1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

تفسیر کے معنی اور اس کی تحقیق


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

Quran e Kareem"/>Jul 13, 2014"/>

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    تفسیر کے معنی اور اس کی تحقیق
    لفظ تفسیر فسر سے مشتق ہے جس کے معنی کھولنا محاورہ میں تفسیر یہ ہے کہ کلام کرنے والے کا مقصد اس طرح بیان کرنا جس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے اور مفسرین کی اصطلاح میں تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کے وہ احوال بیان کرنا جس میں عقل کو دخل نہیں بلکہ نقل کی ضرورت ہو جیسے آیات کا شان نزول یا ان کا ناسخ اور منسوخ ہونا وغیرہ تفسیر بالرائے حرام ہے کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور ٹھیک بھی کہہ جائے جب بھی خطا کار ہے۔ تفسیر قرآن کے چند مرتبے ہیں۔
    (1) تفسیر قرآن بالقرآن، یہ سب سے مقدم ہے۔
    (2) تفسیر قرآن بالحدیث کیونکہ حضور صلے اللہ علیہ وسلم صاحب قرآن ہیں۔ ان کی تفسیر نہایت صحیح اور اعلٰی۔
    (3) قرآن کی تفسیر صحابہ کرام خصوصا فقہائے صحابہ اور خلقائے راشدین کے اقوال سے ہو۔
    (4) تفسیر قرآن تابعین یا تبع تابعین کے قول سے۔ اگر روایت سے ہے تو معتبر۔ اس کی زائد تحقیق کےلئے ہماری "جاء الحق" یا کتاب "اعلائے کلمۃ اللہ" مصنف قطب الوقت حضرت شاہ قبلہ مہر علی شاہ صاحب کا مطالعہ کرو۔ لفظ تاویل اول سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں رجوع کرنا۔ اصطلاح میں تاویل یہ ہے کہ کسی کلام میں چند احتمال ہوں۔ ان میں سے کسی احتمال کو قرینوں سے اور علمی دلائل سے ترجیح دینا یا کلام میں علمی نکات وغیرہ بیان کرنا۔ اس کےلئے نقل کی ضرورت نہیں بلکہ ہر عالم اپنی قوت علمی سے قرآن پاک میں سے نکات وغیرہ نکال سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ خلاف شریعت ہر گز نہ ہو۔ اسی لئے مفسرین اپنی قوت علمی سے قرآن پاک میں بڑے بڑے نکات بیان فرماتے ہیں اور ہر ایک کےلئے نقل پیش نہیں فرماتے۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم شریف باب ہشتم میں فرمایا کہ قرآن پاک کے ایک ظاہری معنی ہیں اور ایک باطنی۔ ظاہری معنی کی تحقیق علمائے شریعت فرماتے ہیں اور باطنی کی صوفیائے کرام۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو سورہ فاتحہ کی تفسیر سے ستر اونٹ بھر دوں۔ مگر یہ باطنی تفسیر ظاہری معنی کے خلاف ہرگز نہ ہوگی۔ تحریف مشتق ہے حرف سے۔ حرف کے معنی ہیں علیحدگی یا کنارہ۔ اصطلاح میں تحریف یہ ہے کہ کلام کا مطلب ایسا بیان کیا جائے جو کلام کرنے والے کے مقصد کے خلاف ہو۔ مفسرین کی اصطلاح میں تحریف دو طرح کی ہے۔ تحریف لفظی اور تحریف معنوی۔ تحریف لفظی یہ ہے کہ قرآن پاک کی عبارت کو دیدہ دانستہ بدل دیا جائے۔ جیسا کہ یہودی نصارٰی نے اپنی اپنی کتابوں میں کیا۔ تحریف معنوی یہ ہے کہ قرآن پاک کے ایسے معنی اور مطلب بیان کئے جائیں جو کہ اجماع امت یا عقیدہ اسلامیہ یا اجماع مفسرین یا تفسیر قرآن کے خلاف ہوں اور وہ یہ کہے کہ آیت کے وہ معنی نہیں بلکہ یہ ہین جو میں بیان کر رہا ہوں جیسا کہ اس زمانہ میں چکڑالوی، قادیانی، اور دیوبندی وغیرہ کر رہے ہیں۔ دونوں قسم کی تحریفیں کفر ہیں۔ مفسر وہ شخص ہوسکتا ہے۔
    (1) جو کہ قرآن کے مقصد کو پہچان سکے۔
    (2) ناسخ و منسوخ کی پوری خبر رکھتا ہو۔
    (3) آیات و احادیث میں مطابقت کرنے پر قادر ہو۔ یعنی جن آیتیوں کا آپس میں مقابلہ معلوم ہوتا ہو یا جو آیات کہ احادیث کے خلاف معلوم ہوتی ہوں ان کی ایسی توجیہہ کرسکے کہ جس سے مخالفت اٹھ جائے۔
    (4) آیتوں کے شان نزول سے باخبر ہو۔
    (5) آیتوں کی توجیہہ کرسکے۔ یعنی جو قرآن پاک کی آیتیں عقل کی رو سے محال معلوم ہوتی ہوں ان کو حل کرسکے۔ مثلا قرآن پاک میں آتا ہے کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالٰی عنہا سے لوگوں نے کہا۔ یا اخت ھارون حالانکہ ہارون علیہ السلام و موسٰی علیہ السلام کے بھائی، اور حضرت مریم میں سینکڑوں برس کا فاصلہ ہے۔ تو پھر حضرت مریم ان کی بہن کیسے ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے کہ سکندر ذوالقرنین نے آفتاب کو کیچڑ میں ڈوبتا ہوا پایا۔ حالانکہ آفتاب ڈوبتے وقت زمین پر نہیں آتا۔ اور نہ کیچڑ اونچی ہوکر آفتاب تک پہنچتی ہے۔ ان جیسی آیات کی توجیہیں کرسکے۔
    (6) آیات میں محذوفات نکالنے پر قدرت رکھتا ہو۔ یعنی بعض جگہ آیات میں پوری کی پوری عبارتیں محذوف ہیں۔ ان کے بغیر نکالے ہوئے آیت کا ترجمہ درست نہیں ہوتا۔
    (7) عرب کے محاورے سے پورے طور پر واقف ہو۔ قرآن پاک نے بہت جگہ وہاں کے خاص محاورے استعمال فرمائے ہیں۔ جیسے تبت یدا ابی لھب وتب ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں یا کہ فما بکت علیھم اسماء والارض کہ کفار کے مرنے پر زمین اور آسمان نہ روئے۔ یاذق انک انت العزیز الکریم یعنی کفار سے جہنم میں کہا جائے گا۔ تو یہ عذاب چکھ تو بڑا عزت اور کرم والا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ان جیسی آیات کے مقصود کو پہچان سکے اور معلوم کرسکے کہ اس جگہ کس قسم کا محاورہ استعمال ہوا ہے۔
    (8) محکم اور متشابہ آیت کو پہچانتا ہو۔
    (9) قراتوں کے اختلاف سے واقف ہو۔
    (10) مکی اور مدنی آیتوں کو جانتا ہو وغیرہ۔
    جب اتنی صفتیں موجود ہوں تو تفسیر کرنے کی ہمت کرے اس کی زیادہ تحقیق مقصود ہو تو دیکھو تفسیر فتح البیان کا مقدمہ۔ مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ پر فتن میں تفسیر قرآن کو جتنا آسان سمجھا گیا ہے اتنا آسان اور کوئی کام نہیں سمجھا گیا۔ حق تعالٰی اس زمانے کے فتنوں سے بچائے۔​
     

Share This Page