1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

دلائل قرآن

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    دلائل قرآن
    از غزالئی زماں علّامہ سید احمد سعید کاظمی رحمتہ اﷲ علیہ

    اس میں شک نہیں کہ سارا قرآن مجید اپنی اعجازی شان کے ساتھ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایسا معجزہ ہے جو قابل فنا نہیں اور معجزہ بذات خود ایک روشن دلیل ہے، اس لئے اگر یہ کہہ دیا جائے کہ قرآن مجید اپنی جامعیت کے لحاظ سے ایسی دلیل ہے جو تمام دلائل کائنات کو حاوی ہے تو بے جا نہ ہوگا ، لیکن مضامین قرآن کی حن و خوبی کے پیش نظر صرف اتنی بات پر اکتفاءنہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ کتاب مبین چونکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے موجب ہدایت اور باعث تکمیل انسانیت ہے ، اس کے دلائل ہر دور اور طریقہ کے انسانوں کے حسب حال ہیں ، مختلف عصور ودہور میں تمام دنیا کے دیار و امصار کے انسانی طبقات کا ذہنی فرق وامتیاز اور ان کے عقول وافہام کا قدرتی تفاوت اور اس کے مقتضیات ، ایک ایسی حقیقت ثابتہ ہے جس کا انکار نہیں ہوسکتا ، اور یہ امر بھی مسلمات سے ہے کہ طبیعت انسانیہ کی افتاد کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ جب تک وہ اپنی سمجھ کے مطابق دلیل نہ پائے دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتی ۔ بنا بریں قرآن کریم میں ان تمام دلائل کو رکھ دیا گیا جن کی کسی انسان کو قیامت تک کبھی ضرورت واقع ہوسکتی ہے۔
    پھر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ان دلائل کا انکشاف تام ( اخص الخواص کے علاوہ ہر دور کے عامتہ الناس پر) اپنے اپنے وقت پر ہوا، مثلاً قرآن مجید میں توحید باری پر ایک دلیل قائم کی گئی ”لو کان فیھما الھۃ الااﷲلفسدتا“ اگر زمین وآسمان میں اﷲ کے سوا چند معبود ہوتے تو زمین وآسمان فاسد ہوجاتے اور ان کا نظام برقرار نہ رہتا۔
    یہ آیئہ کریمہ عرب کے بدویوں اور ان تمام لوگوں کے حق میں دلیل ظنی اور حجت اقناعیہ ہے جو نظر وکسب اور ترتیب مقدمات کی اہلیت نہیں رکھتے، ان کے سمجھنے کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ عادت جاریہ یہ ہے کہ جب کسی ملک میں ایک سے زیادہ بادشاہ ہوتے ہیں تو آپس میں ضرور جھگڑا ہو جاتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ ملک کی تباہی اور بربادی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، لہذا جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ زمین و آسمان کا نظام ایک نہج پر چل رہا ہے تو یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ بادشاہ حقیقی اور معبود برحق ایک ہی ہے، اگر اس کے علاوہ کوئی اور معبود بھی ہوتا تو زمین وآسمان ضرور فاسد ہوجاتے۔
    اور جو لوگ عقلیات میں ید طولیٰ رکھنے والے، ترتیب مقدمات کے عادی اور برہان کے ماہر تھے ان کے لئے یہی آیت” لوکان فیھما آلھۃالااﷲ لفسدتا “دلیل یقینی اور برہان قطعی کے لئے مشعل راہ قرار پائی اور انہوں نے اسی آیت میں غور کرکے امکان تعدد الہہ کے امکان تمانع کو لازم جان کر آسانی سے سمجھ لیا کہ اگر تعدد الہہ ممکن ہو تو یہ بھی ممکن ہوگا کہ وہ دونوں کسی ایسی بات پر جھگڑا کریں جس میں دونوں کے ارادہ کا بیک وقت پورا ہونا محال بالذات ہو۔
