1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

لالی

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Jul 3, 2014.

  1. [​IMG]

    شیفے کو یہ بات ہی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کا دادا گھر کے باہر دری بچھا کر کیوں بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھ اور ہونٹ یوں کانپ رہے ہیں جیسے تار پہ لٹکی چادریں ہوا سے تھر تھراتی ہیں۔ اندر ماں اوندھے منہ پڑی ہے۔ دادی بظاہر پیڑھی پہ بیٹھی ہے مگر دیوار پہ گری ہوئی ہے۔ دادی ساری عمر دیوار بنی ابے کی اونچی اونچی باتیں سنتی اور دادے کی جوتیاں کھاتی اور انہی کے گرد منڈلاتی رہی…اب دادا اکیلا کیوں ہے کوئی کسی سے بات نہیں کررہا…کوئی مجھ سے بھی نہیں بول رہا۔ صبح سے چولہا نہیں جلا۔ ہانڈی نہیں چڑھی، ماں بھینس کا دودھ بھی نکال کر نہیں لائی۔
    ’’مائی مجھے بھوک لگی ہے۔‘‘
    اس کی آواز صحن میں یوں گونجی جیسے کسی نے بین ڈالنے کا آغاز کیا ہو…پہلی چیخ، پہلی آہ…پہلا آنسو…دادی نے شیفے کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر ہاتھ یوں گرا جیسے تیز آندھی سے کسی درخت کا کوئی کمزور اور خشک ٹہناگرتا ہے۔ اس نے غور سے دیکھا دادی بالکل اس پھٹے ہوئے چھپر جیسی لگ رہی تھی جو باہر پٹھے (چارہ)کترنے والی مشین کے اوپر سائے کے لیے لگا تھا اور بے چارہ سایہ دینے کے بجائے دھوپ دیکھ کر خود ہانپنے اور کھڑ کھڑانے لگتا تھا۔ ایک جگہ سے دھوپ کو اندر جانے سے روکنے کی کوشش کرتا تو وہ دس جگہ ہوئے سوراخوں سے پھسل کر اندر آجاتی۔
    دادی کی آنکھیں شیفے پہ جمی تھیں مگر بولتی نہ تھیں۔ ایسے تو پارسال اس نے بھوری بھینس کی آنکھیں دیکھی تھیں جو چارے کے ساتھ کٹے ہوئے سانپ کا بچہ کھا بیٹھی تھی اور پھرجگالی کرتے کرتے دم دے گئی تھی۔ اس کی بھی آنکھیں ایسے ہی کھلی تھیں مگر بولتی نہ تھیں۔
    شیفے کا پیٹ بھوک اور پیاس سے لبالب بھر چکا تھا۔ اس نے صحن کے ایک طرف نیم کے پیڑ تلے رکھی گھڑونجی پہ پڑے گھڑے سے پانی کا پیالہ بھرا اور غٹاغٹ پینے لگا…وہ ہر گھونٹ کے بعد دادی کو دیکھتا…کوئی اور موقع ہوتا تو دادی وہیں سے چلاتی۔ ’’وے کھسماں نوں کھانیاں خالی پیٹ نہیں پیتے۔ آہستہ آہستہ پی۔ بوند بوند کرکے۔ نہیں تو خالی کلیجے میں یہ سانپ کی طرح جاکر ڈنگ مارے گا۔‘‘
    ’’کیا آج پانی ڈنگ نہیں مارے گا؟‘‘ شیفے نے پیالہ گھڑے پہ رکھتے ہوئے سوچا…دادا کتنی دیر سے اکیلا بیٹھا ہے۔ حقہ بھی گڑ گڑ نہیں کر رہا…اسے پیاس بھی تو لگی ہوگی…وہ پیالہ بھر کے دادے کے پاس آگیا۔ دادے کی مونچھیں اس ڈھنگ سے کٹی تھیں کہ اسے ہنسی آگئی۔
    ’’دادا!تیری مونچھوں کو کیا ہوا؟‘‘
    اس نے پانی کا پیالہ آگے کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’پی لو۔ ٹھنڈا ہے دادا۔ تیری مونچھیں پتا ہے کیسی ہیں جیسے جولاہوں کے لڑکے نے ہمارے کھیت سے چارا کاٹا تھا ویسی …تجھے دیکھ کر وہ کیسے بھاگ کھڑا ہوا تھا…‘‘
