1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

گھاؤ غم دوراں کے

Discussion in 'Library' started by PRINCE SHAAN, Jul 12, 2014.

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest


    [​IMG]

    میں ان دنوں کینیڈا میں مقیم تھا۔ ایک ہسپتال میں یونس نجار دین میری توجہ کا مرکز بن گیا۔ وہ حیاتِ انسانی میں انوکھی کہانی مرتب کررہا تھا۔ نجار دین خاندان سے بھی رابطہ بڑھا، پھر ان کے ہاں آنا جانا میرا معمول بنتا گیا۔ یونس کی کہانی انہی روابط میں تشکیل پائی۔ میں قارئین اور تحریر کے بیچ نہیں الجھنا چاہتا۔
    کولمبو کی گلیوں میں حیات ادا کے ساتھ رواں رہتی ہے، یونس کا تعلق بھی اسی خطے سے تھا۔ وہ خوبرو اور ہونہار تھا، اسی ناتے ہر دل عزیز بنتا گیا تھا۔ وہ اس مسلمان پریوار کا چشم و چراغ تھا جسے سری لنکا میں باعزت گردانا جاتا تھا۔ یہ خاندان تعلیم یافتہ اور خوشحال تھا اور اس کے افراد بارسوخ مانے جاتے تھے۔
    اس نوع کے کنبوں میں کبھی لاہوتی خواہشیں جنم پانے لگتی ہیں، جو لہو میں پلنے لگیں تو ارمان بنتی جاتی ہیں۔
    یونس کا والد فضل نجار دین انہی تمنائوں کا پجاری تھا۔ اس نے خوابوں میں سراب سجا رکھے تھے۔ اس کا مطمحِنظر سفید فاموں کا دیس تھا ، جسے پانے کے لیے وہ زمانوں سے تگ و دو کرتا رہا تھا۔ اس کی جدو جہد اس کے کنبے پر باربن چکی تھی۔ وہ بکھیڑوں میں اس قدر کھو چکا تھا کہ اہلِ خانہ اس کی عدم توجہی کا شکار لگتے تھے۔
    فضل کو دھچکا اس دم لگا جب اس کا بڑا بیٹا، یونس ذہنی مسائل کا شکار ہوگیا۔ وہ ہائی اسکول کی اوپری جماعتوں کا طالب علم تھا۔ اساتذہ نے بتایا کہ یونس حصولِ تعلیم میں ہمیشہ احسن رہا تھا، مگر اس کی حیات کا یہ پہلو اب ہر لحاظ سے توجہ طلب تھا۔ وہ مسلسل تعلیمی انحطاط کا شکار ہورہا تھا۔ اسکول کی رپورٹ سے انکشاف ہوا کہ اس کے عمومی رویے بھی برمحل نہیں ہوتے۔کسی بچے کو پریشانی میں پاکر وہ کھِل اٹھتا تھا، کبھی بلا وجہ رونے لگتا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے الگ تھلگ رہنا پسند کرتا تھا۔ غلط بات پر اڑ جانا اس کی سرشت کا حصّہ بن چکا تھا۔ اس سے اس کے اساتذہ بھی پریشان تھے۔ رپورٹ کے مطابق طالب علم میں تشدد کا رجحان جنم لے رہا تھا، جو اس کی شخصیت پر طاری اعصابی تنائو کی غمازی کرتا تھا۔ اسکول کی طرف سے یہ سفارش کی گئی تھی کہ طالبِ علم کا دماغی معاینہ کرایا جائے اور اس کے گھریلو مسائل کا تدارک کیا جائے۔
    یونس کے سلسلے میں اسکول کی رائے فضل کے لیے اچنبھے کی بات تھی۔ بچے کے رویے میں تغیر کا احساس گھریلو سطح پر ہونا چاہیے تھا۔ اسے دکھ ہوا کہ اس کی ہمہ جہت عدمِ فراغت اور زوجہ سے ناچاقی اس کی اولاد پر اثرانداز ہورہی تھی جس کا تدارک ہونا لازم تھا مگر وہ کچھ زیادہ نہ کرسکا۔ وہ نقلِ مکانی کے گور کھ دھندوں میں بری طرح الجھا ہوا تھا۔ ان دنوں بچے بھی دیس تبدیلی کے شوق میں مبتلا تھے، اس لیے ان کے مسائل وقتی طور پر ولولوں میں دب گئے تھے۔
