1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن پاک کی حفاظت

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan Staff Member

    قرآن پاک کی حفاظت
    قرآن پاک سے پہلے کتابیں مثلا تورات، انجیل و ابور وغیرہ ایک خاص وقت تک کےلئے اور خاص خاص قوموں کےلئے دنیا میں بھیجی گئیں اس لئے حق تعالٰی نے ان کی حفاظت کا ذمہ خود نہ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پیغمبران عظام کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد وہ کتابیں بھی قریب قریب ختم ہوگئیں۔ لیکن یہ قرآن کریم سارے جہان کےلئے آیا اور ہمیشہ کےلئے آیا۔ اس لئے رب تعالٰی نے خود اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔ چنانچہ ارشاد فرمایا- نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ہم نے ذکرو قرآن اتارا ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔ اور سبحان اللہ! ایسی اس کی حفاظت ہوئی کہ کوئی شخص اس میں زیر اور زبر کا فرق نہ کرسکا۔ اس کی حفاظت کا ذریعہ ہوا کہ قرآن کریم فقط کاغذ پر ہی نہ رہا بلکہ مسلمانوں کے سینوں میں محفوظ کیا گیا۔ صحابہ کرام نے زمانہ کی حالت تو ہم سنی سنائی بیان کرسکتے ہیں لیکن اس زمانہ میں تو مشاہدہ ہو رہا ہے کہ اگر کسی چھوٹے سے گاؤں میں بھی کسی مجمع کے سامنے کوئی تلاوت کرنے والا ایک زیر زبر کی غلطی کردے تو ہر چہار طرف سے آوازیں آتی ہیں کہ آپ نے غلط پڑھا۔ اس طرح پڑھو۔ اور ہر زمانے ہر جگہ ایک دو نہیں بلکہ صدہا حافظ پیدا ہوتے رہے۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جب بچو سکول میں قدم رکھتا ہے تو چونکہ اسے ابھی کتاب سنبھالنے کی لیاقت نہیں ہوتی لہٰذا، اس کے استاد چھوٹے چھوٹے قاعدے اور کتابیں اس کو خرید کردیتے ہیں وہ بچہ کتابیں پڑھتا بھی جاتا ہے اور ضائع بھی کرتا جاتا ہے۔ جب کسی قدر ہوش سنبھالتا ہے تو اب کتابیں پھاڑتا تو نہیں لیکن ان پر لکھ لکھ کر خراب کرتا رہتا ہے۔ پھر جب خوب سمجھدار ہوجاتا ہے اور کتاب کی قدر و قیمت پہچانتا ہے تو اب کتاب کو جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔ اسی طرح دنیا سب سے پہلے خدائی کتابوں اور صحیفوں کو سنبھال نہ سکی تو ان کو برباد کر ڈالا۔ پھر تورات و انجیل کو بالکل تو نہ مٹایا۔ مگر اپن طرف سے بہت کچھ اس میں غلط ملط کردیا۔ دنیا کے اخیر دور میں قرآن کریم تشریف لایا اور قدرت نے اس کو سنبھالنے کا طریقہ سکھایا۔ تورات و انجیل کسی زمانے میں بگڑی بگڑائی پائی جاتی ہوں گے۔ لیکن اب تو صفحہ ہستی سے قریبا بالکل ناپید ہوگئیں۔ یہ جو پیسے پیسے کی یوحنا اور متی رسول کی انجیلیں فروخت ہورہی ہیں۔ وہ انجیل نہیں جو آسمان سے آئی تھی بلکہ اس کے ترجمے ہوں گے کیونکہ وہ عبرانی زبان میں تھیں اور ترجمے مختلف زبانوں میں ہیں۔ جب وہ اصل کتاب ہمارے سامنے ہے ہی نہیں تو ہم کیسے معلوم کریں کہ یہ ترجمے اس کے صحیح ہیں یا نہیں۔ بخلاف قرآن کریم کے کہ وہی قرآن اسی زبان میں بعینہ موجود ہے۔ جو صاحب قرآن علیہ السلام پر اترا تھا۔ وہ کتابیں تو کیا باقی رہتیں، زبان عبرانی جس میں وہ کتابیں آئی تھیں وہی دنیا سے غائب ہوگئی۔ بلکہ مصر اور شام وغیرہ ممالک جہاں عبرانی زبان بولی جاتی تھی وہاں عربی۔ زبان نے اپنا سکہ جمالیا۔ اور اس قرآن پاک کی بدولت ہر ملک میں عربی زبان کا دور دورہ ہوگیا۔ چنانچہ الحمدللہ ہندوستان میں بھی لاکھوں کی تعداد میں عربی دان موجود ہیں۔ لیکن عبرانی جاننے والا ایک بھی نہیں ہے حتٰی کہ مشن اسکولوں میں میں انجیل تو پڑھائی جاتی ہے مگر افسوس کہ عبرانی اور سریانی زبانیں وہاں بھی غائب ہیں یہ سب قرآن پاک اور صاحب لولاک کی برکت ہے۔ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حیرت یہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ محفوظ اس کے پڑھنے کے طریقے۔ یعنی قرات (تجوید) محفوظ کہ س، ص، ت، ط، ک، ق، د، ذ، ز، ض، ظ، مد، شدہ وغیرہ کس طرح ادا کئے جائیں۔ طریقہ تحریر بھی محفوظ ہے۔ یعنی جس طرح کہ صاحب قرآن صلے اللہ علیہ وسلم سے تحریر منقول ہے۔ اس کے خلاف قرآن پاک نہیں لکھ سکتے۔ بسم اللہ کا سین لمبا اور میم گول لکھا جاتا ہے کہ کسی قرآن پاک میں سین چھوٹا کرکے نہ لکھا جائے۔ بئس الاسم الفسوق لکھنے میں الاسم آتا ہے جیسا کلمات نحوی میں الاسم آتا ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کو عربی خط میں لکھا جائے، اردو خط یا نستعلیق نہ لکھا جائے۔ بعض بعض کلمات نحوی قاعدے کے خلاف معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ پڑھے ویسے ہی جاتے ہیں جیسے کہ ثابت ہوچکے۔ مثلا علیہ اللہ ما انسانیۃ لنسفعا وغیرہ وغیرہ ان چیزوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ سبحان اللہ! قرآن پاک ایسا محفوظ ہے کہ اس کے صفات تک محفوظ۔ اگر کوئی منصف ان باتوں کو نظر انصاف دیکھے تو قرآن پاک کے قبول کرنے میں تامل نہ کرے۔ ان خوبیوں کو دیکھ کر بعض پادریوں کے منہ میں پانی بھر آیا۔ اولا " تو اس کوشش میں رہے کہ انجیل شریف کو محفوظ کتاب ثابت کرسکیں مگر نہ کرسکے۔ بلکہ بہت سے محققین عیسائیوں نے مان لیا کہ انجیل شریف میں لفظی اور معنوی بیشمار تحریفیں ہوئیں اور مان لیا کہ انجیل کی بہت سی آیتیں اور بہت سے باب الحاقی ہیں۔ دیکھو مسٹر ہارن اور ہنری اور اسکاٹ صاحب کی تفاسیر اور دیکھو مباحشہ دینی مطبوعہ اکبر آباد مصنفہ پادری فنڈر وغیرہ بعض عیسائی پادریوں نے یہ کوشش کی کہ قرآن پاک کو محرف ثابت کریں۔ چنانچہ عبدالمسیح اور ماسٹر رام چندر اور پادری عماء الدین نے اس بارے میں رسالے لکھ ڈالے۔ یہ لوگ جس قدر اعتراض کرسکتے ہیں ہم ان کو علیحدہ علیحدہ سوال جواب کی شکل میں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے واقف ہوں۔


