اس نئے تجربے میں لگے گا کہ خدا نے آپ دونوں کو اکٹھا کرنے کے تجربے کے اثرات اتنے بگڑے ہوئے دیکھے ہیں کہ اس نے تجربے کی بساط ہی لپیٹ دی ہے۔‘‘
    ایڈووکیٹ انکل چلے گئے تو میرا خیال تھا امی بہت دل سے روئیں گے۔ دکھی ہوں گی۔ عمر بھر کا رشتہ تھا ٹوٹ گیا۔ جہاں کبھی اتنے تعلق رہے ہوں وہاں وہ بنیادہی نہ رہے تو دل پر کیا بیتتی ہوگی۔ مگر ان کا ایک ہی تبصرہ تھا۔ ’’خس کم جہاں پاک۔‘‘ میرے سات بھائی ہیں۔ دیکھنا کیسے پلکوں پہ بٹھاتے ہیں۔ پھر فون کے ڈائل گھومنے لگے۔ امی نے یہ خبر ہر جگہ دے کر داد چاہی۔ تب انھیں اندازہ ہوا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہ گیا ہے۔
    انہی دنوں میں مِس امبر سے ٹکرائی تھی۔ میرے لیے تو ابر کا ٹکڑا تھیں۔ ایسی مہربان جیسے پیاسی دھرتی اور سوکھی دراڑوں میں اُگے کسی پودے کو اچانک کہیں سے مہربان سا پانی میسر آجائے۔ میں نے ایک روز ان سے پوچھا تھا’’ مِس! یہ بروکن ہوم کیا ہوتا ہے؟‘‘ انھوں نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا اور پھر دھیرے دھیرے سے رو دیں۔ تب تو مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ روتی دوست کو تو گلے لگا کر چپ کرایا جاسکتا ہے، کوئی مِس رو پڑے تو کیا کرتے ہیں۔ مِس امبر نے اپنے پَرس سے ایک چھوٹی سی کتاب نکالی۔ اس پر قرآن پاک لکھا تھا۔ اس میں سے انھوں نے سورۃعنکبوت نکالی۔ وہی سورۃ جسے کبھی ابو پڑھ کر روئے تھے۔ انہی دنوں میرے ابو مجھے سیر کروانے لے گئے تھے۔ چھوٹی سی عمر کے اتنے بڑے تجربے سے میں دوچار ہوچکی تھی کہ یہ بوجھ میری برداشت سے زیادہ تھا۔ میں نے کہا ابو ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ وہ بولے نہیں بیٹے یوں نہیں کہتے۔ رشتے ضرورتوں سے تو نہیں پہچانتے۔ نہ یہ ضرورتوں سے بنتے ہیں اور نہ ضرورتوں کی تکمیل سے جڑے ہی رہتے ہیں۔ محبت اور خدمت نہ ہو تو ایسی کوئی ایلفی ایجاد نہیں ہوئی جو کسی رشتے کو جوڑ سکے۔
    ہمارے گھر ملازموں اور کام کرنے والوں کے علاوہ مہینوں کوئی نہیں آتا تھا۔ تبھی تو مجھ پر بھید کھلا کہ غم اور خوشی سے بے نیازی بھی ایک کیفیت ہے جو ان دونوں سے بے نیاز ہونے پر حاصل ہوتی ہے۔ پھر نہ پِیڑ رہتی ہے نہ جلن۔ چبھن بھی ہوتو وقتی سا درد ہوتا ہے۔ پھر دکھ درد… خوشی سب ختم ہو جاتے ہیں۔ میری ماں بڑے گھر کی بیٹی تھی۔ وہ عمر بھر اس سے بھی بڑے گھر کے خواب دیکھتی رہی۔ اسے گھر والوں نے یہ خواب دیکھنے دیا بلکہ شاید سبھی مل جل کر اسے یہی خواب دکھاتے رہے۔ یہیں سے وہ تکبر اور لالچ خیال کے راستے ان کے ذہن میں جابسا جس کو دنیا کا کوئی پلاس، کوئی زنبور اُکھاڑ نہیں سکتا۔
    آپ کو میں نے یہ تو بتا ہی دیا ہے کہ علیحدگی کے بعد میرے ابو کم ہی گھر آئے۔ آخری بار جب آئے تو اسکول سے میرے ساتھ، سیدھے میرے ہی کمرے میں۔ نہ کوئی مطالبہ نہ کوئی فرمائش۔ نہ کوئی گلہ نہ کوئی شکوہ۔ تبھی میں نے کہا تھا ’’ابو! کوئی آپ کا کیا کرے۔‘‘ وہ بولے ’’بیٹے! ایک گھر میں نے بھی بنایا تھا۔ اس یقین کے ساتھ کہ یہ مکڑی کے گھر سے مضبوط ہوگا۔ یہاں رہنے والوں کے تعلق کی مضبوطی ہوگی۔ مگر سالہا سال بعد دیکھا تو محسوس ہوا یہ تو مکڑی کے گھر جیسا ہی نکلا۔ ممکن ہے جب اللہ نے انسانوں کے بیچ محبت اور مودت اتاری ہو کچھ لوگ دونوں ہاتھوں سے لے رہے ہوںگے۔ میرے جیسے کچھ لوگ ہوں گے جو کچھ اور سوچ رہے ہوں گے اور اپنی ہتھیلیوں کو سیدھا کرکے اس دولت اور نعمت کو سمیٹنے ہی سے محروم رہے ہوں گے۔‘‘
    میں نے اس روز پہلی بار ابو کا سر اپنی گود میں رکھا تھا۔ ان کے ماتھے پر ڈھیر سا را پیار کیا تھا۔ ان کے بالوں میں انگلیاں پھیری تھیں۔ ان کی آنکھوں پر دھیرے دھیرے مساج کیا تھا۔ اس دوران وہ بند آنکھوں سے دھیمے دھیمے مسکراتے رہے۔ پھر بولے۔ ’’بچے میری بات مانو گے۔‘‘ میں نے گھبرا کر کہا ’’پاپا پلیز! میرا آپ کے علاوہ اور ہے کون؟ اور کس کی مانوں گی میں۔ پر آپ مجھے بچے نہ کہیں اب میں بڑی ہوگئی ہوں۔ آپ کا گھر سنبھالتی ہوں۔ سارا حساب کتاب رکھتی ہوں۔‘‘
    بولے! دیکھ چاند!! میرے من میں تو کب کی نہ لگن رہی نہ جلن رہی۔ ایک تعلق نبھانا چاہا سالوں نبھاتا رہا۔ پر دوسرا ساتھ نہ دے تو تانگے میں جُتے گھوڑے جیسا حال ہوتا ہے، نہ دلکی چال چلا جاتا ہے نہ دوسرا ٹھیک سے چلنے دیتا ہے۔ ہاں گردن پر زخم بڑے گہرے آتے ہیں چونکہ روز آتے ہیں اس لیے گھائو بن جاتے ہیں۔ دیکھ تو ایسا کچھ نہ کرنا۔ کون جانے میں کل تیرے پاس ہوں نہ ہوں۔ رہوں نہ رہوں۔ کوئی تجھے مجھ تک آنے دے، نہ آنے دے۔ کل تیری شادی ہوگی۔ نئی زندگی ہوگی، نیا ساتھ ہوگا۔ اگر اپنے پاپا کی بیٹی