    چند ماہ بعد نجار دین فیملی نے نقلِ مکانی کا کوہِ گراں سر کر لیا۔ یوں نئے وطن نے انھیں اپنے بطن میں سمو لیا۔ اس دیس کے کچھ اپنے تقاضے تھے، جن کا بوجھ ان تارکین نے محسوس کیا۔ یہاں پیساکمانا انھیں زیادہ مشکل لگا، پھر معاشروں کا ثقافتی فرق بڑی اُلجھن بنتا گیا۔ اونچے معاشرے کا کمتر شہری ہونا، مسائل کو جنم دینے لگا۔
    یونس کا تعلیمی سفر بری طرح متاثر ہوا۔ وہ اندازِ تعلیم میں تبدیلی سے سمجھوتہ نہ کرسکا۔ اس طرح اس کی تعلیمی ترقی مفقود ہوتی گئی۔ وہ اپنی دنیا میں الگ تھلگ نظر آنے لگا۔ وہ سفید فام نسل سے دور رہا، مگر سیاہ فام ہم عمروں سے بھی سمجھوتہ نہ کرسکا۔ اس کے دوست صرف ایشیائی لڑکے تھے، مگر وہ بھی بگاڑ میں جاموں سے باہر دکھتے تھے۔ ہر کوئی اسے دھوکے باز نظر آتا تھا۔
    ایک روز اسکول میں سوئمنگ پول پر اسے انتہائی شرمساری کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ تیراکی کی مشق میں مشغول تھا کہ دوستوں نے اس کے کپڑے چھپا دیے، بعد میں اس کا تماشا بھی بنا ڈالا۔ یونس ساتھیوں کی منت سماجت کرتا رہا، بالآخر پریشان ہوگیا۔ وہ دل شکستہ مختصر لباس میں گھر کی طرف چل پڑا۔ اسے قلق ہوا کہ کوئی بھی اس کے دُکھتے دل پر پھاہا نہ رکھ سکا۔ اس کی سبکی کا دوسرا پہلو بھی تھا۔ اس تمام ڈرامے کا مرکزی کردار چان تھی، جو انہی دنوں اس کے من میں آن بسی تھی۔ یونس اسے ٹوٹ کر چاہنے لگا تھا،مگر وہ چینی دوشیزہ کسی یورپین پر جان چھڑکتی تھی۔
    ناگوار واقعے کے بعد یونس نے اسکول جانا ترک کردیا۔ خاندان کا دبائو بھی اس پر بے اثر ثابت ہوابلکہ تنائو اس کی استطاعت سے بڑھتا گیا، اس پر طُرہّ یہ کہ وہ صرف اپنے رویے کو صحیح جانتا تھا۔ کٹھن حالات اس کی شخصیت کو مسخ کررہے تھے۔ دھیمے مزاج کا ہنس مکھ لڑکا اب زُود رنج ہوچکا تھا۔ گھر میں کوئی ناگوار بات ہوتی تو وہ اہلِ خانہ کو دشمن سمجھنے لگتا۔ نالاں ہوتا تو اس کے ذہن میں بے بنیاد کہانیاں جنم پانے لگتیں، جو حقائق سے بعید تر ہوتی تھیں۔ معاملات اس کے دماغ میں الجھنے لگتے، وہ انھیں وہاں سے نکال نہیں پاتا تھا۔ ان مراحل میں وہ دن بھر کڑھتا رہتا تھا، کبھی خود ترسی کا شکار بھی دکھائی دیتا۔
    وہ دوست و احباب سے کتراتا اور دن بھر اندھیرے کمروںہی میں پڑا رہتا تھا۔ کبھی بے کار بحث میں اُلجھ پڑتا تو گھنٹوں گھر والوں کا سر کھاتا تھا۔ یہ بے سروپا الجھائو عموماً اس کے رو پڑنے پر ختم ہوتا تھا جس کے بعد وہ جارح ہوجاتا اور اس دم اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا تھا۔ اس بنا پر اس کے تعلقات اہلِ خانہ سے کشیدہ ہوچکے تھے۔ والدین کی توہین بھی کردیتا اور ہمیشہ اپنا نقطہ نظر درست ثابت کرنے کی سعی کرتا تھا۔ وہ اپنے کمرے کے دروازے بند رکھنے لگا۔ اس طرح اس کی سگریٹ نوشی اب انتہائی حدیں چھونے لگی تھی۔