    دادا چپ رہا۔ اس کا بتانے کو جی چاہا کہ پتر صبح جب وہ نائی سے حجامت بنوا رہا تھا تو نائی بھی اپنا کام ادھورا چھوڑ کر اسی طرح بھاگا تھا…اس نے ٹوبے (پینے والا پانی ذخیرہ کرنے کی پکی جگہ)سے آتی آواز سنی تھی…
    ’’اوئے لالی ماریا گیا جے۔‘‘
    یہ آواز گلیوں میں گونجتی، کچے پکے کوٹھوں کو پھلانگتی، آنگنوں میں بچھی چارپائیوں کو چھوتی، دروازوں کھڑکیوں سے گزرتی، بیٹھکوں، برآمدوں، دالانوں سے ہوتی کھیتوں تک جاپہنچی تھی۔ کچھ نے ہل چلانے روکے تھے۔ کچھ نے لقمے اٹھانے، کچھ اٹھ کر ٹوبے کی طرف بھاگے تھے۔ وہاں بچھی ہوئی چارپائیوں پہ ساری تفصیل پڑی تھی۔ اخبارمیں تصویر چھپی تھی۔ لالی چاروں شانے چت خونم خون پڑا تھا۔ اپنے نام کی طرح لال و لال…
    ہزار بارہ سو کی آبادی والے اس گائوں سے جو چند لوگ لالی کے گھر آئے، دوبارہ وہ بھی نہیں آئے تھے۔ جو آئے وہ بھی شرمندہ سے آئے۔ ڈرے ڈرے سے کچھ دیر رکے اور جلدی جلدی انہی قدموں پہ لوٹ گئے۔
    تب اچانک ایک تانگہ آکر رُکا تھا۔ اور چاچا دینو لمبی چھال مار کر اس سے اترا تھا…اس کے ہاتھ میں ایک صندوق تھا۔ ٹین کا تھا یا لوہے کی چادر کا…جگہ جگہ سے یوں پچکا ہوا تھا جیسے دادی کے گال پچکے تھے۔ چاچے کو دیکھتے ہی دادے کا ہوکا نکل گیا تھا۔
    ’’اوئے ربا!لالی میری کمر توڑ گیا جے۔‘‘
    چاچے دینو نے بڑھ کر دادے کو بانہوں میں بھر لیا تھا۔ وہ رو رہا تھا…اور دادا اس کی کمر پہ ہاتھ مار رہا تھا…’’تم دونوں اکٹھے گئے تھے شہر…پھر یہ کیاہوا؟‘‘ ظالما! تم سے میرا لالی نہ سنبھالا گیا۔ میرا سوہنا۔ شیر جوان۔
    ہائے او ربا…میرا لالی ماریا گیا جے۔‘‘
    دادا کی آواز اور چہرہ پچھلے چند ہی گھنٹوں میں اور بھی بوڑھا ہوگیا تھا …دادے کی آواز اور آنسو ایسے تھے جیسے کوئی مُٹھی بھر بھر کے کیکر کے کانٹے اِدھر اُدھر پھینک رہا ہو۔ کئی کانٹے تو شیفے کے اندر آکر گرے تھے۔
    ’’ممکن ہے کچھ کانٹے دادی پہ بھی جاگرے ہوں…‘‘ شیفے نے بے قراری سے سوچا تبھی تو وہ لاٹھی ٹیکتی ، دیواروں کا سہارا لیتی دروازے پہ آئی تھی اور چوکھٹ پکڑ کر بیٹھ گئی تھی۔
    ’’میںکیا…‘‘ وہ دادا سے ہمیشہ بات ایسے ہی شروع کرتی تھیں’’سورج سر پہ آنے کو ہے۔جاجی جاکر لالی کی لاش کا پتا کرو…‘‘ دینو چاچا اُٹھ کر دادی کے پاس آیا تھا دادی نے اس کو گلے لگایا اور روتے روتے اس کی بانہوں میں یوں گر گئی جیسے ٹوٹا ہوا شہتیر گرتا ہے…چاچے نے دادی کو دَری پہ بٹھایا…بٹھایا بھی کیا لٹایا اور بولا۔
    ’’مائی…دعا کر…رب خیر کرے…لے آتے ہیں، پر ابھی تو پولیس دے گی نہیں۔ بات تازہ ہے۔ ان کے بہت بندے مرے ہیں…وہ لاش کے لیے آنے والوں کو بھی پکڑ کے اندر کردیں گے…آخر18بندوں کے مارنے کا اِلزام ہے لالی پر۔‘‘
    تب دادا بولا تھا۔
