1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن پاک کے فضائل و فوائد

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    قرآن پاک کے فضائل و فوائد
    انسان میں کیا طاقت ہے جو رب کے کلام کے فضائل اور اس کے فوائد کو پورے طور پر بیان کرسکے۔ مسلمانوں کی واقفیت کےلئے چند باتیں اس کے فضائل کے متعلق اور چند فائدے بیان کئے جاتے ہیں۔ کلام کی عظمت کلام کرنے والے کی عظمت سے ہوتی ہے۔ ایک بات فقیر بے نوا کے منہ سے نکلتی ہے۔ اس کی طرف کوئی دھیان بھی نہیں دیتا۔ اور ایک بات کسی بادشاہ یا حکیم کےمنہ سے نکلتی ہے۔ تو اس کو دنیا میں شائع کیا جاتا ہے۔ اخباروں اور رسالوں میں اس کی اشاعت ہوتی ہے غرض یہ ہے کہ کلام کی عظمت کا پتہ کلام والے کی عظمت سے لگتا ہے۔ اسی قاعدے کی بنا پر اندازہ لگالو کہ قرآن پاک ایسا معظم کلام ہے کہ اس کے مثل کسی کا کلام نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ خالق کا کلام ہے مثل مشہور ہے۔ کلام الملک ملک الکلام یعنی بادشاہ کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہے۔ اس کلام زبانی میں سارے علوم اور ساری حکمتیں موجود ہیں جس میں سے ہر شخص اپنی لیاقت کے موافق حاصل کرتا ہے۔ اس کا پتہ عقل سے لگتا ہے اور تفسیریں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس مفسرین جیسی قابلیت ہے اسی قسم کے وہ بیش بہاموتی اس قرآن سے نکالتا ہے۔ منطقی مفسر کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں از اول تا اخر منطق ہی منطق ہے۔ نحوی اور صرفی مفسر کی تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں صرف اور نحو ہی ہے۔ فصیح اور بلیغ مفسر کی تفسیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں فصاحت و بلاغت کا دریا موجیں مار رہا ہے صوفیاء کرام کی تفسیروں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن عظیم میں علوم باطنی کے بیش قیمت موتی بھرے ہوئے ہیں۔ اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ قرآن میں سب کچھ ہے۔ لیکن جیسا کہ اس کا شناور، ویسی اس کی تحصیل۔ پھر جہاں تک سمجھنے والے کی سمجھ کی پہنچ وہاں تک اس کی تحقیق۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ ایک جہاز سواریوں سے بھرا ہوا سمندر کے سفر سے آکر کنارے لگا۔ اس جہاز میں کپتان سے لے کر مسافروں تک ہر قسم کے لوگوں نے سفر کیا۔ لیکن اگر کسی مسافر سے سمندر کے کچھ حالات دریافت کئے جائیں تو وہ کچھ نہ بتاسکے گا کیونکہ اس کی نظر فقط پانی کی ظاہری سطح پر تھی۔ اور اگر خلاصی سے کچھ تحقیق کی جائے وہ وہاں کے حالات کا کچھ پتہ دے گا۔ اور اگر کپتان سے معلومات حاصل کی جائیں تو وہ اول سے آخر تک کے سمندر کے تقریبا سارے اندرونی حالات بیان کرسکے گا کہ فلاں جگہ اس کی گہرائی اتنے میل تھی اور فلاں مقام پر پانی میں اس قسم کا پہاڑ تھا۔ میں اپنے جہاز کو اس طرح سے بچا کے لایا وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح قرآن کریم ہم بھی پڑھتے ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ بھی پڑھتے تھے اور صحابہ کرام بھی اسی قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور نبی کریم صلے اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بھی اسی قرآن پاک کو پڑھا۔ کتاب تو ایک ہی ہے لیکن پڑھنے والوں کے ذہن کی رسائی کی انتہائیں الگ الگ۔ ہماری نگاہ وہ فقط ظاہری الفاظ تک ہی بمشکل پہنچتی ہے۔ یہ حضرات بقدر وسعت علمی اس کی تہہ تک پہنچ کر مسائل اور فوائد کو نکال لیتے ہیں بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ السلام سے بارہ سال میں سورۃ بقرہ پڑھی۔ اب بتاو پڑھنے والے فاروق اعظم جیسے صاحب کمال، پڑھانے والے خود صاحب قرآن صلے اللہ علیہ وسلم اور بارہ سال کی مدت بتاؤ کہ آقا نے کیا کیا نہ دیا ہوگا اور ان کے نیاز مند خادم عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیا کیا نہ لیا ہوگا۔ پھر ذرا اس پر بھی غور کرتے چلو کہ حق تعالٰی فرماتے ہیں۔ الرحمن علم القرآن اپنے محبوب علیہ السلام کو رحمٰن نے قرآن سکھایا ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام تو فقط پہنچانے والے ہیں۔ سوچو تو کہ سکھانے والا الرحمٰن اور سیکھنے والا سید الانس والجان۔ اور کیا سکھایا۔ قرآن نہ معلوم رب نے کیا دیا اورمحبوب علیہ السلام نے کیا کیا لیا۔ اسی لئے تفسیر روح البیان شریف نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل قرآن کی آیت الم لے کر آئے۔ عرض کیا۔ الف۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا۔ "میں نے جان لیا۔" عرض کیا۔ میم۔ تو فرمایا۔ "اس کا کرم ہے۔" جبریل امین کہنے لگے کہ حضور آپ نے کیا سمجھا اور کیا جانا۔ میں تو کچھ بھی نہ سمجھا۔ فرمایا یہ میرے اور رب کے درمیان راز ہیں۔
    میان خالق و محبوب رمزے است
    کراما کاتبین راہم خبر نیست

    ہمارے اس عرض کرنے کا مدعا یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا عالم اور بڑے سے بڑا زبان دان قرآن پاک کے متعلق یہ خیال نہ کرے کہ میں نے اس کی حقیقت کو پالیا۔ قرآن پاک ایک سمندر ناپید کنار ہے۔ جتنا جس کا برتن، اتنا وہاں سے وہ پانی لے سکتا ہے۔ لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میرے کوزے میں سارا سمندر آگیا۔ غرض کہ قرآن حکیم حق تعالٰی کی عظمت کا مظہر ہے۔ جیسے اس کی عظمت کی انتہا نہیں ویسے ہی اس کی عظمت بے انتہا ہے۔ شعر
    کلام اللہ بھی نام خدا کیا راحت جان ہے
    عصائے پیر ہے تیغ جواں ہے حرز طفلاں ہے