    بدقسمت ویک اینڈ کی روشن صبح تھی، جب یونس کے پرتشدد رویے نے گھروالوں کے کان کھڑے کردیے۔ پڑوس میں بچہ، ڈینی اس روز دوستوں کے ساتھ لان میں بیس بال کھیل رہا تھا۔ بے احتیاطی کے باعث گیند بار بار مختلف گھروں میں جاگرتی تھی۔ یونس نے چند بار بال پکڑی اور ڈینی کو واپس کردی، پھر اس کی خوش مزاجی ہرن ہونے لگی۔ اس کی ڈینی کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی۔
    یونس نے آئو دیکھا نہ تائو، کمر سے چرمی بیلٹ اُتاری اور ڈینی پر اس قدر برسائی کہ وہ ادھ موا ہوگیا۔ یونس کے دونوں بہن بھائی بھی تشدد کا راستہ نہ روک سکے۔ جب تک بڑے مدد کو پہنچتے، پانی سر سے گزر چکا تھا۔ پولیس کی مداخلت کے لیے رسمی کارروائی شروع ہوچکی تھی۔
    اس شام یونس کی والد کے ساتھ تلخ کلامی ہوئی۔ والد نے اسے کھری کھری سناڈالیں۔ اسے گھر چھوڑنے کی ہدایت کردی اور اپنی شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ اس لفظی جنگ کے بعد گھر کی فضا افسردہ ہوگئی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا ہوگا کہ یونس کی چیخ پکار شروع ہوگئی۔ اس کا کمرا بند تھا اور اندر کراہنے کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ وہ کسی اذیت میں مبتلا لگتا تھا۔ اہلِ خانہ مدد کو بھاگے۔دیکھا تو یونس اوندھا گرا پڑا تھا۔ اس کے منہ سے لعاب بہ رہا تھا۔ چہرہ درد کے مارے زرد لگتا تھا۔ اس نے ہاتھ سینے پر جمارکھا تھا۔ والد کو پاکر وہ بری طرح رونے لگا، پھر ہکلاتے ہوئے بولا:میرا آخری وقت آ پہنچا ہے، میرا سانس ڈوب رہا ہے، خدارا مجھے بچالیں۔ میں قلبی دورے سے مررہا ہوں۔‘‘ بظاہر اس کے سانس ٹوٹ رہے تھے اور وہ خوفزدہ دکھائی دیتا تھا۔
    یونس کو فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ ایمرجنسی میں اسے رکھا گیا۔ جلد ہی وہ کئی مشینوں کے درمیان بے سُدھ پڑا تھا۔ بعدازاں اس کے متعدد کلینکل اور لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے۔ علاج کی بدولت اگلے روز اس کی طبیعت سنبھل گئی۔ اہلِ خانہ کو بتایا گیا کہ یونس شدید اعصابی دبائو کا شکار ہوچکا تھا، جبکہ اس پر عود کر آنے والی بیماری سائیکوسومیٹک تھی جو کہ والد کی ناراضی پر اس کے بیمار ذہن نے وجود پر طاری کرلی تھی۔ یونس خود اسے حقیقی جان رہا تھا، اس لیے گھبراگیا تھا۔ اس کا بدن صحت مند تھا، مگر ذہن عارضوں کا شکار ہوچکا تھا۔
