1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی

Discussion in 'Urdu Shair or Qita' started by mehwish, Aug 2, 2014.

  1. mehwish

    mehwish Well Wishir

    وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
    کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

    ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے
    کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

    روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے
    چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی

    تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت!
    ورنہ دریاؤں سے ملتی تھی روانی اپنی!

    قحطِ پندار کا موسم ہے سنہرے لوگو!
    کچھ تیز کرو اب کے گرانی اپنی

    دشمنوں سے ہی اب غمِ دل کا مداوا مانگیں
    دوستوں نے تو کوئی بات نہ مانی اپنی

    آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
    آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی
     
  2. Net KiNG

    Net KiNG VIP Member

  3. نمرہ

    نمرہ Management

    nice sharing sis
     
  4. عمدہ شئیرنگ
    ہمارے ساتھ شیئر کرنے کا شکریہ
    آپ کی مزید شئیرنگ کاانتظار رہے گا​
     

Share This Page