    لاش لا کر کرنی بھی کیا ہے…؟سویرے سے کوئی ایک بندہ نہیں آیا حوصلہ دینے۔ لاش لے آئے، تو جنازہ کس نے پڑھنا ہے؟ یہاں توکسی نے میرے شیفے کے سر پہ ہاتھ بھی نہیں رکھا…بچہ یتیم ہوا ہے، کوئی تسلی کا جملہ ہی اسے کہہ دیتا۔ کوئی اسے سینے سے لگاکر پیار ہی کرلیتا۔‘‘
    دادے نے شیفے کو سینے سے لگالیا۔
    ٭…٭
    ’’میںلالی کا بیٹا شیفا صبح سے بھوکا ہوں۔ گھر میں کسی نے کھانا تو درکنار، پانی بھی نہیں پیا۔ دادے کا پیالہ بھی ویسے کا ویسا پڑا ہے جیسا میں نے لا کر رکھا تھا…میرا دل چاہا کہ پوچھوں’’دادا کیا واقعی میرا ابا مر گیا ہے۔ پر یہ مرنا کس طرح کا ہے۔ ابھی پچھلے سال جب ماما سرور مرا تھا تو کیسے سارے لوگ اس کے بیٹے کو گود میں لے لے کر پیار کرتے تھے۔ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے تھے ہر کوئی بلا بلا کر کہتا تھا۔
    ’’ہائے نی وچارہ یتیم ہوگیا۔‘‘
    میں بھی تو یتیم ہوا ہوں…میں کیسا انوکھا یتیم ہوں کہ کسی کے ہاتھ پیار کے لیے نہیں اُٹھتے، نگاہ مجھ پہ نہیں پڑتی۔‘‘
    اسی لمحے چاچے دینو کی نگاہ مجھ پہ پڑی…اور اس نے اُٹھ کر مجھے گلے لگالیا…چاچا کتنا بڑا سارا ہے مگر مجھ کو گلے لگا کر وہ بچوں کی طرح رُو رہا ہے…وہ روتا جارہا ہے…اور بولتا جارہا ہے۔
    پھر وہ مجھے لے کر دادے کے پاس بیٹھ گیا۔
    ’’شیفے تجھے پتا ہے جب تیرا باپ پیدا ہوا،تو میں تری عمر کا تھا…یہ قریب ہی ہمارا گھر تھا۔
    میری بہشتی ماں، سارے اسے ماسی پھاتاں کہتے تھے،میری انگلی پکڑ کر ترے ابے کو دیکھنے آئی تھی… ماں کہتی تھی۔اس نے کبھی کسی کا اتنا سوہنا لڑکا نہیں دیکھا تھا۔ وہ دانتوں میں انگلیاں دبا دبا کر بولی تھی۔ نی نرالا ہے لالی…یہ لال و لال گالیں ہیں اس کی، سوہنا سنکھا اتنا کہ آنکھیں نہیں ٹکتیں اس پہ یہ پرستانوں سے تحفہ آیا لگتا ہے۔
    ہائے نی یہ تمھارے گھر کہاں سے آگیا…میرا جین جوگا دینو، تو اس کے سامنے توے کی کالک ہی لگتا ہے… اس کی بات پر سبھی عورتیں ہنس پڑی تھیں اور میں شرمندہ ہو کر تب بھی رو پڑا تھا… اتنے سالوں بعد آج پھر ترے باپ نے رُلا دیا ہے۔‘‘
    ’’لوگ کہتے تھے لالی دودھ سے دھلا تھا۔ پھولوں کی پتیوں سے اس کا وجود بنا تھا۔ لعل تھا نرا لعل موتی کی طرح چمکتی آنکھیں تھیں اس کی۔ کسے خبر تھی کہ یہ آنکھیں اِک دن یوں بجھ جائیں گی۔‘‘
    چاچا دینو بات کرتے کرتے رک گیا۔ دادے سے مخاطب ہوکر بولا۔
    ’’میں گیا تھا اس کی لاش دیکھنے بکر منڈی کے پیچھے آبادی کے کھڈوں میں یوں پڑی تھی جیسے ٹرالی سے گر کر کوئی ہدوانا پھٹا ہو…آس پاس سب جگہ خونم خون تھا…لال و لال…اس کی وہ بڑی بڑی آنکھیں کھلی تھیں اور پولیس والے یوں پاس کھڑے تھے جیسے شکار کرکے فوٹو کھنچواتے ہیں…میرا تو حوصلہ نہیں پڑا کہ کسی کو بتاتا کہ یہ میرا یار لالی ہے…میں نے توکل خود اسے آٹھ نو مہینوں کے بعد دیکھا تھا…دیکھا بھی کیسے کہ ریڑھی لے کر جارہا تھا چوک میں لگانے کے لیے کہ اخبار میں لالی کا فوٹو