    اہلِ خانہ کو باور کرایا گیا کہ یونس کی دماغی علتیں شدت میں بڑھ رہی تھیں۔ اگر تدارک نہ کیا گیا، تو ہونہار لڑکا تباہ و برباد ہوجائے گا۔ اسے دماغی عدم توازن کی اتھاہ گہرائیاں نگل جائیں گی اور آپ لوگ کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔
    یونس کو ہسپتال کے نگہداشت وارڈ میں داخل کر لیا گیااور اس کا باقاعدہ علاج شروع ہوگیا۔ چند روز بعد اس کی حالت سنبھل گئی اور وہ پھر سے دنیا میں لوٹ آیا۔ اب اس کے رویوں میں توازن نظرآتاتھا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے پر اس نے ڈاکٹر سے کئی وعدے کیے۔ اس موقع پر گھر والوں سے بھی عہد لیا گیا کہ وہ یونس کی دماغی کیفیت کا خیال رکھیں گے، اس کی ادویہ جاری رکھیں گے اور مل کر گھریلو ماحول میں مثبت تبدیلیاں کریں گے۔ اس دم کیس منیجر نے یونس کے گھرانے سے آیندہ لائحہ عمل پر بھی بات چیت کی۔ کہا کہ مریض کی بہتری کے لیے وہ ان کے گھر باقاعدہ دورہ کیا کرے گا۔’’ہم سب مل کر یونس کی حالت مزید سنوار دیں گے۔‘‘ اس نے یقین ظاہر کیا۔
    اہلِ خانہ نے کسی حد تک یونس پر نگاہ رکھی اور اپنے رویوں میں محتاط رہے، مگر ان کی لاپروائی پھر آڑے آنے لگی۔ وہ کارِ حیات میں محو ہوگئے اور یونس سے اُن کا دھیان اُٹھ گیا۔یونس نے موقع پاکر گھر آنے والی ٹیم کو دھتکار دیا اور اپنے مسائل میں مزید الجھتا گیا۔
    بالغ مریض پر علاج کی قیود صرف عدالت لگا سکتی تھی۔ اس پسِ منظر میں یونس کے والدین پر لازم ہوچکا تھا کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں تاکہ بیٹے کا علاج حکماً جاری رکھواسکیں۔ وہ یہ مرحلہ بآسانی طے کرسکتے تھے، لیکن اپنی تساہل پسندی اور وقتی مصلحتوں کے تحت حقائق سے چشم پوشی کرتے رہے۔ ان دنوں ٹورانٹو میں برفباری عروج پر تھی۔ یونس ڈنر پر ذرا دیر سے آیا۔ کھانے کے دوران سوچ میں غرق رہا۔ پھر ماں سے کہنے لگا ’’امی ‘‘ آج کل میری سماعتوں میں غیر مرئی آوازیں آتی ہیں۔ پھر یہ صدائیں میری راہنمائی کرنے لگتی ہیں۔ ایک بابا جی مجھ سے مسلسل کلام کرتے ہیں…‘‘ ’’بکواس بند کرو۔ یونس کے باپ نے سخت لہجے میں بیٹے کی بات کاٹ دی۔یونس نے کھانا چھوڑدیا اور چپ چاپ اپنی انگلیوں سے کھیلتا رہا پھر مضطرب دکھائی دینے لگااور دوبارہ بول پڑا:
    ’’آج کل میری آنکھوں سے کیڑے ابل پڑتے ہیں، فرش پر جن کی قطاریں لگ جاتی ہیں، خون چوس کیڑے مسلسل نکلتے جاتے ہیں۔‘‘یہ بات سن کر اہلِ خانہ ہکا بکا رہ گئے۔ وہ انتہائی بے چین اور متفکر ہوئے۔
    ’’کیڑے زندہ آنکھوں سے کیسے نکل سکتے ہیں؟‘‘ ماں نے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔ یونس نے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھا، پھر ہتھیلی گھر والوں کے سامنے پھیلا دی۔
    ’’خود دیکھ لیں، کیڑے میرے ہاتھوں پر چل رہے ہیں۔‘‘ بظاہر اس نے اعتماد سے کہا۔ ’’مگر تمھاری ہتھیلی تو خالی ہے؟‘‘ ماں بے ساختہ بول پڑی۔