    ہوتو ہمارے بابا جی کی ایک بات یاد رکھنا۔ اپنے میاں کو بادشاہ جاننا۔ بادشاہ ہی کہنا۔ بادشاہ کہو گی تو سلطنتِ دل کی مالک بنو گی۔ ملکہ کہلائو گی اور جو تُو نے اس رشتے کی نا قدری کی، اپنے آپ کو بڑا جانا، باپ کے روپے پیسے اور گھرکو، گھر کی چیزوں کو اہم جانا، اپنے میاں کو چھوٹا اور دولت کو بڑا مانا تو اسے نوکر سمجھو گی۔ بس یہ سوچ لینا، اسے نوکر سمجھو گی تو نوکرانی کہلائو گی۔ کبھی خیر نہ پائو گی۔ خالی ہاتھ رہ جائو گی۔ میرے مولا کو یہ سب بہت ناپسند ہے۔ وہ کہتا ہے سمندر میں انگلی ڈبو کر نکالو تو جتنا پانی انگلی کی پور پر لگے وہ تمھاری کُل دنیا ہے اور یہ دے کر میرے خزانے میں کمی نہیں آتی۔ تو بھلا قطرہ بھر پانی پر کیا اترانا۔ اس پر کیا تکبر کرنا۔‘‘
    میری قسمت دیکھیے کہ چھوٹی سی عمر میں اتنے بڑے سارے گھر کی آدھی مالکن بنی۔ ابو کے سارے بینک اکائونٹس میں حصہ دار ٹھہری۔ دوسرا گھر، جس میں وہ اکیلے رہا کرتے تھے وہ بھی میرے ہی نام تھا اور ثمن بی بی جی ہاں میری ماں کہا کرتی ہے۔ ’’بیٹی تو بہت قسمت والی ہے۔ تیرے پاس اتنی دولت جائداد ہے جو اس گھر میں آئے گا۔ تیرا غلام کہلائے گا۔‘‘ میں انھیں کیا بتائوں کہ ’’میری عمر کی لڑکیاں کہانیاں پڑھتی ہیں۔ ریڈیو سنتی ہیں۔ نئے گیتوں کی دھنوں کو گنگناتی ہیں اور میں اکثر خالی وقت میں اس پَل کو

