1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

میدان تیہ

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    میدان تیہ
    جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور تمام بنی اسرائیل مسلمان ہو گئے اور جب حضرت موسٰی علیہ السلام کو اطمینان نصیب ہو گیا تو اللہ تعالٰی کا حکم ہوا کہ آپ بنی اسرائیل کا لشکر لے کر ارض مقدس ( بیت المقدس ) میں داخل ہو جائیں۔ اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی قوم کا قبضہ تھا جو بدترین کفار تھے اور بہت طاقتور و جنگجو اور نہایت ہی ظالم لوگ تھے۔ چنانچہ
    حضرت موسٰی علیہ السلام چھ لاکھ بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر قوم عمالقہ سے جہاد کیلئے روانہ ہوئے مگر جب بنی اسرائیل بیت المقدس کے قریب پہنچے تو ایک دم بزدل ہو گئے اور کہنے لگے کہ اس شہر میں ‘ جبارین ‘ ( عمالقہ ) ہیں جو بہت ہی زور آور اور زبردست ہیں۔ لٰہذا جب تک یہ لوگ اس شہر میں رہیں گے ہم ہرگز ہرگز شہر میں داخل نہیں ہوں گے بلکہ بنی اسرائیل نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے یہاں تک کہہ دیا کہ اے موسٰی آپ اور آپ کا خدا جاکر اس زبردست قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کی زبان سے یہ سن کر حضرت موسٰی علیہ السلام کو بڑا رنج و صدمہ ہوا اور آپ نے باری تعالٰی کے دربار میں یہ عرض کیا کہ
    رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین ( پ6، المائدۃ: 25 )
    ترجمہ کنزالایمان: اے رب میرے مجھے اختیار نہیں مگر اپنا اور اپنے بھائی کا تو تو ہم کو ان بے حکموں سے جدا رکھ۔
    اس دعا پر اللہ تعالٰی نے اپنے غضب و جلال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ
    فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ج یتیھون فی الارض ط فل تاس علی القوم الفسقین ( پ6، المائدۃ: 26 )
    ترجمہ کنزالایمان: تو وہ زمین ان پر حرام ہے چالیس برس تک بھٹکتے پھریں زمین میں تو تم ان بے حکموں کا افسوس نہ کھاؤ۔
    اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ چھ لاکھ بنی اسرائیل ایک میدان میں چالیس برس تک بھٹکتے رہے مگر اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ اسی میدان کا نام ‘ میدان تیہ ‘ ہے۔ اس میدان میں بنی اسرائیل کے کھانے کیلئے من و سلوٰی نازل ہوا اور پتھر پر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا عصا مار دیا تو پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہو گئے۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے بار بار مختلف عنوانوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے جس میں سے سورہ ء مائدہ میں یہ واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ مذکور ہوا ہے جو بلاشبہ ایک عجیب الشان واقعہ ہے جو بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور شرارتوں کی تعجب خیز اور حیرت انگیز داستان ہے مگر اس کے باوجود بھی حضرت موسٰی علیہ السلام کی محبت و شفقت بنی اسرائیل پر ہمیشہ رہی کہ جب یہ لوگ میدان تیہ میں بھوکے پیاسے ہوئے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے دعا مانگ کر ان لوگوں کے کھانے کیلئے من و سلوٰی نازل کرایا اور پتھر پر عصا مار کر بارہ چشمے جاری کرا دیئے اس سے حضرت موسٰی علیہ السلام کے صبر اور آپ کے حلم اور تحمل کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔​
     
  2. نمرہ

    نمرہ Management

    jazak Allah
     
  3. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH very nice
     
  4. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH very nice
     
  5. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ اپ کا بہت بہت شکریہ مزید کوشش جاری رکھے
     

Share This Page