    خیال رہے کہ تمام انبیاء کرام کے معجزے قصے بن کر رہ گئے۔ کوئی معجزہ نہیں جو آج دیکھا جائے۔ مگر حضور کے بہت سے معجزات تاقیامت رہیں گے جنہیں دنیا آنکھوں سے دیکھے گی۔ قرآن کریم میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں ہر آیت حضور کا معجزہ ہے کہ جن کی مثل بن نہ سکا۔ ان کے پڑھنے سے دل نہیں اکتاتا۔ ایسے ہی حضور کی محبوبیت جو تقریبا ہردل میں آج بھی موجود ہے۔ ہم نے حضور کے نام پر سکھوں، ہندوؤں کو روتے دیکھا۔ ایسے آپ کا بلند ذکر ہر مجلس ہر جگہ ہر زبان پر آپ کا چرچا ہے یہ بھی زندہ جاوید معجزات ہے۔ جنہیں دنیا دیکھتی ہے اور دیکھتی رہے گی۔ فوائد قرآن کریم کے فوائد کا احاطہ کسی کی زبان، کسی کا قلم، کسی کا دل و دماغ نہیں کرسکتا۔ بس یوں سمجھو کہ یہ عالم کی تمام روحانی، جسمانی، ظاہری، باطنی ضرورتوں کا پورا فرمانے والا ہے۔ اگر ہم حدیث و فقہ کی روشنی میں قرآن کریم کے صحیح معنوں میں عامل بن جائیں تو ہم کو کبھی بھی کسی حاجت میں کسی قسم کی امداد نہ لینی پڑے ہم اس کے متعلق دو طرح گفتگو کرتے ہیں۔ ایک عقلی اور ایک نقلی۔ اگرچہ مسلمان کےلئے نقلی دلائل کے ہوتے ہوئے عقلی دلائل کی کوئی ضرورت نہیں لیکن زمانہ موجودہ میں نئی روشنی کے دلداروں کا اعتماد اپنی لولحا لنگڑی عقل پر زیادہ ہے۔ یعنی گلاب کی خوشبو کے مقابلہ میں گیندے کی بدبو سے زیادہ مانوس ہو چکے ہیں۔ اس لئے اولا "ہم ان کی تواضع کےلئے عقلی فوائد بیان کرتے ہیں۔
    (1) سخی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو فقیر کو بلاکردیں۔ دوسرے وہ جو فقیر کے گھر آکر دیں۔ کنوآں بلا کردیتا ہے۔ دریا آکر دیتا ہے اور سمندر بادل بناکر عالم پر پانی برسا دیتا ہے۔ کعبہ معظمہ بھی سخی اور قرآن کریم بھی۔ مگر فرق یہ ہے کہ کعبہ معظمہ کے پاس بھکاری جائیں اور جاکر فیض لے آئیں۔ قرآن کریم کی یہ شان ہے کہ مشرق و مغرب میں گھر گھر پہنچا۔ اور اپنا فیض جاکر دیا۔ اور جو لوگ کہ باطل ان پڑھ تھے ان کےلئے علماء مثل بادل کے بنا بنا کر اپنی رحمتوں کی بارش ان پر بھی برسادی
    رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی
    ہری ہو گئی دم میں کھیتی خدا کی

    (2) آفتاب وہ نور ہے جو ایک وقت میں آدھی زمین کو چمکاتا ہے اور پھر ظاہر کو چمکاتا ہے اور اپنے سامنے والے کو چمکاتا ہے اور پھر بادل کی وجہ سے اس کی روشنی پھیکی پڑجاتی ہے۔ کبھی اس کو گرہن بھی لگتا ہے۔ دن بھر میں تین پلٹے کھاتا ہے صبح اور شام کو ہلکا اور دوپہر کو تیز۔ لیکن قرآن کریم آسمان ہدایت کا وہ چمکتا دمکتا سورج ہے جو بیک وقت سارے عالم کو چمکارہا ہے۔ فقط ظاہر کو نہیں بلکہ دل و دماغ کو بھی منور کر رہا ہے۔ نیز اس کی روشنی جیسے میدانوں پر پڑ رہی ہے اسی طرح پہاڑوں میں غاروں میں اور تہہ خانوں میں غرض کہ ہر جگہ پہنچ رہی ہے۔ نہ کبھی اس کو گرہن لگے نہ کوئی باد اس کی روشنی کو ڈھک سکے۔ اس کی شعائیں بڑی تاریک گھٹاؤں کو بھی پیر کر اپنا کام کرتی ہیں۔ اسی لئے رب تعالٰی نے فرمایا۔ وانزلنا الیکم نورا مبینا