    یاد کرکے روتی ہوں جب میرے پاپا میری گود میں سر رکھے سو رہے تھے۔ ان کی آنکھوں پر میرا ہاتھ گیا تو یوں لگا جیسے وہاں نمی ہو، وہ رو رہے ہوں۔ میں بے قرار ہو کرانھیں پیار کرنے کو جھکی تھی اور عین اس لمحے ان کا ہاتھ میرے ہاتھ سے چھوٹ کر یوں گرا جیسے کوئی چھت سے گرتا ہے۔ میں تو چیخ بھی نہ سکی۔ کوئی دلاسا دینے والا نہ ہو۔ چپ کرانے والا نہ ہوتو ساری چیخیں اندر ہی گھٹ کر رہ جاتی ہیں اور عمر بھر سلگاتی ہیں۔ ‘‘
    یہ سلگن بھی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ ایک ٹھنڈی میٹھی کہ بس رُلا دیتی ہے۔ ایک کڑوی کسیلی جو سلگا دیتی ہے۔ اندر سے دہکا دیتی ہے۔ ایک سلگن ایسی بھی ہوتی ہے۔ جو لمحوں میں جھلسا دیتی ہے۔ آگ لگا دیتی ہے۔ مجھ غریب پر تو یہ ساری ہی مہربان ہیں۔ پَل پَل میرے ساتھ رہتی ہیں۔ مجھے رلاتی ہیں، آنسو چھلکاتی ہیں اور اس عالم میں کہ انھیں پونچھنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔
    ماسی بشیراں ہر روز ناشتے میں آملیٹ بناتے ہوئے انڈا پھینٹتی ہے اور وہ کیا انڈا پھینٹتی ہے۔ میرا ہی وجود پھینٹا جاتا ہے۔ غصہ زیادہ ہو یا بے بسی دونوں ہی صورتوں میں انسانی وجود اسی طرح پھینٹا جاتا ہے۔

     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    بہت عمدہ شئیرنگ کی ہےآپ نے
    مزید اچھی اچھی شئیرنگ کا انتظاررہے گا۔
     
  3. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Very Nice
    Keep it up
     

Share This Page