1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن کے معنی بدلنے والوں سے بچو

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    قرآن کے معنی بدلنے والوں سے بچو
    جامع مسجد توحید ، فیصل کالونی ، نزد بستی کھار پور، سورج کنڈ روڈ ملتان کی طرف سے شائع کردہ ایک چھوٹا سا اشتہار نظر سے گزرا، جس میں عامۃ المسلمین کو پریشان کرنے کے لئے بعض آیات قرآنی کا بے جا اور بے موقع استعمال کرکے معنوی تحریف کا ارتکاب کیا گیا ہے، اسلامی تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کرنے والوں کا سدّ باب کرنے کے لئے ہم اُن کی پیش کردہ آیات کی وضاحت کرتے ہیں۔
    آیت نمبر ۱ ۔ ”جب اکیلے اﷲ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھتے ہیں اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اُٹھتے ہیں “ (سورۃ الزمر، آیت 45)
    × اس آیت کریمہ سے مخالفینِ حق دراصل نبی ولی کا ذکر روکنا چاہتے ہیں ، حالانکہ یہ آیت مسلمانوں کے بارے میں نہیں اُتری ، پھر دیکھ لیں کہ نماز کے بعد لاالہ الااﷲ کا ذکر کیا جائے تو کن لوگوں کے دل کڑھتے ہیں؟حالانکہ یہ تو صرف اﷲ کا ذکر ہوتا ہے، مزید برآں یہ کہ فرمان الٰہی فاذکرونی اذکرکم ”تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا“ (سورۃ بقرہ، آیت 152) ، پس جن کا ذکر اﷲ کرتا ہے ، اُن کا ذکر بھی اﷲ وحدہ کا ذکر ہے ، اس سے کڑھنا برا ہے۔
    آیت نمبر 2۔ ”اے نبی ! ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہارے نفع و نقصان میں کچھ اختیار نہیں رکھتا (سورۃ الجن، آیت 12)
    × اس آیت میں لَا اَملِکُ ہے ، اس کا معنی دیگر آیت کی روشنی میں یہ بنتا ہے کہ میں تمہارے نفع و نقصان کا مالک حقیقی نہیں ہوں ، ورنہ قرآن پاک میں کشتی اور لوہے کا نفع بخش ہونا موجود ہے (سورۃ بقرہ،آیت 164 ۔سورۃ الحدید، آیت25) ، شراب اور جوئے کا نافع ہونا مذکور ہے (سورۃ بقرہ، آیت219) ، جانوروں کا نفع بخش ہونا مذکور ہے(سورۃ النحل، آیت 5) تعجب ہے کہ اﷲ کا محبوب نفع بخش نہ ہو ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہر دور اور ہر جگہ کے ہر ایمان والے پر رحمت فرمارہے ہیں (سورۃ توبہ۔ آخر) بلکہ عالمین کے لئے رحمت کے قاسم آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں(سورۃ انبیاء، آیت 107) ، ظاہر ہے کہ رحمت نفع پہنچاتی ہے اور نقصان سے بچاتی ہے۔
    آیت نمبر ۳۔ ”تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری فریاد سنوں گا“(سورۃ المومن، آیت 60)
    × آیت میں دعا مانگنے کا ذکر ہے یعنی کسی کو معبود مان کر پکارنا، مانگنا، سوال کرنا، دعا اﷲ سے مانگی جاتی ہے البتہ بندوں سے منگوائی جاسکتی ہے، وسیلہ مان کر نبی ولی سے سوال کرنا جائز ہے، واما السائل فلا تنھر (سورۃ الضحیٰ، آیت 10) سوالی اور منگتے کو مت جھڑکنا ، اُس پر سخت کلام یافتویٰ نہ لگانا، اُس پر رحمت و مہربانی و کرم کرنا۔
    آیت نمبر 4۔ ”اور اﷲ دلوں کے حال تک جانتا ہے“ (سورۃ تغابن، آیت 4)