    (1) چنانچہ عبدالمسیح اور ماسٹر رام چندر اور پادری عماء الدین نے اس بارے میں رسالے لکھ ڈالے۔ یہ لوگ جس قدر اعتراض کرسکتے ہیں ہم ان کو علیحدہ علیحدہ سوال جواب کی شکل میں بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان سے واقف ہوں۔

    سوال -- حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب قرآن کا نسخہ تیار کیا تو پچھلے نسخوں کو جلوادیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن وہ نہیں ہے جو آسمان سے آیا تھا۔ بلکہ وہ جلایا جاچکا۔

    جواب -- اس کا جواب دوسری فصل میں نہایت تفصیل سے گزرچکا کہ ان نسخوں کو جلوانا اختلاف کو مٹانے کےلئے تھا۔ کیونکہ ان میں قرآن اور تفسیری عبارات مخلوط تھیں۔ آیات کولے لیا گیا۔ اگر وہ نسخے باقی رہتے تو آئندہ بڑا اختلاف پیدا ہوجاتا۔ اس تفصیل کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ اعتراض محض لغو ہے اور دھوکہ دینے کےلئے ہے۔

    (2) سوال -- تفسیر اتقاق اور بخاری شریف جلد دوم باب جمع قرآن میں ہے کہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے کہ میں نے لقد جاءکم رسول والی آیت تمام جگہ تلاش کی مگر کہیں نہ ملی بجزابو خزیمہ انصاری کے کہ ان کے پاس یہ لکھی ہوئی موجود تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور آیتیں بھی اس طرح گم ہوگئی ہوں گی۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ ایک آیت لکھی ہوئی ہمارے پاس موجود تھی جسے بکری کھاگئی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اور آیتیں بھی اسی طرح برباد ہوگئی ہوں گی۔

    جواب -- اگر ایسی ایسی دو چار سو روایتیں بھی جمع کرلی جائیں اور وہ روایتیں قابل قبول بھی ہوں اور کوئی بکری پورا قرآن بھی کھاگئی ہو تب بھی اصل قرآن کا ایک لفظ بھی ضائع نہیں ہوسکتا۔ یہ تو جب ہوتا جب قرآن پاک کا دارومدار تورات و انجیل کی طرح فقط دو چار نسخوں پر ہوتا۔ یہ تو مسلمانوں کے سینوں میں موجود تھا۔ کاغذ کو بکری اور گائے بھینس کھاسکتی ہیں۔ حافظ کے سینے کو تو قبر کی مٹی بھی نہیں کھاتی۔ اسے کون کھائے گا۔ جناب وہ صحابہ کرام کا زمانہ تھا۔ اگر آج بھی دنیا سے قرآن پاک کے سارے نسخے ناپید کردئیے جائیں تو ہندوستان کے کسی معمولی گاؤں کا ایک چھوٹا حافظ بچہ بھی قرآن پاک بعینہ لکھواسکتا ہے۔

    (3) سوال -- مسلمان خود مانتے ہیں کہ قرآن پاک کی بہت سی آیتیں منسوخ ہیں کہ سورہ یٰسین سورہ بقرہ کے برابر تھی لیکن نسخ وغیرہ ہوکر کٹ کٹا کر اتنی باقی رہی۔ معلوم ہوا کہ یہ قرآن بعینہ وہ نہیں ہے کہہ جو آسمان سے آیا تھا بلکہ اس میں بہت سی تبدیلی ہوچکی ہے۔
    جواب -- تحریف کے معنی یہ ہیں کہ کتاب والے کی غیرموجودگی میں اس کی بغیر مرضی اس کی کتاب میں کمی یا زیادتی کردی جائے۔ لیکن اگر صاحب کتاب ہی اپنی مرضی سے اپنی کتاب میں کچھ کمی بیشی کرے تو اس کو کوئی بیوقوف بھی تحریف نہ کہے گا۔ ایک طبیب نسخہ لکھتا ہے۔ بیمار اپنی طرف سے اس میں دوائیں گھٹاتا بڑھاتا ہے تو وہ مریض یقینا مجرم ہے لیکن اگر طبیب ہی مریض کی حالت میں تبدیلی کی بناء پر اپنے نسخے میں کچھ تبدیلی کرتا ہے تو یہ طبیب کی قابلیت اور نسخ کے مکمل ہونے کی دلیل ہے نہ کہ نسخے کی تحریف۔ یہی قرآن پاک میں ہوا کہ بعض سورتوں میں حالات کے موافق خود قرآن بھیجنے والے خدا کی طرف سے ہی احکام بدلے گئے۔ نسخ کی پوری تحقیق ہم انشاءاللہ تعالٰی اس آیت کے ماتحت لکھیں گے کہ ماننسخ من آیۃ انتظار کریں۔