    (3) آج ہم لوگوں نے اپنی بے علمی کی وجہ سے قرآن کریم کے فیوض و برکات کو محدود سمجھ رکھا ہے۔ بعض لوگوں نے تو اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے کہ قرآن کریم فقط اس لئے آیا ہے کہ بیماری میں اسے پڑھ کر دم کرلو اور گھر میں برکت کے واسطے رکھ لو۔ جب کوئی مرنے لگے تو اس پر یٰسین پڑھ دو اور بعد موت اس کو پڑھوا کر ایصال ثواب کرو اور باقی رہا عمل، اس کےلئے قرآن کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس کےلئے فقط انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین ہیں۔ چنانچہ بعض جگہ کے مسلمانوں نے اپنی خوشی سے اسلامی قوانین کے مقابلہ میں ہندوؤں یا عیسائیوں کے قانونوں کو اپنے لازم کرلیا جیسے کہ پنجاب کے زمیندار کا ٹھیاداڑ کے عام مسلمان کہ انہوں نے میراث سے اپنی لڑکیوں کو قانونی طور پر محروم کردیا اور اپنی صورت سیرت طریق زندگانی، لباس وغیرہ میں یکدم غیروں سے مل گئے اور بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن فقط عمل کےلئے آیا ہے۔ اس کی تلاوت کرنا، اس سے دم کرنا تعویذ کرنا یا اس سے ایصال ثواب کرنا اس کے نزول کی حکمت کے خلاف ہے۔ قرآن عمل کےلئے اترا ہے نہ کہ طباعت، اور چھومنترکےلئے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک ایک نسخہ ہے، نسخے کے فقط پڑھتے رہنے سے شفا نہیں ملتی بلکہ اس کو استعمال کرنا چاہئے۔ یہ وہ خیال فاسد ہے کہ جو پڑھے لکھوں کے دماغ میں بھی گھوم رہا ہے۔ مسٹر عنایت اللہ مشرقی اور ابو الاعلٰی مودودی اور عوام دیوبندی اسی چکر میں ہیں۔ مگر خیر سے عمل وہاں بھی غائب ہے۔ عمل کا فقط نام ہی ہے یا اگر عمل ہے تو ایسا اندھا جیسا کہ مشرقی نے اپنے خاکساروں سے کراکر صدہا کو موت کے گھاٹ اتروا دیا اور خود معافی مانگ خیریت سے گھر آبیٹھے۔ لیکن دوستو! ان لوگوں میں افراط ہے اور پہلے لوگوں میں تفریط تھی۔ جس طرح سے کہ ہم اپنے مال اور بدن کے اعضاء سے بہت سے کام لیتے ہیں کہ آنکھ سے دیکھتے بھی ہیں روتے بھی ہیں۔ اس میں سرمہ لگا کر زینت بھی حاصل کرتے ہیں ہاتھ سے پکڑتے بھی ہیں اور مار کو رونکتے بھی ہیں۔ زبان سے کھاتے بھی ہیں، بولتے بھی ہیں۔ کھانے کی لذت اور اس کی سردی گرمی بھی محسوس کرتے ہیں اور ایک ہی پھونک سے گرم چائے بھی ٹھنڈی کرتے ہیں۔ سردیوں میں انگلیاں بھی گرم کرتے ہیں۔ آگ جلاتے بھی ہیں اور چراغ بجھاتے بھی ہیں۔ اسی طرح عبادات میں صدہا ایسی مصلحتیں ہیں۔ روزہ عبادت بھی ہے قسم وغیرہ کا کفارہ بھی جو غریب نکاح نہ کرسکے اس کےلئے شہوت توڑنے کا ذریعہ بھی۔ اسی طرح قرآن کریم صدہا دینی اور دنیوی فوائد لے کر اترا۔ نماز قرآن کے ذریعے سے ادا ہو، کھانا وغیرہ قرآن پڑھ کر شروع کرو۔ شاہی قوانین قرآن سے حاصل کرو۔ بیمار پر قرآن پڑھ کر دم کردیا تعویذ لکھ کر گلے میں ڈالو۔ ثواب کےلیے اس کو پڑھو، عمل اس پر کرے غرض کہ یہ قرآن بادشاہ کےلئے قانون، غازی کےلئے تلوار، یمار کےلئے شفا، غریب کا سہارا، کمزور کا عصاء، بچوں کا تعویذ، بے ایمان کےلئے ہدایت، قلب مردہ کی زندگی، قلب غافل کےلئے تنبیہہ، گمراہوں کےلئے مشعل راہ، زنگ آلود قلب کی میقل ہے۔ اگر قرآن کریم صرف احکام کےلئے ہوتا اور دیگر مقاصد اس سے حاصل نہ ہوتے تو اس میں فقط احکام کی آیتیں ہوتیں۔ ذات و صفات کی آیتیں متشابہات، انبیائے کرام کے قصے، آیات منسوختہ الالحکام ہر گز نہ ہونی چاہئیں تھیں کیونکہ ان سے احکام حاصل نہیں کئے جاتے۔ اسی طرح سے ان احکام کی آیتیں بھی نہ ہوتیں۔ جن پر عمل ناممکن ہے۔ جیسے کہ نبی کی آواز پر آواز بلند کرنے کی آیتیں یا بارگاہ نبوی میں دعوت کھانے کے آداب یا نبیوں کی بیبیوں سے حرمت نکاح کی آیتیں اور قرآن پاک یہ نہ فرماتا کہ ننزل من القرآن ما ھو شفاء رحمۃ للمومنین اسی طرح اگر قرآن کریم فقط برکت لینے اور دم دورود کےلئے ہوتا تو اس میں احکام کی آیتیں نہ ہونی چاہئیں تھیں۔ نکتہ یہ جو کہا گیا ہے کہ قرآن ایک نسخہ ہے اور نسخہ کا پڑھنا مفید نہیں ہوتا، یہ مثال غلط ہے۔ بعض چیزوں کے نام میں اور پڑھنے میں تاثیر ہوتی ہے پردیسی آدمی کے پاس گھر سے خط آئے تو فقط پڑھ کر ہی اس کا دل خوش ہوجاتا ہے۔ بیماری ہلکی پڑجاتی ہے۔ کسی شخص کو مصیبت کی خبر سناؤ فقط سن کر دل کا حال بدل جاتا ہے۔ کسی کو الو گدھا کہہ دو تو آپے سےباہر ہوجاتا ہے۔ کسی کے سامنے کسی کھٹی چیز کا نام لے دو تو منہ میں پانی بھر آتا ہے۔ اگر روزہ کی حالت میں کسی کا منہ خشک ہوجائے تو اس کو دکھا کر لیموں کاٹو تو اس کی خشکی دور ہوجاتی ہے۔ اور دوا پلائی ہی نہیں جاتی بلکہ کبھی دکھائی سنائی اور سنگھائی بھی جاتی ہے۔ تو جب مخلوق کے نامہ و پیام میں اور ناموں میں اتنا اثر ہے تو خالق کے پیام میں کس قدر اثر ہونا چاہئیے خود غور کرلو۔

    اب ہم قرآن پاک کے دو فوائد بیان کرتے ہیں جو احادیث سے ثابت
    (1) حدیث شریف میں ہے کہ جس گھر میں روزانہ سورہ بقرہ پڑھی جائے وہ گھر شیطان سے محفوظ رہتا ہے۔ لہٰذا جنات کی بیماریوں سے بھی محفوظ رہے گا۔
    (2) قیامت کے دن سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ان لوگوں پر سایہ کریں گی اور ان کی شفاعت کریں گی۔ جو دنیا میں قرآن پاک کی تلاوت کے عادی تھے۔
    (3) جو شخص آیۃ الکرسی صبح و شام اور سوتے وقت پڑھ لیا کرے تو اس کا گھر انشاءاللہ آگ کے لگنے اور چوری ہونے سے محفوب رہے گا۔
    (4) سورہ اخلاص کا ثواب تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسی لئے ختم و فاتحہ میں اس کو تین بار پرھتے ہیں۔
    (5) حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص قرآن پاک کا ایک حرف پڑھے اس کو دس نیکیوں کے برابر نیکی ملتی ہے۔ خیال رہے کہ الم ایک حرف نہیں بلکہ الف، لام، میم تین حروف ہیں۔ لہٰذا فقط اتنا پڑھنے سے تیس نیکیاں ملیں گے۔ خیا ل رہے کہ الم متشابہات میں سے ہے جس کے معنی ہم تو کیا جبریل بھی نہیں جانتے۔ مگر اس کے پڑھنے پر ثواب ہے۔ معلوم ہوا کہ تلاوت قرآن کا ثواب اس کے سمجھنے پر موقوف نہیں بغیر سمجھے تلاوت پر ثواب ہے ولایتی مرکب دوائیں مریض کو شفادیتی ہیں۔ ان کے اجزاء معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ یوں ہی قرآن کریم شفا اور ثواب ہے معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ دیکھو بھینس دودھ کےلئے، بیل کھیتی باری کے لئے، گھوڑے، اونٹ سواری اور بوجھ اٹھانے کےلئے پالے جاتے ہیں۔ مگر طوطی مینا صرف اس لئے پالے جاتے ہیں کہ وہ ہماری سی بولی بولتے ہیں اگرچہ بغیر سمجھے سہی۔ مینا طوطی تمہاری بولی بولیں تو تمہیں پیاری لگے، اگر تم جناب مصطفٰی کی بولی بولو تو رب کو پیارے اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ بغیر معنی سمجھے قرآن بیکار ہے اس کا کوئی ثواب نہیں۔
    (6) جو شخص قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک آفتاب سے بڑھ کر ہوگی۔
    (7) قرآن پاک دیکھ کر پڑھنے میں دوہرا ثواب ملتا ہے اور بغیر دیکھ کر پڑھنے میں ایک ثواب ہے۔ نوٹ:۔ چند چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے۔ قرآن کعبہ، کعبہ معظمہ، ماں باپ کا چہرہ محبت سے اور عالم دین کی شکل دیکھنا عقیدت سے وغیرہ وغیرہ
    (8) قرآن پاک کی تلاوت اور موت کی یاد دل کو اس طرح صاف کردیتی ہے جیسے کہ زنگ آلود لوہے کو صیقل۔
    (9)جو شخص کہ قرآن پاک کی تلاوت میں اتنا مشغول ہو کہ کوئی دعا نہ مانگ سکے تو خداوند تعالٰی اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہے۔
    (10) جو شخص ہر رات سورہ واقعہ پڑھا کرے، انشاءاللہ اسے کبھی فاقہ نہ ہو گا۔
    (11) سورہ الم تنزیل پڑھنے والا جب قبر میں پہنچتا ہے تو یہ سورہ اس طرح اس کی شفاعت کرتی ہے کہ اے اللہ اگر میں تیرا کلام ہوں تو اس کو بخش دے ورنہ تو مجھے اپنی کتاب سے نکالدے اور میت کو اس طرح ڈھک لیتی ہے جیسے چڑیا اپنے پروں سے اپنے بچوں کو اور اسے عذاب سے بچاتی ہے۔
    (12) جو شخص کہ سورہ یٰسین اول دن میں (دوپہر سے پہلے) پڑھنے کا عادی ہو تو اس کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔
    (13) سورہ یٰسین شرہف پرھنے سے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں اور مشکلیں آسان ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس کو بیماروں پر پڑھو۔
    (14) سوتے وقت قل یا ایھا الکٰفرون پڑھنے والا انشاءاللہ تعالٰی کفر سے محفوظ رہے گا۔ یعنی س کا خاتمہ بالخیر ہوگا۔
    (15) سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھنے سے آندھی اور اندھیری دور ہوتی ہے۔ اور اس کا پابندی سے پڑھنے والا انشاءاللہ جادو سے محفوظ رہے گا۔
    (16) سورہ فاتحہ جسمانی اور روحانی بیماروں کی دوا ہے۔ (ہر سورت کے فوائد ہم انشاءاللہ تعالٰی اس سورۃ کے ساتھ بھی لکھیں گے۔