    چھپا تھا…میں نے فٹا فٹ اخبار کھولی اور ان سے کہا پڑھ کے سنائو…میں اندر تک کانپا ہوا تھا…ڈرا ہوا تھا…رونا آرہا تھا، پر میں روکے فریاد کس سے کرتا۔ بس ان کو پھل کھلا کر باقی گاہکوں سے میں نے معافی مانگی اور ریڑھی اس دکان پہ کھڑی کرکے جہاں میں شام کو کام کرتا ہوں…رکشا لے کر بھاگا تھا…موقع پہ مکھیاں کم اور لوگ زیادہ تھے، جانے کب سے لاش پڑی تھی۔
    اس کی موتیوں جیسی آنکھوں پہ مکھیاں بھنبھنارہی تھیں۔ میرا تو رونا ہی نکل گیا۔ مائی پھاتاں بہشتن دیکھتی تو کیا کہتی…پچیس، تیس سال کوئی عمر تھوڑی ہوتی ہے۔ اتنے ہی سال ہوئے ہوں گے جب مائی پھاتاں نے اسے لالی کہا تھا…اور اتنے سالوں بعد اب وہ اپنے ہی خون میں لالو لال ہوا پڑا تھا…بچھا ہوا، بکھرا ہوا۔
    چاچا دینو کی دھاڑ نکل گئی۔
    ’’کسی اپنے کے دکھ سے بندہ سر سے پائوں تک بھرا ہو اور کسی سے کچھ کہہ سن بھی نہ سکے…تو بندہ کیا کرے او ربا…!‘‘
    ’’مجھ سے تو وہاں رکا بھی نہیں جاتا تھا۔ بس تھوڑی پوچھ پڑت کی… کہ لاش کہاں لے جائیں گے۔ کوئی وارث آیا، تو کیسے ملے گی۔ لوگ جواب کم دیتے، یہی کہتے لالی نے بڑا اندھیر مچا رکھا تھا…دنوں مہینوں میں اس نے کتنے ہی گھر اُجاڑ دیے۔ 18کے تو لوگ نام لے رہے تھے جو اس کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
    جب پہلے پہل مجھے پتا چلا تولالی نے ابھی چھوٹی چھوٹی وارداتیں شروع کی تھیں۔ سبزہ زار کی سڑکوں پہ رات کو راہ چلتوں سے چھرا دکھا کر پیسے چھین لیتا۔ پھر اس نے موٹر سائیکل والوں کو لوٹنا شروع کیا…میں نے بہت سمجھایا بہت منع کیا لالی نہ کر…
    لالچ اور ظلم کی نہ کوئی حد ہے نہ آخیر…بے موت مارا جائے گا…گھر پتا چلے گا، تو سوچو کتنی رسوائی ہوگی… ‘‘پر وہ نہیں مانا…
    بولا!’’لوگ سوکھے ہیں، اتنے بڑے بڑے گھر بناتے ہیں، تو میں کیوں نہ ان جیسا بنوں۔ میں نے اللہ اور رسولﷺکے واسطے دیے کہ آٹھ دس سال پہلے کیسے ہم دونوں بھائی گائوں سے اکٹھے آئے تھے خالی ہاتھ۔ نہ کوئی جان نہ پہچان۔ پہلے لاری پہ بیٹھے پھر ٹرین پہ کیسے نئے بننے والے مکانوں پہ مزدوری کرتے اور سر کے نیچے اینٹ رکھ کر