    ’’جو میں دیکھ لیتا ہوں، آپ کیوں نہیں دیکھ پاتے؟‘‘ یونس نے جھلا کر کہا۔ اصرار کیا کہ وہ سچ کہہ رہا تھا۔ پھر فرش پر بیٹھ کر کیڑے چننے لگا۔ اس دم وہ بدن اور لباس کی نفاست سے بے نیازنظر آتا تھا۔ اگلے روز اس نے گھر میں ٹی وی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔ اہلِ خانہ بازار سے لوٹے تو یونس پسینے میں شرابور نظر آیا۔ وہ بری طرح ہانپ رہا تھا۔
    ’’یہ بڑی تباہی کیونکر آئی؟‘‘ والد نے جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔
    ’’میں نے ٹی وی قربان کرکے سب کو بچالیا۔‘‘ یونس نے فخریہ انداز میں جواب دیا۔
    ’’مگر ہمیں ٹی وی سے کیا خطرہ تھا؟‘‘ ماں نے استفسار کیا۔
    ’’اس ٹی وی میں بدروح(Evil) آچکی تھی، خوفناک بدروح، جس کو فناکیا جانا بہت ضروری تھا۔‘‘ یونس نے انکشاف کیا۔
    ’’تمھیں یہ اندازہ کیسے ہوا؟‘‘ ماں باپ بیک زبان ہو کر بول پڑے۔
    ’’میں نے خود دیکھی تھی۔‘‘ یونس نے کسی ٹی وی فلم کا حوالہ دیا۔ تمام اہلِ خانہ اب مضطرب دکھائی دینے لگے تھے۔ ان کی تشویش بڑھتی جارہی تھی، لیکن ویک اینڈ پر ان کی پریشانی حدوں کو چھونے لگی۔
    وہ یخ بستہ رات تھی۔ یونس اپنے بستر میں نہیں تھا۔ اس وقت لان کی تمام بتیاں روشن تھیں۔ یونس بیرونی لان میں بڑی سی قبر کھود چکا تھا۔ پڑوسیوں کی بلی مارکر اس نے درخت پر لٹکا رکھی تھی۔
    ’’یہ تم نے کیا کیا؟‘‘ والد نے پریشان ہو کر پوچھا۔ کسی پالتو جانور کو ماردینا پولیس کیس بنتا تھا۔
    ’’میں نے بدروح کو ختم کیا ہے، شہر کی تمام بدروحوں کو میں صفحہ ہستی سے مٹادوں گا۔‘‘ یونس نے پُراعتماد اور سفاکانہ لہجے میں جواب دیا۔’’ میں نے کئی بدروحوں کے لیے قبر کھود ڈالی ہے۔‘‘ اس نے بات تمام کی۔ والد کو اس پر طیش آیا جو بالآخر ہمدردی اور ترس کے جذبوں میں ڈھلنے لگا۔ یخ بستہ رات میں یونس نے بڑی مشقت کی تھی۔ وہ تھکا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ ایسی محنت کا عادی کبھی نہیں تھا۔
    ’’بلی میں بدروح کیسے آسکتی ہے؟‘‘ ماں نے معاملے میں دخل دیا۔
    ’’بابا جی نے بار بار یہی بتایا تھا۔‘‘ یونس نے سنبھل کر جواب دیا۔ پھر اپنی بات جاری رکھی ’’آپ خود دریافت کرلیں، بابا جی سامنے تشریف فرما ہیں۔‘‘ اس نے بیرونی پھاٹک کی طرف اشارہ کیا۔
    ’’ مگر وہاں تو کوئی نہیں ہے۔‘‘ ماں نے حیران ہو کر کہا۔ اب وہ مسلسل رو رہی تھی۔
    ’’آپ کو کیوں دکھائی نہیں دیتا؟‘‘ یونس بے چارگی سے جھلااٹھا۔ سیکیورٹی پولیس معمول کے شبانہ گشت پر تھی۔ غیر معمولی نقل و حرکت پاکر اہلکاروں نے مداخلت کی۔ کچھ ہی دیر بعد یونس دماغی امراض کے ہسپتال پہنچ چکا تھا۔ ڈاکٹر اسے تین روز تک ڈیٹینشن سیل میں بند رکھ سکتا تھا، اس نے یہ قدم اُٹھایا۔