    واضح رہے کہ قرآن کریم کے فائدے فقط پڑھنے والے پر ہی ختم نہیں ہوجاتے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ مثلا جہاں تک اس کی آواز پہنچے وہاں تک ملائکہ رحمت کا اجتماع ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت اسید ابن خصر رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک شب تلاوت قرآن کر رہے تھے اور ان کے پاس ایک گھوڑا بندھا تھا۔ وہ اچانک اچھلنے کودنے لگا۔ آپ باہر تشریف لائے اور نگاہ اٹھاکر دیکھا ایک سائبان تھا جس میں قندیلیں روشن تھیں۔ اس سے گھوڑا ڈر کر کودتا تھا۔ صبح کو آکر بارگاہ نبوت میں یہ واقعہ عرض کیا۔ ارشاد ہوا کہ رحمت کے فرشتے تھے جو تمہارا قرآن پاک سننے آئے تھے اسی طرح جہاں تک اس کی آواز پہنچے وہاں تک کی ہر ایک چیز درخت، گھاس، بیل، بوٹے، حتٰی کہ در و دیوار اس کے ایمان کی قیامت میں انشاءاللہ تعالٰی گوواہی دیں گے۔ اسی طرح اگر تلاوت کرنے والا کچھ آیتیں پڑھ کر بیمار پر دم کرے تو انشاءاللہ تعالٰی صحت ہوگی۔ دیکھو اگر تم کسی باغ کے پاس سے گزرو تو وہاں کے پھولوں کی مہک دور تک محسوس ہوتی ہے جس سے دماغ معطر اور دل خوش ہوجاتا ہے۔ آخر یہ کیوں؟ صرف اس لئے کہ ہوا پھولوں سے لگ کر ہر چہار طرف پھیلتی ہے۔ اس ہوا کی تاثیر ہوتی ہے کہ گزرنے والوں کو خوش کردیتی ہے۔ تو جس زبان سے قرآن پاک پڑھا جائے اس سے لگ کر جو پھونک نکلے وہ کیوں نہ دافع ہر بلا ہو۔ صحابہ کرام نے سانپ کے کاٹے ہوؤں کا سورۃ فاتحہ دم کرکے علاج کیا ہے۔ اسی طرح قرآن کریم کی آیتوں کو لکھ کر تعویذی شکل میں بیمار کے ساتھ رکھا جائے تو اس کو شفا ہوتی ہے۔ آنکھ میں سرمہ لگانے سے نظر قائم رہتی ہے جب یہ معمولی دوائیں کچھ دیر ہمارے ساتھ رہ کر اپنا اثر دکھاویں تو قرآن حکیم کی آیتیں اس سے کہیں زیادہ شفا بخش کیوں نہ ثابت ہوں گے؟ صحابہ کرام نے قرآن کریم سے ،قرآن شریف کی آیتوں سے بیماروں کا علاج کیا ہے۔ جس تعویذ گنڈر اور دم سے حدیث پاک میں منع فرمایا گیا ہے وہ زمانہ جاہلیت کے شرکیہ منتر تھے۔ جن میں بتوں سے مدد مانگنے کے الفاظ تھے، قرآن پاک کی آیتوں سے ان کو کیا نسبت؟ اسی طرح اگر قرآن پاک کی تلاوت کرکے کسی کو ثواب بخش دیا جائے تو وہ ضرور اس کو پہنچے گا۔ اگر میں اپنا کمایا ہوا روپیہ کسی کو دوں تو دے سکتا ہوں۔ اسی طرح اپنے کمائے ہوئے ثواب کو دینے کا اختیار بھی رکھتا ہوں۔ ہاں فرق یہ ہے کہ اگر مال چند اشخاص پر تقسیم کیا جائے تو وہ بٹ کر تھوڑا تھوڑا ملے گا۔ اور دینے والے کے پاس نہ رہے گا۔ اگر ثواب صدہا آدمیوں کو بخش دی جائے تو سب کو پورا پورا ملے گا اور بخشنے والے کو ان سب کے برابر جیسے کوئی عالم یا حافظ صدہا آدمیوں کو عالم یا حافظ بنائے تو وہ علم تقسیم ہوکر نہ ملے گا۔ بلکہ سب کو برابر ملے گا اور پڑھانے والے کو علم میں اور ترقی ہوگی ایصال ثواب کی پوری بحث اور اس کے متعلق تمام اعتراضات اور جوابات انشاءاللہ تعالٰی ہم اس آیت کے ماتحت لکھیں گے۔ لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت​​
     

Share This Page