    سوتے تھے۔ تب وہ بولا تھا کہ میں تو تب بھی سوتے میں امیر ہونے کے خواب دیکھتا تھا…تونے دس سالوں میں مزدور سے ملازم بننے کی ترقی کی ہے اور بہت خوش ہے کہ اوور ٹائم کے طور پر پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے میں دیکھتے ہی دیکھتے بہت آگے نکل جائوں گا’’نکل تو گیا۔ مرن جوگا…‘‘ دادا نے سسکارا بھرا۔
    شروع دنوں میں مزدوری کرکے شام کو تھک جاتے تو کھاپی کر لیٹ جاتے۔ یہ اُٹھ کھڑا ہوتا اور مجھے سوتا چھوڑ کر کچے پکے ہوٹلوں پہ بیٹھ کر رات رات بھر چائے پیتا اور فلمیں دیکھتا…اللہ جانے وہیں کسی کالی قسمت اور کالی زبان والے نے اسے راہ سے بے راہ کردیا پتا نہیں اس کی قسمت ہی ایسی تھی۔
    دادے نے دکھ بھرا ہنکارا بھرا۔
    ’’نہیں او پتر۔ ایسے لوگوں کی تو قسمت ہوتی ہی نہیں جو اپنے حصے پہ قناعت نہ کریں…‘‘ کتنے شوق سے شادی کی تھی…اس کی…کیا معلوم تھا پانی کے بلبلے جیسی ہے اس کی عمر اور ہماری خوشیاں۔
    لالی کی باتیں دال میں آئے کنکر کی طرح ان کے دانتوں اور زبانوں میں رڑکنے لگیں اور پھر وہ خاموش ہوگئے۔ چاچا دینو شیفے کے سر پہ ہاتھ پھیرتا رہا … دادی دروازے میں خالی نگاہوں سے دور دیکھ رہی تھی جیسے اپنے لالی کو آتے دیکھ رہی ہو… دادا خالی دری پہ بیٹھا گائوں سے پرسا دینے کے لیے نہ آنے والوں کا منتظر تھا کہ جن کی خوشی غمی میں وہ سب سے پہلے جاتا تھا۔
    اور میں شیفا اپنے گائوں کے پرائمری اسکول کی چوتھی کی کلاس کا پاڑھو۔ اسکول جانے کے بجائے چاچے دینو کی گود میں سر رکھے کسی قحط زدہ بھوکے کی طرح ہر ہر بات اور ہر ہر چیز پہ غور کیے جارہا ہوں۔
    اتنے غور کے بعد بھی ہر بات بوڑھی دادی کی طرح خالی سوکھی اور ہمارے اسکول کے پرانے ٹوٹے کمرے کی طرح اُجڑی ہوئی ہے۔
    دادی کے مردے میں تھوڑی سی جان پڑی ہے وہ دھیرے دھیرے دروازے کا سہارا لے کر اُٹھی ہے اور ہمارے بالکل ساتھ آکر بیٹھ گئی ہے۔ دل دکھ سے آنکھیں انتظار سے بھری ہوئی ہوں، توحالت دادی جیسی ہی ہوتی ہوگی…اس نے چاچے دینو کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور بولی۔