    اگلے روز معاملہ کیس منیجر نے سنبھال لیا۔ یونس کی حالت دیکھ کر اس کے چہرے پر قلق نظر آنے لگا۔ معمول کے مطابق یونس کو وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ اس کی تشخیصی رپورٹیں مرتب ہونا شروع ہوگئیں۔ بالآخر معلوم ہوا کہ یونس شیزو فرینیا کا شکار ہوچکا ہے۔ اب یہ اس کے لیے عمر بھر کا روگ تھا۔
    مسلسل چارماہ یونس کو ہسپتال میں رہنا پڑا، پھر اسے گھر بھیج دیا گیا۔ ہر ہفتے اسے ہسپتال آنے کو کہا گیا۔ کیس منیجر اور معاون سائیکیاٹرسٹ سوشل ورکر کے گھر میں دورے دوبارہ شروع ہوگئے۔
    گھر میں ذرا سی بد مزگی ہوتی تو یونس کو دورہ پڑجاتا جس کے بعد اس کی حالت غیر ہونے لگتی تھی۔ وہ روتا اور چیخ پکار کرتا۔ اسے موت مقابل نظرآنے لگتی۔ کبھی وہ کلائیوں کی رگیں کاٹ کر خود کشی کی کوشش کرتا۔ بعض اوقات اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا تھا، تو اِس دوران اس کے لیے ایمبولینس منگوانی پڑتی تھی۔
    اس کے باوجود اہلِ خانہ کے رویوں میںمستقل مزاجی کا فقدان رہا۔ والدین کے بیچ ناچاقی یونس پر بری طرح اثرانداز ہوتی رہی۔ طویل جھگڑوں کی شدت نے اس کی ذہنی کیفیت کو مزید ابتر کردیا۔ کیس منیجر کی بار بار کونسنلنگ بھی بے کار ثابت ہوئی۔
    یونس کو بابا جی اب کثرت سے نظر آنے لگے تھے۔ ان کے تقاضے بھی زیادہ ہوچکے تھے۔ اس روز یونس گھر والوں کو چکمہ دے کر باہر نکل گیا۔ جمعے کا دن تھا۔ اس نے مسجد کی راہ لی۔ پھر اسے ہر طرف بدروحیں نظر آنے لگیں۔ ایک خالی گاڑی بھی اسے بدروحوں سے بھری ہوئی دکھائی دی۔ اس نے’’ایول، ایول‘‘ چیختے ہوئے گاڑی کو آگ لگادی۔ بے قابو شعلے ہوا سے باتیں کرنے لگے۔ لخطوں میں گاڑی جل کر راکھ ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد یونس مسجد میں داخل ہوچکا تھا۔ وہاں اسے بابا جی پھر نظر آگئے۔ ان کے قریب ہی ایک سفید فام وضو کررہا تھا۔ باباجی کا اشارہ پاکر یونس نے سفید فام شخص پر حملہ کردیا۔ اگلے ہی لمحے نو اِنچ کا چاقو سفید فام کی گردن میں پیوست ہوچکا تھا۔ مسجد میں افراتفری پھیل گئی۔ نمازی خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ مجروح شخص یک دم فرش پر گرپڑا اور درد کے مارے تڑپنے لگا۔ اسی اثنا میں یونس اپنی گردن پر بھی چاقو پھیر چکا تھا۔ مسجد کا فرش لہوسے سرخ ہوگیا۔
    پولیس آناً فاناً پہنچ گئی۔ اسی دم ایمبولینس بھی مسجد کے باہر رکی۔ مجروحین کو بچانے کی مہم شروع ہوگئی، جو ہسپتال پہنچ کر کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ سانحہ چھوٹے بڑے اخباروں کی زینت بن گیا۔ خبر بین الاقوامی میڈیا پر بھی چھائی رہی۔ علاج کے دوران یونس کے گرد سیکیورٹی سخت رہی۔ زخموں سے صحت مند ہونے پر اسے ڈیٹینشن سیل منتقل کردیا گیا۔ اس مرحلے میں متوقع طوالت کے پیشِ نظر معاملہ عدالت کے روبرو پیش کردیا گیا۔ چونکہ یونس ذہنی مریض تھا، اس لیے اس پر اقدامِ قتل کا مقدمہ نہیں چل سکتا تھا۔