    (4) سوال -- مسلمانوں کی بعض جماعتیں (جیسے کہ شیعہ) کہتی ہیں کہ قرآن میں سے دس پارے کم کردئے گئے۔ اور اس قرآن میں سورہ حسنین سورہ علی اور سورہ فاطمہ بھی تھیں۔ پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں گئیں۔ پھر آپ کس منہ سے کہتے ہیں کہ قرآن پاک محفوظ ہے۔
    جواب -- کسی بیوقوف شیعہ نے گپ بانکی ہوگی۔ محققین شیعہ تو بڑے شد و مد کے ساتھ اس سے اپنی برات ثابت کرتے ہیں۔ مثلا ملاصادق، شرح کلینی میں، محمد ابن حسن آملی، شیخ صدوق ابو جعفر محمد بن علی بابویہ وغیرہ۔ اور کیوں ثابت نہ کریں، اس لئے کہ اس عقیدے سے تو اہل بیت عظام کے اسلام کی ہی خیر نہ رہے گی۔ کیونکہ پھر یہ سوال پیدا ہوگا کہ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے اس محرف قرآن کو اپنی نمازوں میں کیوں پڑھا اور اس سے احکام کیوں جاری فرمائے اور قرآن پاک کو تحریف ہوتا ہوا دیکھ کر خاموشی کیوں اختیار کی۔ کیوں نہ سربکف ہو کر میدان میں نکلے۔ اور قرآن پاک کی حفاظت فرمائی۔ اگر وہ اس کام کو کرتے تو تمام مسلمان اس کی امداد کرتے۔ اگر نہ بھی کرتے تو خدا تو امداد کرتا۔ اور خدا بھی امداد نہ کرتا اور جان جاتی تو شہید ہوتے۔ جب مسئلہ خلافت کےلئے امیر معاویہ اور عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے جنگ ہوسکتی تھی تو حفاظت قرآن کےلئے خلفائے ثلاثہ سے بھی جنگ ہوسکتی تھی۔ اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔ اور اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو حضرت علی مرتضٰی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ خلافت سب کے بعد تھا۔ اس زمانہ میں خلفائے ثلاثہ پردہ فرماچکے تھے۔ کسی کا خوف نہ تھا تو اصلاح فرمانی ضروری تھی۔ شہید کربلا، سیدا شہداء امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ جہاں یزید کی بیعت کے مقابلہ میں جان دے سکتے تھے وہی شہباز اسلام پروانہ شمع رسالت رضی اللہ تعالٰی عنہ اس مسئلہ حفاظت قرآن پر بھی اپنی جان قربان کرسکتے تھے۔ ان تمام حضرات کا بلا اعتراض قرآن پاک کو قبول فرمالینا اس کی صحت کی کھلی ہوئی دلیل ہے۔ کون ایسا بےوقوف شیعہ ہوگا جو کہ اپنے ائمہ دین پر اس قدر اعتراض گوارا کرکے قرآن پاک کی تحریف کا قائل ہوگا۔ اس کی زیادہ تحقیقی منظور ہو تو تفسیر فتح المنان کا مطالعہ کریں باقی اور واہیات اعتراض جو کئے جاتے ہیں مثلا ایاک نعبد وایاک نستعین پر۔ یا قرآن پاک میں انبیاء کرام کے قصوں کے بار بار آنے پر۔ چونکہ ان کا تعلق حفاظت قرآن سے نہیں اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے بلکہ اس آیت کے ماتحت بیان کریں گے۔ ان کنتم فی ریب مما نزلنا النح۔ ناظرین اس کا انتظار کریں۔
    تتمۃ بحث:۔ قرآن پاک کا طریقہ تحریر بھی حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول ہے چنانچہ خراپوتی شریف قصیدہ بردہ میں کتب معتبرہ سے نقل کیا کہ حضور صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو کاتب وحی تھے قلم کا ہاتھ میں لینا دوات کا موقعہ پر رکھنا ب کو سیدھا کرنا۔ سین کو متفرق کرکے لکھنا م کو ٹھیڑھا نہ کرنا وغیرہ سکھاتے تھے۔ اس لئے قرآن پاک کی تحریر اس کی تلاوت ہر ایک میں سنت کا اتباع لازم ہے۔​
     

Share This Page