    × اس آیت میں یہ کہاں ہے کہ مخلوق کو کشف قلوب کی طاقت اﷲ تعالیٰ نہیں دیتا ، اﷲ فرماتا ہے کہ فتری الذین فی قلوبھم مرض (سورۃ مائدہ، آیت 52) رایت الذین فی قلوبھم مرض (سورۃ محمد، آیت 20) یعنی آپ اُن لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کے دلوں میں بیماری ہے ، کشفِ قلوب کے معجزے اور کرامات بے شمار ہیں، بلکہ شیاطین وخنّاس بھی دلوں کے اندر نیکی اور برائی کے ارادوں سے آگاہی پا کر نیکی کے خلاف اور بُرائی کے حق میں یوسوس فی صدور الناس(لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا) کرتے ہیں ، یہ اعتراض کرنے والے بے چارے کشفِ قلوب کی نعمت سے محروم ہیں ۔
    آیت نمبر 5۔ ”اور اگر اﷲ تمہیں کسی مصیبت میں ڈال دے تو کون ہے جو تمہیں اس مصیبت سے نکال دے ، اور اگر وہ تمہیں کسی خیر سے نوازنا چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے“ (سورۃ الانعام، آیت 17)
    × اس میںشک نہیں کہ خیروشر اﷲ کی طرف سے ہے ، تاہم اﷲ مسبب الاسباب ہے، اُس کی سنت یہی ہے کہ کسی سبب اور وسیلہ سے مصیبت بھیجتا ہے اور کسی سبب اور وسیلہ سے مصیبت دور کرتا ہے اور خیر بھیجتا ہے، چنانچہ منکرین بھی بخار یا سر درد یا کسی تکلیف میں (جو اﷲ کی طرف سے بھیجی گئی ہے) ، ڈاکٹر یا حکیم یا متعلقہ سبب اور وسیلہ کی طرف دوڑتا ہے، اُس وقت یا د نہیں رہتا کہ تکلیف اور مصیبت اﷲ نے ڈالی ہے اب اور کون نکال سکتا ہے اُسی کے دروازے پر جائیں، یہ تو سُنّی کی سنت ہے کہ وہ سبب اور وسیلے کو بھی اﷲ مسبب الاسباب کا دروازہ سمجھ کر حاضر ہوتا ہے۔
    آیت نمبر 6۔ ” عزت ساری کی ساری اﷲ کے اختیار میں ہے “ (سورۃ فاطر، آیت 10)
    × منکرین نے یہ آیت تو پڑھی مگر دوسری آیت چھوڑ گئے کہ ”عزت اﷲ کے لئے ہے اُس کے رسول کے لئے اور ایمان والوں کے لئے ہے مگر منافق نہیں جانتے(سورۃ المنافقون، آیت 8) ان بے چاروں کو کیا پتہ کہ مومن کی عزّت وتعظیم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزّت وتعظیم ہے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عزّت وتعظیم اﷲ تعالیٰ کی عزّت وتعظیم ہے اور اﷲ تعالیٰ کی عزّت وتعظیم کا کافروں، بتوں اور منکروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    آیت نمبر 7۔ ”اور جن کو تم اﷲ کے علاوہ پکارتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کی جھلّی کے برابر بھی اختیار نہیں رکھتے“۔(سورۃ فاطر، آیت13)
    × لایملکون من قطمیر کا تعلق صاف صاف بتوں سے ہے، ملکیت مجازی سے صرف اور صرف بت ہی محروم ہیں۔
    آیت نمبر۸۔ ”اے لوگو تم سب اﷲ کے در کے فقیر ہو اور اﷲ تو غنی اور حمید ہے“ (سورۃ فاطر، آیت15)
    × مخالفین اس آیت کو سمجھنے کے لئے قرآن پاک کا یہ مقام بھی سامنے رکھتے تو ٹھوکر نہ کھاتے، اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اغناھم اﷲ و رسولہ من فضلہ (سورۃ التوبۃ، آیت 74) اﷲ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے اُن کو غنی کردیا، دیتا اﷲ ہے مگر دیتااپنے رسول کے ہاتھ سے ہے۔
    آیت نمبر 9۔ ”جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو خالص کرکے اﷲ کو پکارتے ہیں لیکن جب وہ نجات دے کر خشکی پر اُتار دیتا ہے تو یکایک شرک کرنے لگتے ہیں (سورۃ العنکبوت، آیت65)
    × اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرکین نے مشکل اور آسان کاموں کی تقسیم کررکھی تھی،مشکل کام میں اﷲ کو پکارتے تھے اور آسان کام میں بتوں کو پکارتے تھے، ہمارے مخالفین نے اس تقسیم کو مافوق الاسباب مدد اور ماتحت الاسباب مدد کا نام دے کر قبول کررکھا ہے، مگر کیا دیکھتے نہیں کہ ۰۸ گز لمبا اور 40 گز چورا تختِ بلقیس منگوانے کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے شاگرد سے مافوق الاسباب مدد لی تھی (سورۃ نمل، آیت40) یمن سے شام تک کا فاصلہ پلک جھپکنے کی دیر میں طے ہونا ، اتنا وزنی تخت لانا کیا ماتحت الاسباب مدد کے قبیل سے تعلق رکھتا ہے ، ہمارا مخالف بے چارا پریشان ہے کہ ”اے مولا علی اے شیر خدا ، میری کشتی پار لگادینا“ کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ کہاں کشتی کہاں تخت بلقیس ، کہاں دریا کے ایک کنارے سے دوسرا کنارا، کہاں یمن سے شام تک تک کا فاصلہ ، کہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی حضرت آصف برخیااور کہاں حضرت محمد مصطفےٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابی حضرت مولاعلی شیر خدا رضی اﷲ عنہ ، ہمیںمخالفین کے ایمان پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسا ایمان ہے؟
    آیت نمبر 10۔ ”زمین اور آسمان کی بادشاہی اﷲ کے ہی لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے اور بیٹیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے وہ تو جاننے والا اور قدرت والا ہے۔ (سورۃ شوریٰ، آیت 49، 50)
    × یہ حق ہے اور یہ بھی حق ہے کہ دیتا اﷲ ہے مگر دیتا وسیلے اور سبب سے ہے، تمام انبیاءعلیھم السلام کے پاس توحید کا پیغام لانے والا جبریل علیہ السلام حضرت مریم علیہ السلام سے کہتا ہے ”تاکہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں“ ( سورۃ مریم، آیت 19) ، حضرت خضر علیہ السلام جن کی نبوت میں اختلاف ہے وہ فرماتے ہیں کہ فاردنا ان یبد لھما ربھما خیرا منہ (سورۃ الکھف، آیت 81) ”ہم نے ارادہ کیا کہ اُن کا رب اُن کو بہتر اولاد دے“ دیتا اﷲ ہے مگر ارادہ خضر کا ہے، دیتا رب ہے مگر جبریل کے ہاتھ سے دے رہا ہے، ہمارا مخالف بھی آسمان سے نہیں گرایا گیا بلکہ ماں باپ کے واسطے اور وسیلے سے دنیا میں آیا ہے، مخالف کا باپ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے بیوی کے وسیلے کے بغیر بیٹا ملا ہے اور مخالف کی ماں بھی اُمید ہے نہیں کہہ سکتی کہ مجھے شوہر کے وسیلے کے بغیر یہ بیٹا ملا ہے جو محبوبان خدا کے خلاف اشتہار بازی کررہا ہے۔
     
  2. نمرہ

    نمرہ Management

    beshak Allah har chez par qadir ha
    subhan Allah very nice
     
  3. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH Very nice sharing
     
  4. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH Very nice sharing
     
  5. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ اپ کا بہت بہت شکریہ مزید کوشش جاری رکھے
     

Share This Page