    یونس نے اعتراف کیا کہ وہ سفید فام مسلمان کو قتل کرنا چاہتا تھا، کیونکہ مذکورہ شخص میں بدروح داخل ہوچکی تھی، جس کے باعث وہ معاشرے کے لیے خطرناک ہوچکا تھا۔ مزید چھان بین پر انکشاف ہوا کہ یونس کچھ عرصہ سے اپنی دوائیں نہیں لے رہا تھا۔ وہ تجویز کردہ دوائیں گٹر میں بہا کر دکھاوے کے لیے پانی پی لیا کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو علیل تصور نہیں کرتا تھا۔
    یونس تقریباً چھ ماہ ڈیٹینشن سیل میںرہا۔ پہلے اس کا علاج وہیں ہوتا رہا، پھر اسے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔ دس ماہ بعد اسے دوبارہ اپنے گھر جانا نصیب ہوا۔ نفسیاتی بیماریوں کے ماہرین نے نجار دین فیملی کو قائل کیا تھا کہ یونس کی شادی کسی طور نہ کی جائے بلکہ ابھی انتظار کیا جائے۔ شاید ایسی ادویہ منظرِ عام پر آجائیں جو اس کی دماغی ابتری کو بہتر بنا سکیں اور عارضوں کو اگلی نسل میں منتقل ہونے سے بچا سکیں۔ یونس کے والدین نے ایک بار پھر طبی ہدایات کی خلاف ورزی کی اور بیٹے کو سری لنکا لے جاکر اس کی شادی کردی۔ اس کی قسمت میں اعلیٰ خاندان کی سلجھی ہوئی، تعلیم یافتہ، خوبصورت اور ذہین دلھن آبسی جسے شائبہ بھی نہیں تھا کہ اس کا شوہر شدید ذہنی مرض کا شکار ہے۔ لڑکی کے گھروالوں نے سنجوگ میں صرف کینیڈین نیشنیلٹی کو اہمیت دی تھی۔ غلطی کا احساس انھیں اس وقت ہوا جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔
    شادی کے بعد یونس کینیڈا واپس آگیا۔ وہ اپنی ادویہ باقاعدگی سے استعمال کر رہا تھا۔ لڑکی ہوشیار تھی، اس نے بجائے اپنا گھر خراب کرنے کے، خاوند کے سدھار پر توجہ مرکوز رکھی۔ اسے زندگی کی خوشگوار جہتوں سے روشناس کرایا اور اعتماد دینے کی کوشش کی۔ اسی کی سعی تھی کہ یونس والد کے کاروبار میں اُن کی تھوڑی بہت مدد کرنے لگا۔ اب اسے دورے نہیں پڑتے تھے، بلکہ پہلے کی نسبت صحت مند بھی نظر آتا تھا۔ اس نے کڑیل جوان کا سراپا ڈھال لیا تھا۔ اسی دوران اس کے ہاں خوبصورت بچی کی ولادت ہوئی۔ دو برس اسی طرح گزر گئے۔ اب نجار دین خاندان سری لنکا جانا چاہتا تھا۔ وہاں انھیں خاندانی جائداد کے امور سلجھانا تھے۔ ان معاملات میں پیچیدگیاں اور جھگڑے بھی تھے۔ ڈاکٹروں کی رائے تھی کہ یونس کو سری لنکا نہ لے جایا جائے، کیونکہ اس کی دماغی صحت وہاں ناقابلِ یقین حدتک گر سکتی تھی۔
