1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن حفظ کیسے کریں

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Jul 13, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    قرآن حفظ کیسے کریں !
    از قلم: حضرت حافظ قاری عبدالرحیم صاحب

    ارشاد ربانی ہے
    انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون ط
    بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔

    اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی حفاظت جن ذرائع سے کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے ان میں سے ایک سب سے اہم ذریعہ ہے حفظ قرآن مقدس۔ قرآن حکیم کا حفظ کر لینا اتنی بڑی سعادت ہے کہ صرف اس کا تصور کر لینا ہی مشکل امر ہے اس سلسلے میں صرف ایک حدیث پیش کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

    حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن صاحب حفظ قرآن سے کہا جائے گا کہ تم قرآن مقدس کی تلاوت کرتے جاؤ اور ترقی کے منازل طے کرتے جاؤ اور اسی طرح تر تیل کے ساتھ پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں پڑھتے تھے تمہاری آخری منزل وہ ہوگی جہاں تم قرآن مجید کی آخری آیت تلاوت کرو گے۔ (احمد، ابن ماجہ)

    ذیل میں حفظ قرآن کے سلسلے میں چند اہم اصول بیان کئے جاتے ہیں:۔

    حفظ شروع کرنے سے قبل سب سے اہم بات یہ ہے کہ حفظ کرنے والے یا اس کے والدین کو اس بات کا شدت سے احساس ہونا چاہئیے کہ قرآن مجید کو حفظ کرنے کے بعد اس کو یاد رکھنا ضروری اور واجب ہو جاتا ہے۔ حافظ قرآن کو اپنی منزل پختہ رکھنے کے لئے مسلسل اتنا وقت نکالنا ہوگا کہ کئی معاشرتی سرگرمیوں کو خیرباد کہنا پڑے گا اور اپنی سرگرمیوں کو محدود کرکے قرآن کریم کی طرف ہی لانا ہوگا، لیکن قرآن مجید سے اس پختہ تعلق کے باعث جس تفقہ فی الدین اور دوسری برکات سے مستفیض ہوگا، اسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یہ نا ممکن ہے کہ کوئی بچہ والدین کی خاص توجہ کے بغیر ہی قرآن حفظ کرلے اور اس کی منزل درست ہو۔ لٰہذا والدین کو ابتداء ہی سے یہ ذہن بنانا چاہئیے کہ ان کو بچے کی مستقل نگرانی اور رہنمائی کرنی ہوگی، یاد رکھیں حفظ قرآن کے لئے مختص کر رکھا تھا اور اس طرح انہوں نے ایک سال کے قلیل عرصے میں حفظ قرآن مکمل کرلیا۔
    راقم الحروف کے مادر علمی کا دستور ہے کہ طلباء کو حفظ کے لئے فجر کے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے جگایا جاتا ہے۔ لیکن ضروری یہ ہے کہ بچے کو فجر سے قبل جگانے کے لئے جلدی سلا بھی دیا جائے، میں نے اپنے بچوں کی توجہ درج ذیل میں اس جانب مبذول کرائی ہے۔

    حفظ قرآن کرنا ہے تو فجر سے پہلے اٹھنا ہے
    فجر سے پہلے اٹھنا ہے تو دس سے پہلے سونا ہے

    جب آپ حفظ کرنے کا مکمل ارادہ کر لیں تو گناہ اور معصیت کے کاموں سے اجتناب کریں اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ رب العزت کی تائید و نصرت شامل حال ہوگی اور یہ بھی خاص طور سے خیال رکھیں کہ حفظ قرآن کے لئے ہمیشہ ایک ہی مصحف کا استعمال کریں کیونکہ یاد کردہ صفحہ حافظ کے ذہن میں محفوظ ہو جاتا ہے۔
    اس کے علاوہ چونکہ حفظ کے دوران ان اغلاط پر نشان لگانا ضروری ہوتا ہے اس لئے بھی ایک ہی قرآن کا استعمال میں لانا ضروری ہے تاہم ابتدائی دور میں بچوں کے لئے علیحدہ سپارے استعمال کئے جا سکتے ہیں اس حالت میں بھی ایسے سپاروں کا التزام کیا جائے جس کے مطابق ہی قرآن میسر ہوں۔
    اور حفظ قرآن کے لئے ایک ضروری چیز یہ ہے کہ ایسے استاذ کا انتخاب کیا جائے جس کی خود اپنی منزل پختہ ہو جس کی خود اپنی منزل پختہ نہ ہو وہ بچے کی ایسی تربیت نہیں کر سکتا کہ بچے کی منزل پختہ ہوسکے، سب سے بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند میں حفظ قرآن کے ساتھ تشدد کا تصور بندھ چکا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ سخت مار کے بغیر بچے حفظ نہیں کر کستے یہ تصور بالکل بے جا ہے اور بچے کو قرآن سے نفرت دلانے کا سبب ہو سکتا ہے۔

    حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے تو دس سال سے کم عمر بچے کو صلوٰۃ ترک کرنے پر مارنے کی اجازت نہیں دی، جانوروں تک کو سخت مارنے اور منہ پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ جو لوگ بچوں کو بے دردی کے ساتھ زود و کوب کرتے ہیں وہ اللہ رب العزت کے یہاں جواب سوچ رکھیں۔ بسا اوقات سزا کے طور پر کھڑا کر دینے اور اکثر اوقات انعام دے کر بچے کو حفظ پہ مائل کیا جائے، بچوں میں مسابقت کا جذبہ ابھارنے سے بھی آسانی سے حفظ کرایا جا سکتا ہے، جیسے یہ اعلان کیا کہ جو بچہ روزانہ سب سے زیادہ سنائے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ جو سبق یاد کیا جائے اس کو سنا کر تشفی کر لی جائے۔
    آیا اغلاظ سے خالی ہو چکا ہے کسی اچھے قاری کا ریکارڈ شدہ قرآن بھی اس سلسلے میں کافی معاون ہو سکتا ہے، متعلقہ حصہ ٹیپ ریکارڈ سے دو تین مرتبہ سن لینے سے یاد کرنے میں آسانی ہو جائے گا۔ اس طرح ٹیپ ریکارڈ میں سبق ریکارڈ کرکے سننا بھی بہت مفید ہوگا اور اگر آیات کا مفہوم ذہن میں ہو تو حفظ کرنا بالکل آسان ہو جاتا ہے، بعض متشانہ مقامات بھی اس طرح آسانی سے یاد کئے جا سکتے ہیں۔

    حفظ کا عام طریقہ کار یوں ہونا چاہئیے
    شاگرد اپنی استعداد کے مطابق سبق یاد کرکے استاذ کو سنائے، اگر ایک یا دو غلطیاں ہوں تو برداشت کر لی جائیں، لیکن سخت تاکید کر دی جائے کہ دوبارہ درست کرکے سناؤ اور اگر اس سے زیادہ غلطیاں ہوں تو وہی سبق دوبارہ درست کرکے سناؤ اور اگر اس سے زیادہ غلطیاں ہوں تو وہی سبق دوبارہ یاد کرایا جائے اور قطعی اس بات پر خاص توجہ دہ جائے کہ بچے کی بہت تیز پڑھنے کی عادت نہ پڑ جائے۔ ہمیشہ آہستہ سنانے کی عادت ڈالی جائے اور روزانہ کم از کم گزشتہ بیس اسباق پر مشتمل سبقی سپارہ ضرور سنا جائے اور آخری سبق کو سبقی سپارے سے حذف کر دیا جائے، سبقی سپارے کی مقدار کم از کم ایک سپارے پر مشتمل آموختہ سنا جائے اور کم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر پارے کی باری تاخیر سے آئے گی اور اس طرح منزل کی پختگی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گی۔
    عموماً حفاظ کرام مشابہ آیت سے پریشان ہو جاتے ہیں مگر بار بار دہرانے سے ایسے مقامات بھی اچھی طرح سے ذہن میں محفوظ ہو جاتے ہیں آخر وہ محنت ہی تو ہے کہ قراء دس دس قراتوں میں قرآن حکیم حفظ کر لیتے ہیں اور پڑھتے ہیں، قرآن شریف حفظ کرنے کے دوران سب سے پریشان کن مرحلہ وہ ہوتا ہے جب کوئی زیادہ سپارے حفظ کر چکا ہو اور اس کی منزل کچی ہو اس مسئلہ سے تقریباً ہر حافظ کبھی نہ کبھی دوچار ہوتے ہیں اس کا حل ہے ہے:

    (1) عمومی حالت میں آموختہ ایک سپارے سے کم نہ رکھا جائے۔
    (2) اور دو سپارے ہوں تو بہت بہتر ہے تاکہ ہر سپارے کی باری جلدی جلدی آئے اور منزل کا عمومی معیار بہتر ہو جن کی منزل کو وہ بھی ممکن حد تک زیادہ سے زیادہ منزل سنائیں تاکہ ابتدائی بنیادیں مضبوط ہوں اور وہ اس پریشان کن مرحلہ میں اپنا دل نہ چھوڑ بیٹھیں، اگر کوئی حافظ منزل کی کمزوری کے باعث روزانہ ایک یا دو سپارے نہیں سنا سکتا تو فوری طور پر سبق بند کر دیا جائے اور آموختہ کی طرف مکمل توجہ دیں حتٰی کہ جب منزل پختہ ہو جائے پھر دوبارہ سبق شروع کیا جائے، کچی منزل ہونے کے سبب بعض دفعہ معاملہ اتنا بگڑ جاتا ہے کہ اس معاملے کو سنبھالنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ لٰہذا ہر حالت میں منزل کچی نہ ہونے دی جائے۔
    حافظ قرآن کو دور کرنے کی عادت ڈالنی چاہئیے یعنی دو حافظ ملکر اپنی منزل ایک دوسرے کو سنائیں، قرآن کی پختگی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے کہ حفظ کرنے کے بعد دو سپارے یا ایک سپارہ بلاناغہ سنایا جائے۔​
     
  2. نمرہ

    نمرہ Management

    jazak Allah
     
  3. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH very nice
     
  4. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ
     

Share This Page