    مثلاً زید بیمار ہے، ایک الہٰ ارادہ کرے کہ یہ ابھی تندرست ہوجائے اور دوسرا معبود ارادہ کرے کہ یہ اسی وقت مرجائے، ظاہر ہے کہ دونوںکا ارادہ بیک وقت پورا نہیں ہوسکتا، کیونکہ تندرستی زید کے وجود کو چاہتی ہے اور مرجانااس کا عدم ہے ، عدم اور وجود، فنا اور بقا، موت اور حیات کا بیک وقت پایا جانا اجتماع ضدین کی وجہ سے محال بذات ہے ، لہذا دونوں کا ارادہ پورا نہیں ہوسکتا ، یقیناً دونوں میں سے ایک کامیاب ہوگا اور دوسرا ناکام ، یا دونوں ناکام ہوں گے ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ناکام ہونے والا واجب الوجود اور معبود نہیں ہوسکتا ، لہذا بہر صورت تعدد الہٰ باطل ہوا ۔
    علیٰ ھذا لقیاس عقلی اور نقلی ، آفاقی اور نفسی ہر قسم کی دلیلیں قرآن مجید میں موجود ہیں تاکہ ہر شخص اپنے ذوق اور حال کے مطابق قرآن سے دلیل حاصل کرسکے۔
    عقلی دلیلیں۔
    قرآن کریم نے بے شمار عقلی دلیلیں بیان کیں جن کا احصاءناممکن ہے ، بلکہ اگر یوں کہہ دیا جائے کہ عقل سلیم کی روشنی میں قرآن کا ہر دعویٰ دلیل اور ہر دلیل دعویٰ ہے تو غالباً بے جا نہ ہوگا، مثال کے طور پر سورہ فاتحہ کو لے لیجئے کہ اس کی ہر آیت دعویٰ اور دلیل ہے بلکہ بعض آیتیں دعویٰ اور دلیل دونوں کی جامع ہیں دیکھئے!
    ”الحمدﷲ “دعویٰ ہے اور ”رب العلمین “اس کی دلیل ہے، کیونکہ تمام تعریفوں کا مستحق وہی ہوسکتا ہے جو تمام جہانوں کا رب ہو، جب وہ رب العلمین ہے تو اس کی ربوبیت عامہ اس کے استحقاق حمد کی دلیل ہوگی، اسی طرح”رب العلمین“ دعویٰ ہے اور ”الرحمن الرحیم“اس کی دلیل ہے، اس لئے کہ ربوبیت رحمت کے بغیر ناممکن ہے ، جب وہ رحمان ورحیم ہے تو اس کی یہ صفت ِ رحمت اس کے رب العلمین ہونے کی دلیل قرار پائے گی، پھر” الرحمن الرحیم “ دعویٰ ہے اور”مالک یوم الدین“اس کی دلیل ہے ، کیونکہ رحمان ورحیم ہی بدلے کے دن کا مالک ہوسکتا ہے جو رحمت ورافت سے عاری ہو وہ بدلہ کے دن کا مالک بننے کے قابل نہیں ، لہذا جب وہ مالک یوم الدین ہے تو ضرور رحمان ورحیم بھی ہوگا، اس لئے مالک یوم الدین ہونا اﷲ تعالیٰ کے رحمن ورحیم ہونے کی دلیل ہوا۔
    علیٰ ھذاالقیاس” مالک یوم الدین “دعویٰ ہے” ایاک نعبد “ اس کی دلیل ہے کیونکہ مالک یوم الدین وہی ہو سکتا ہے جو معبود ہو، جب وہ معبود ہے تو بالیقین مالک یوم الدین بھی وہی ہوگا ، لہذا اس کی معبودیت اس کے مالک یوم جزاءہونے کی دلیل ہوگی۔ بالکل ایسے ہی ” ایاک نعبد“ دعویٰ ہے اور ”ایاک نستعین“ اس کی دلیل ہے کیونکہ معبود وہی ہوسکتا ہے جو مستعان حقیقی ہو، جب وہی مستعان حقیقی ہے تو معبود بھی وہی ہوگا ۔ لہذا ”ایاک نستعین “ ”ایاک نعبد“ کی دلیل قرار پایا۔ پھر اسی طرح ”ایاک نستعین“دعویٰ ہے اور ”اھدناالصراط المستقیم“اس کی دلیل ہے ، کیونکہ مستعان ہی صراط مستقیم کی ہدایت
