1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قراءت کا بیان

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    قراءت کا بیان​

    قراءت یعنی قرآن شریف پڑھنے میں اتنی آواز ہونی چاہئیے کہ اگر بہرا نہ ہو اور شور و غل نہ ہو تو خود اپنی آواز سن سکے۔ اگر اتنی آواز بھی نہ ہوئی تو قراءت نہیں ہوئی اور نماز نہ ہوگی۔ (درمختار ج1 ص359)

    مسئلہ1:- فجر میں اور مغرب و عشاء کی دو پہلی رکعتوں میں اور جمعہ و عیدین و تراویح اور رمضان کی وتر میں امام پر جہر کے ساتھ قراءت کرنا واجب ہے۔ اور مغرب کی تیسری رکعت میں اور عشاء کی تیسری اور چوتھی رکعت میں ظہر و عصر کی سب رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔

    مسئلہ2:- جہر کے معنی یہ ہیں کہ اتنی زور سے پڑھے کہ کم سے کم صف میں قریب کے لوگ سن سکیں اور آہستہ پڑھنے کے یہ معنی ہیں کہ کم سے کم خود سن سکے۔ (درمختار ج1 ص358 )

    مسئلہ3:- جہری نمازوں میں اکیلے کو اختیار ہے چاہے زور سے پڑھے چاہے آہستہ مگر زور سے پڑھنا افضل ہے۔ (درمختار ج1 ص358 )

    مسئلہ4:- قرآن شریف الٹا پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ مثلاً یہ کہ پہلی رکعت میں قل ھواللہ اور دوسری رکعت میں تبت یدا پڑھنا۔ (درمختار ج1 ص368 )

    مسئلہ5:- درمیان سے ایک چھوٹی سورہ چھوڑ کر پڑھنا مکروہ ہے جیسے پہلی رکعت میں قل ھواللہ پڑھی اور دوسری رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھی۔ اور درمیان میں صرف ایک سورہ قل اعوذ برب الناس چھوڑ دی۔ لیکن ہاں اگر درمیان کی سورہ پہلے سے بڑی ہو تو درمیان میں ایک سورہ چھوڑ کر پڑھ سکتا ہے۔ جیسے والتین کے بعد انا انزلنا پڑھنے میں حرج نہیں۔ اور اذا جاء کے بعد قل ھواللہ پڑھنا نہیں چاہئیے۔ (درمختار ج1 ص368 )

    مسئلہ6:- جمعہ و عیدین میں پہلی رکعت میں سورہء جمعہ ور دوسری رکعت میں سورہء منافقین یا پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری رکعت میں ھل اتاک حدیث الغاشیہ پڑھنا سنت ہے۔ (ردالمحتار ج1 ص365)​

    نماز کے باہر تلاوت کا بیان​
    مستحب یہ ہے کہ باوضو قبلہ رو اچھے کپڑے پہن کر صحیح صحیح حروف ادا کرکے اچھی آواز سے قرآن شریف پڑھے۔ لیکن گانے کے لہجہ میں نہیں کہ گا کر قرآن پڑھنا جائز نہیں۔ تلاوت کے شروع میں اعوذ باللہ پڑھنا واجب ہے اور سورہ کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔ درمیان تلاوت میں کوئی دنیاوی کلام یا کام کرے تو اعوذ باللہ و بسم اللہ پھر پڑھ لے۔ (غنیہ وغیرہ)

    مسئلہ:- غسل خانہ اور نجاست کی جگہوں میں قرآن شریف پڑھنا ناجائز ہے۔ (غنیہ)

    مسئلہ:- جب قرآن شریف بلند آواز سے پڑھا جائے تو حاضرین پر سننا فرض ہے جب کہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو ورنہ ایک کا سننا کافی ہے۔ اگرچہ اور لوگ اپنے اپنے کام میں ہوں۔ (غنیہ فتاوٰی رضویہ وغیرہ)

    مسئلہ:- سب لوگ مجمع میں زور سے قرآن شریف پڑھیں یہ ناجائز ہے۔ اکثر عرس و فاتحہ کے موقعوں پر سب لوگ زور زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ ناجائز ہے اگر چند آدمی پڑھنے والے ہوں تو سب لوگ آہستہ پڑھیں۔ (درمختار وغیرہ)

    مسئلہ:- بازاروں اور کارخانوں میں جہاں لوگ کام میں لگے ہوں زور سے قرآن شریف پڑھنا ناجائز ہے کیونکہ لوگ اگر نہ سنیں گے تو گنہگار ہوں گے۔ (ردالمحتار ج1 ص367)

    مسئلہ:- قرآن شریف بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ نمازی یا بیمار یا سونے والے کوتکلیف نہ پہنچے۔

    مسئلہ:- قرآن شریف کو پیٹھ نہ کی جائے۔ نہ اس کی طرف پاؤں پھیلائیں نہ اس سے اونچی جگہ بیٹھیں۔ نہ اس پر کوئی کتاب رکھیں ااگرچہ حدیث و فقہ کی کتاب ہو۔

    مسئلہ:- قرآن شریف اگر بوسیدہ ہوکہ پڑھنے کے قابل نہیں رہ گیا تو کسی پاک کپڑے میں لپیٹ کر احتیاط کی جگہ دفن کر دیں۔ اور اس کیلئے لحد بنائی جائے تاکہ مٹی اس کے اوپر نہ پڑے۔ قرآن شریف کو جلانا نہیں چاہئیے بلکہ دفن ہی کرنا چاہئیے۔ (عالمگیری و بہارِ شریعت ج16 س118 )​​
     
  2. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ
     

Share This Page