1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قرآن پاک سات قراتوں میں نازل ہوا

Discussion in 'Quran e Kareem' started by mehwish, Jul 22, 2014.

  1. mehwish

    mehwish Well Wishir

    ]حدیث نمبر : 4991
    حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله، أن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أقرأني جبريل على حرف فراجعته، فلم أزل أستزيده ويزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف ‏"‏‏.‏
    ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبریل علیہ الصلاۃ و السلام نے مجھ کو ( پہلے ) عرب کے ایک ہی محاور ے پر قرآن پڑھایا ۔ میں نے ان سے کہا ( اس میں بہت سختی ہو گی ) میں برابر ان سے کہتا رہا کہ اور محاوروں میں بھی پڑھنے کی اجازت دو ۔ یہاں تک کہ سات محاوروں کی اجازت ملی ۔
    تشریح : سات طریقوں یا سات حرفوں سے سات قرات مراد ہیں۔ جیسے مالک یوم الدین میں ملک یوم الدین اور ملاک یوم الدین مختلف قراتیں ہیں ان سے معانی میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، اس لئے ان ساتوں قراتوں پر قرات قرآن کریم جائز ہے۔ ہاں مشہور عام قرات وہ ہیں جن میں موجودہ قرآن مجید مصحف عثمانی کی شکل میں موجود ہے۔


    حدیث نمبر : 4992
    حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أقرأني جبريل على حرف فراجعته، فلم أزل أستزيده ويزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف ‏"‏‏.‏
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبریل علیہ الصلاۃ و السلام نے مجھ کو ( پہلے ) عرب کے ایک ہی محاور ے پر قرآن پڑھایا ۔ میں نے ان سے کہا ( اس میں بہت سختی ہو گی ) میں برابر ان سے کہتا رہا کہ اور محاوروں میں بھی پڑھنے کی اجازت دو ۔ یہاں تک کہ سات محاوروں کی اجازت ملی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں میں نے ہشام بن حکیم کو سورۃ فرقان نماز میں پڑھتے سنا ، میں نے ان کی قرات کو غور سے سنا تو معلوم ہوا کہ وہ سورت میں ایسے حروف پڑھ رہے ہیں کہ مجھے اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھایا تھا ، قریب تھا کہ میں ان کا سر نماز ہی میں پکڑ لیتا لیکن میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر سے ان کی گردن باندھ کر پوچھا یہ سورت جو میں نے ابھی تمہیں پڑھتے ہوئے سنی ہے ، تمہیں کس نے اس طرح پڑھائی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی طرح پڑھائی ہے ، میں نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو ۔ خود حضور اکرم نے مجھے اس سے مختلف دوسرے حرفوں سے پڑھائی جس طرح تم پڑھ رہے تھے ۔ آخر میں انہیں کھینچتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص سے سورۃ فرقان ایسے حرفوں میں پڑھتے سنی جن کی آپ نے مجھے تعلیم نہیں دی ہے ۔ آپ نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ تم پہلے انہیں چھوڑ دو اور اے ہشام ! تم پڑھ کے سنا ؤ ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ان ہی حرفوں میں پڑھا جن میں میں نے انہیں نماز میں پڑھتے سنا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ پھر فرمایا عمر ! اب تم پڑھ کر سنا ؤ میں نے اس طرح پڑھا جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تعلیم دی تھی ۔ آنحضرت نے اسے بھی سن کر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ۔ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے ۔ پس تمہیں جس طرح آسان ہو پڑھو ۔
     
  2. Jazak Allah.
    Bohat umda sharing.
     
  3. نمرہ

    نمرہ Management

    jazak Allah
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Jazak Allaah
     
  5. JAZAK ALLAH KHAIR
    SADA KHUSH RAHAIN

    [​IMG]

     
  6. jazak allah khair
     
  7. Roohulaminbj

    Roohulaminbj Regular Member

    JazakALLAH very nice
     
  8. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ اپ کا بہت بہت شکریہ مزید کوشش جاری رکھے
     

Share This Page