    نجار دین خاندان نے ڈاکٹروں کی رائے کی پروا نہ کی۔ یہی نہیں، بلکہ سری لنکا میں ان کا قیام طویل ہوتا گیا اور خاندانی جھگڑے اذیت ناک حدوں تک بڑھتے گئے۔ اس دوران بدمزگیاں بھی پیدا ہوئیں۔ کچھ ہی عرصہ میں یونس میں دماغی ابتری کی علامات دوبارہ نظر آنا شروع ہوگئیں۔ اس کے علاج میں بھی کوتاہی ہوتی رہی۔ اسے بابا جی پھر بکثرت نظر آنا شروع ہوگئے۔ اکثر وہ اسے جلال میں نظر آتے تھے۔
    ایک روز انھوں نے یونس سے شکوہ کیا کہ وہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر ان سے دوستی ختم کرنا چاہتا ہے، جو غیر مناسب ہے۔ مزید برآں انھوں نے اسے متنبہ کیا کہ سسرالی گھر کی انیکسی، جو اس کی آما جگاہ تھی، درحقیقت بدروحوں کا ٹھکانہ تھا، جو اس کے خاندان کو نیست و نابود کرنا چاہتی تھیں۔ اس سے پہلے کہ یہ تمام اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں، انھیں جلا کر بھسم کردینا چاہیے۔
    ایک شب یونس کی بچی اور بیوی محوِ خواب تھیں کہ اُسے انیکسی میں بدروحیں رقصاں نظر آنے لگیں۔ وہ فوراً عمارت کی چھت پر چڑھ گیااور جگہ جگہ آگ لگادی۔ چونکہ تمام عمارت لکڑی کی ساختہ تھی، اس لیے پَل بھر میں شعلے بھڑکنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بے قابو ہوگئے۔یونس کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگیا، جبکہ اس کی بیوی اور بچی جل کر ہلاک ہوگئیں۔ تمام عمارت راکھ کا ڈھیر بن گئی۔
    یونس کا سسرالی خاندان بارسوخ تھا۔ ان لوگوں نے یونس کے خلاف پرچہ کٹوادیا جس میں پولیس کو باور کرایا گیاکہ یونس شادی سے پہلے بیمار ضرور تھا، مگر شادی کے بعد صحت مند رہا۔ دہرے قتل کی وجہ اس کا بیوی سے اختلاف تھا۔ یونس کو حوالات میں بند کردیا گیا۔ وہاں اس کی دماغی خرابی انتہائی حدیں چھونے لگی۔ وہ مکمل طور پر وحشی نظر آنے لگا۔وہ ایسی زبان بولنے لگا تھا، جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔وہ ہر وقت تشدد پر آمادہ نظر آتا تھا۔
    ڈیوٹی پر مامور سرکاری اہلکارکھانا پہنچانے کے لیے حوالات میں داخل ہوا، تو یونس نے اسے دبوچ لیااور کسی بچے کے مانند اُسے اٹھا کر اس قوت کے ساتھ دیوار پر پٹخاکہ اس کا سرپچک گیا اور وہ بے چارہ وہیں انتقال کر گیا۔یہ منظر دیکھ کر دوسرے اہل کاروں نے گھبرا کر حوالات کا دروازہ بند کردیا۔ یونس آہنی جنگلے پر مسلسل ٹکریں مارنے لگا۔ اس نے کئی بار اپنا سر جنگلے کے ساتھ ٹکرایا۔ طبی معاونت پہنچنے پر سرکاری اہل کار یونس کی طرف متوجہ ہوئے، لیکن اس دوران وہ شدید زخمی ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ اسے ہسپتال پہنچایا جاتا، وہ زیادہ خون بہنے کی وجہ سے ایمبولینس کے اندر ہی انتقال کرگیا۔ اس طرح وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن ہوگیا۔


     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

    Very Nice
    Keep it up
     

Share This Page