    کرسکتا ہے ، جب اس کا صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنا ثابت وواقع ہے تو اس کا مستعان ہونا بھی ثابت ہوا۔ لہذا ”اھدناالصراط المستقیم“ ”وایاک نستعین“ کی دلیل قرار پایا۔ پھر ایسے ہی ”اھدنا الصراط المستقیم“ دعویٰ ہے اور ”صراط الذین انعمت علیھم“ اس کی دلیل ہے، کیونکہ سیدھا راستہ انعام کئے ہوئے لوگوں ہی کا راستہ ہوسکتا ہے، ان کے علاوہ کسی غیر منعم کا راستہ صراط مستقیم نہیں ہوسکتا۔ جب اس راستہ کا انعام کئے ہوئے لوگوں کا راستہ ہونا متعین ہے تو اس کا صراط مستقیم ہونا بھی متعین ہو گیا، لہذا ”صراط الذین انعمت علیھم “ ”اھدناالصراط المستقیم“ کی دلیل ہوا۔ پھر اسی طرح ”صراط الذین انعمت علیھم“ دعویٰ ہے اور” غیر المغضوب علیھم ولاالضالین“اس کی دلیل ہے ، کیونکہ منعم علیھم کا راستہ وہی ہوسکتا ہے جو غضب کئے ہوئے اور گمراہ ہونے والے لوگوں کا راستہ نہیں ، تو بخوبی واضح ہوگیا کہ یہی راستہ انعام کئے ہوئے لوگوں کا ہے۔
    صرف یہی نہیں بلکہ آپ چاہیں تو اس کا عکس بھی کرسکتے ہیں ، یعنی جس چیز کو آپ نے دعویٰ بنایا اسے دلیل بنادیجئے اور دلیل کو دعویٰ قرار دے دیجئے اور یوں کہئیے کہ ”الحمدﷲ“ دلیل ہے اور ”رب العلمین“ دعویٰ، کیونکہ تمام جہانوں کا رب وہی ہوسکتا ہے جو تمام تعریفوں مستحق ہو ۔ اسی طرح ”رب العالمین“ دلیل ہے اور ”الرحمن الرحیم“ دعویٰ ، اس لئے کہ تربیت وہی کرسکتا ہے جو رحمت والا ہو۔ ایسے ہی ” الرحمن الرحیم“ دلیل ہے اور ”مالک یوم الدین“دعویٰ، کیونکہ مالک یوم الدین وہی ہوسکتا ہے جو رحمت اورمہربانی کرنے والا ہو۔
    پھر بالکل اسی طرح ” مالک یوم الدین“ دلیل ہے اور ”ایاک نعبد“ دعویٰ ہے، اس لئے کہ معبود وہی ہو سکتا ہے جو مالک یوم الدین ہو ۔ علیٰ ھذاالقیاس ”ایاک نعبد“ دلیل ہے اور ”ایاک نستعین“دعویٰ۔ کیونکہ مستعان حقیقی وہی ہوسکتا ہے جو معبود ہو ۔ اسی طرح ”ایاک نستعین“دلیل ہے اور ”اھدناالصراط المستقیم“دعویٰ، کیونکہ صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والا ہی مستعان ہے۔ پھر ایسے ہی ”اھدناالصراط المستقیم“ دلیل ہے اور ”صراط الذین انعمت علیھم “ دعویٰ، کیونکہ انعام کئے ہوئے لوگوں کا راستہ ہی صراط مستقیم ہوسکتا ہے۔ علیٰ ھذاالقیاس ”صراط الذین انعمت علیھم “دلیل ہے اور ”غیر المغضوب علیھم ولاالضالین“دعویٰ کیونکہ جو غضب کئے ہوئے اور گمراہ لوگوں کا راستہ نہ ہو وہی صراط مستقیم ہوسکتا ہے۔
    یہ توایک مثال کے طور پر ہم نے دعویٰ اور دلیل کی چند مثالیں سورہ فاتحہ میں پیش کیں ، اگر پورے تدبر سے کام لیا جائے تو ان شاءاﷲتمام قرآن مجید میں اس انداز بیان کی جھلک نظر آئے گی۔
    نقلی دلیلیں بھی قرآن مجید کم نہیں ، اگرچہ تمام قرآن کریم وحی الٰہی ہونے کی حیثیت سے دلیل نقلی ہے لیکن کتب سابقہ اور شرائع متقدمہ وانبیاءکرا م ودیگرعباد صالحین کے اقوال جو اﷲ
    تعالیٰ نے اپنے پیغامات کو اذہان عباد میں راسخ فرمانے کے لئے ارشاد فرمائے ہیں وہ سب دلائل نقلیہ ہیں، مثلاً موسیٰ وخضر علیہماالسلام کا واقعہ ، ابراہیم علیہ السلام ، یوسف و یعقوب علیہماالسلام کے واقعات اور ان کے ضمن میں ان کے اقوال مقدسہ ، یہ سب دلائل نقلیہ ہیں ۔ دلائل عقلیہ میں دلائل آفاقی اور دلائل نفسی خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ” سنریھم ایاتنا فی الافاق وفی انفسھم حتیٰ یتبین لھم انہ الحق“۔
    دلائل آفاقی اور اس سے زائد دلائل نفسی سے جو استفادہ حضرات اہل علم نے فرمایا وہ کسی دوسرے کے لئے متصور نہیں ۔ مختصر یہ کہ قرآن کریم دلائل و براھین کا ہمیشہ باقی رہنے والا ایک خزانہ ہے جس سے قیامت تک آنے والی نسلیں اپنا حصہ لیتی رہیں گی۔
    وما علینا الاالبلاغ المبین​
     
  2. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ
     

Share This Page