1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

جنّتی لاٹھی ( عجائب القرآن )


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

Quran e Kareem"/>Jul 13, 2014"/>

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم

    (1) جنتی لاٹھی
    یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو ‘ عصاءموسٰی ‘ کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے ان معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔
    اس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں ان تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔
    یہ لاٹھی حضرت موسٰی علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہو جایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ حضرت سید علی اجہوزی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ
    واٰدمُ معَہ اُنزلَ العُودُ والعَصَا
    لمُوسٰی مِنَ الاٰس النّباتِ المُکرم
    واَورََاقُ تین وّ الیَمینُ بمَکۃَ
    وخَتمُ سُلَیمٰنَ النبی المُعَظم
    ترجمہ: حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود ( خوشبودار لکڑی ) حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا، انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبی ء معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اتاری گئیں۔ ( تفسیر الصادی، ج1، ص 69، البقرۃ: 60 )
    حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاءکرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ‘ قوم مدین ‘ کے نبی تھے جب حضرت موسٰی علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ تعالٰی عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکم خداوندی عزوجل کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصاء عطا فرمایا۔
    پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کیلئے روانہ ہوئے اور وادی مقدس مقام ‘ طوٰی ‘ میں پہنچے تو اللہ تعالٰی نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اس کو اس طرح بیان فرمایا کہ
    وما تلک بیمینک ٰیموسٰی قال ھیَ عصای ج اتوکؤا علیھا و اھش بھا علٰی غنمِی وَلی فیھَا ماٰرب اخرٰی ( پ 16، طہ: 17، 18 )
    ترجمہ کنزالایمان : اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسٰی عرض کی یہ میرا عصا ہے۔ میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں۔
    ماٰرب اخرٰی ( دوسرے کاموں ) کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات بن احمد نسفی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مثلاً ۔ ۔ ۔ ۔
    (1) اس کو ہاتھ میں لے کر اس کے سہارے چلنا (2) اس سے بات چیت کر کے دل بہلانا (3) دن میں اس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا (4) رات میں اس کی دونوں شاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (5) اس سے دشمنوں، درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (6) کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (7) بوقت ضرورت اس کا درخت بن کر حسب خواہش پھل دینا ( 8 ) اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ (مدارک التنزیل، ج3، ص 251، پ16، طہ:18 )

    حضرت موسٰی علیہ السلام اس مقدس لاٹھی سے مذکورہ بالا کام نکالتے رہے مگر جب آپ فرعون کے دربار میں ہدایت فرمانے کی غرض سے تشریف لے گئے اور اس نے آپ کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا تو آپ کے اس عصا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزات کا ظہور شروع ہو گیا، جن میں سے تین معجزات کا تذکرہ قرآن مجید نے بار بار فرمایا جو حسب ذیل ہیں:-
    عصا اژدھا بن گیا
    عصا مارنے سے چشمے جاری ہو گئے
    عصا کی مار سے دریا پھٹ گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    عصا اژدھا بن گیا!
    اس کا واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک میلہ لگوایا اور اپنی پوری سلطنت کے جادوگروں کو جمع کر کے حضرت موسٰی علیہ السلام کو شکست دینے کیلئے مقابلہ پر لگا دیا اور اس میلہ کے ازدحام میں جہاں لاکھوں ینسانوں کا مجمع تھا، ایک طرف جادوگروں کا ہجوم اپنی جادو گروں کا سامان لیکر جمع ہو گیا اور ان جادوگروں کی فوج کے مقابلہ میں حضرت موسٰی علیہ السلام تنہا ڈٹ گئے۔جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکا تو ایک دم وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر پورے میدان میں ہر طرف پھنکاریں مار کر دوڑنے لگیں اور پورا مجمع خوف و ہراس میں بد حواس ہو کر ادھر ادھر بھاگنے لگے اور فرعون اور اس کے تمام جادوگر اس کرتب کو دکھا کر اپنی فتح کے گھمنڈ اور غرور کے نشہ میں بد مست ہو گئے اور جوش شادمانی سے تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرنے لگے کہ اتنے میں ناگہاں حضرت موسٰٰی علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنی مقدس لاٹھی کو ان سانپوں کے ہجوم میں ڈال دیا تو یہ لاٹھی ایک بہت بڑے اور نہایت ہیبت ناک اژدہا بن کر جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سجدے میں گر پڑے اور با آواز بلند اعلان کرنا شروع کر دیا کہ
    ‘‘امنا برب ھٰرون و موسٰی“
    یعنی ہم سب حضرت ہارون اور حضرت موسٰٰی علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے ۔
    چناچہ قرآن مجید نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :-
    قالوا یٰموسٰی اما ان تلقی و اما ان نکون اول من القٰی ہ قال بل القوا ج فاذا حبالھم و عصیھم یخیل الیہ من سحر ھم انھا تسعٰی ہ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسٰی ہ قلنا لا تخف انک انت الاعلٰٰی ہ والق مافی یمینک تلقف ما صنعوا ط انما صنعوا کید سحر ط ولا یفلح السحر حیث اتٰی ہ فالقی السحرۃ سجّدا قالوا امنا برب ھٰرون و موسٰی ہ ( پ 16 طہ 65 تا 70 )
    ترجمہ کنز الایمان :-
    بولے اے موسٰی یا تو تم ڈالو یا ھم پہلے ڈالیں موسٰی نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں تو اپنے جی میں موسٰی نے خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے اور ڈال تو دے جو تیرے دا ھنے ہاتھ میں ہے اوران کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بنا کر لائے ہیں وہ تو جادو کا فریب ہے اور جادو کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے تو سب جادو گر سجدے میں گرا لئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسٰی کا رب ہے ۔
    عصا مارنے سے چشمے جاری ہو گئے ۔
    بنی اسرائیل کا اصل وطن ملک شام تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے دور حکومت میں یہ لوگ مصر میں آکر آباد ہو گئے اور ملک شام پر قوم عمالقہ کا تسلط اور قبضہ ہو گیا۔ جو بدترین قسم کے کفار تھے۔ جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسٰٰی علیہ السلام کو فرعون کے خطرات سے اطمینان ہو گیا تو اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ قوم عمالقہ سے جہاد کرکے ملک شام کو ان کے قبضہ و تسلط سے آزاد کرائیں۔ چنانچہ آپ چھ لاکھ بنی اسرائیل کی فوج لے کر جہاد کے لئے روانہ ہو گئے مگر ملک شام کی حدود میں پہنچ کر بنی اسرائیل پر قوم عمالقہ کا ایسا خوف سوار ہو گیا کہ بنی اسرائیل ہمت ہار گئے اور جہاد سے منہ پھیر لیا۔ اس نافرمانی پر اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کو یہ سزا دی کہ یہ لوگ چالیس برس تک‘ میدان تیہ ‘ میں بھٹکتے اور گھومتے پھرے اور اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ میدان تیہ میں تشریف فرما تھے۔ جب بنی اسرائیل اس بےآب وگیا میدان میں بھوک پیاس کی شدت سے بےقرار ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی دعا سے ان لوگوں کے کھانے کیلئے ‘ من و سلوٰی ‘ آسمان سے اتارا۔
    مَن شہد کی طرح ایک قسم کا حلوہ تھا، اور سلوٰی بھنی ہوئی بٹیریں تھیں۔ کھانے کے بعد جب یہ لوگ پیاس سے بےتاب ہونے لگے اور پانی مانگنے لگے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مار دیا تو اس پتھر میں بارہ چشمے پھوٹ کر بہنے لگے اور بنی اسرائیل کے بارہ خاندان اپنے اپنے ایک چشمے سے پانی لے کر خود بھی پینے لگے اور اپنے جانوروں کو بھی پلانے لگے اور پورے چالیس برس تک یہ سلسلہ جاری ریا۔
    یہ حضرت موسٰی علیہ السلام کا معجزہ تھا جو عصا اور پتھر کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ اور معجزہ کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ
    واذ استسقٰی موسٰی لقومہ فقلنا اضرب بعصاک الحجر ط فانفجرت منہ اثنتا عشرۃ عینا ط قد علم کل اناس مشربھم ( پ1، البقرۃ: 60 )
    ترجمہ کنزالایمان: اور جب موسٰی نے اپنی قوم کیلئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔

    عصا کی مار سے دریا پھٹ گیا -
    حضرت موسٰی علیہ السلام ایک مدت دراز تک فرعون کو ہدایت فرماتے رہے اور آیات و معجزات دکھاتے رہے مگر اسنے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اور زیادہ اس کی شرارت و سرکشی بڑھتی رہی اور بنی اسرائیل نے چونکہ اس کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا اس لئے اس نے ان مومنین کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اس دوران میں ایک دم حضرت موسٰی علیہ السلام پر وحی اتری کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لیکر رات میں مصر سے ہجرت کر جائیں۔ چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات میں مصر سے روانہ ہو گئے۔ جب فرعون کو پتا چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی گرفتاری کیلئے چل پڑا۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو بنی اسرائیل فرعون کے خوف سے چیخ پڑے کہ اب تو ہم فرعون کے ہاتھوں گرفتار ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کی پوزیشن بہت نازک ہو گئی کیونکہ ان کے پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تھا اور آگے موجیں مارتا ہوا دریا تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں حضرت موسٰی علیہ السلام مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کو تسلی دے رہے تھے۔ جب دریا کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالٰی نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ تم اپنی لاٹھی دریا پر ماردو۔ چنانچہ جونہی آپ نے دریا پر لاٹھی ماری تو فوراً ہی دریا میں بارہ سڑکیں بن گئیں اور بنی اسرائیل ان سڑکوں پر چل کر سلامتی کے ساتھ دریا سے پار نکل گئے۔ فرعون جب دریا کے قریب پہنچا اور اس نے دریا کی سڑکوں کو دیکھا تو وہ بھی اپنے لشکروں کے ساتھ ان سڑکوں پر چل پڑا۔ مگر جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اچانک دریا موجیں مارنے لگا اور سب سڑکیں ختم ہو گئیں اور فرعون اپنے لشکروں سمیت دریا میں غرق ہو گیا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمایا کہ
    فلما ترآء الجمعٰن قال اصحب موسٰی انا لمدر کون ہ قال کلاج ان معی ربی سیھدین ہ فاوحینا الٰی موسٰی ان اضرب بعصاک البحر ط فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم ہ وازلفنا ثم الاٰخرین ہ وانجینا موسٰی ومن معہ اجمعین ہ ثم اغرقنا الاٰخرین ہ ان فی ذلک لاٰیۃ ط وما کان اکثرھم مؤمنین ہ ( پ19، الشعراء: 61 تا 67 )
    ترجمہ کنزالایمان: پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسٰی والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آ لیا موسٰی نے فرمایا۔ یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے تو ہم نے موسٰی کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے پہاڑ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچا لیا موسٰی اور اس کے سب ساتھ والوں کو پھر دوسروں کو ڈبو دیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔
    یہ ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کی مقدس لاٹھی کے ذریعہ ظاہر ہونے والے وہ تینوں عظیم الشان معجزات جن کو قرآن کریم نے مختلف الفاظ اور متعدد عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرما کر لوگوں کیلئے عبرت اور ہدایت کا سامان بنا دیا ہے۔ ( واللہ تعالٰی اعلم )
     

Share This Page