    ’’پت!لالی کو دیکھے عرصہ بیت گیا۔ میری آنکھوں کو اسے دیکھے بنا موت بھی کیسے آئے گی…تو اس کی لاش ہی مجھے دکھا دے۔ بس اس کا چہرہ ہی ایک بار دکھادے۔
    ’’نہ مائی نہ…‘‘ چاچا دینو بھڑک اُٹھا… ‘‘
    ’’اس کی لاش بھی کوئی دیکھنے والی تھی…سارا جسم گولیوں سے لیرو لیر ہوا پڑا تھا…دماغ پھٹ کر زمین پر پڑا تھا…مجھ سے نہیں دیکھا گیا…تو ویسے ہی چھوٹے سے دل کی ماں ہے…کیسے دیکھے گی وہیں پھڑک کے جان دے دے گی۔ ‘‘
    ’’نہ وے پتر…نہ…ایسا مت بول۔ ‘‘
    وہ جو ساری عمر لوگوں کو دُکھ دیتا رہا…
    ہمارے، تمھارے سمجھانے پہ نہ سمجھا…سائیوں نے یوں مار گرایا جیسے کوئی جانور ہو…
    پر کیا کروں اس جانور کی ماں ہوں۔
    جب تک اس کی قبر نہ بنالوں …اس کو قبر میں نہ اُتارلوں۔ خود قبر میں کیسے اُتروں گی۔
    قبرستان میں اُگی قبروں میں ایک قبر تو اس کی بھی ہوگی…میرے لالی کی،تو کچھ اپائے کر…کچھ ہمت کر۔
    یہ لے میری مُرکیاں۔ دادی نے اپنے کانوں سے دونوں بالیاں اُتار دیں۔
    ’’یہ لے میری مرکیاں…ان پلسیوں کو دینا کہ اب تم نے اس لاش کا کیا کرنا…اک مرن جوگی ماں کو دے دو…اب جو کرنا ہے اس کی ماں نے کرنا ہے اس کرموں جلے کی خالی اندھیری قبر پہ تو کسی نے فاتحہ پڑھنے بھی نہیں آنا۔ اک میں نمانی آخری سانس تک وہاں بیٹھوں گی…جس کا کوئی نہ ہو اس کی ماں تو ہوتی ہی ہے۔ ‘‘
    دادے کی دھاڑیں نکل گئیں تھیں۔
    دادے کو یوں پہلی بار روتے دیکھا تھا۔
    وہ روئے جارہا تھا اور میں سوچے جارہا تھا ’’ابے نے اپنے ابے کو کس لیے یوں رلایا ہے اور جو میں کبھی اپنے ابے کویوں رُلاتا، تو اسے کیسا لگتا!
    پر مجھے پتا ہے میں ایسا کبھی بھی نہ کرسکتا۔
    میرے ابے کی ماں نے مجھے ایسا کرنے ہی کب دینا تھا۔ ‘‘


     
  2. نمرہ

    نمرہ Management

    wah very nice bure ka anjam bura he hota ha par maa to maa hote ha na chahe bachi kaise b ho...
     
  3. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

    Nice sharing
    Keep it up
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Very Nice
    Keep it up
     

Share This Page