1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. آئی ٹی استاد عید آفر
    Dismiss Notice

انسان اور قرآن


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Quran e Kareem' started by PakArt, Aug 3, 2014.

Quran e Kareem"/>Aug 3, 2014"/>

Share This Page

  1. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    انسان اور قرآن
    (2)
    متعدد پہلوؤں کی حامل مخلوق

    انسان باوجود ان صفات کے جو اس میں اور دوسری تمام ذی روح مخلوقات میں مشترک ہیں ان سے بہت فاصلے پر بھی ہے ۔انسان ایک مادی اور معنوی وجود کا نام ہے۔ ان تمام مشترکات کے باوجود جو انسان اور دیگر جانداروں میں موجود ہیں کچھ گہرے اور بنیادی فرق بھی ان کے مابین ہیں- جن میں سے ہر ایک اس کے ایک الگ پہلو کو بیان کرتا ہے اور اس کے وجود کی تشکیل میں الگ حیثیت کا حامل ہے۔ یہ فرق تین پہلوؤں پر مبنی ہے:

    ۱۔ اپنا اور دنیا کا ادراک (خود شناسی اور جہان شناسی)


    ۲۔ وہ جذبات جو انسان کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

    ۳۔ جذبات کے زیر اثر آنے کے بعد ان میں سے کسی کا انتخاب۔

    دنیا شناسی کے پہلو سے حیوانی حواس ایسا ذریعہ ہیں جن کے ذریعے وہ دنیا کو پہچانتا ہے اس اعتبار سے انسان دوسرے حیوانات کے ساتھ شریک ہے بلکہ بعض حیوانات کے حواس اس مسئلے میں انسان کے حواس سے زیادہ قوی ہیں لیکن وہ شناخت جو حیوان اور انسان کو بذریعہ حواس حاصل ہوتی ہے۔ سطحی اور ظاہری ہے اور اس کی مدد سے اشیاء کی ذات اور ماہیت کی گہرائی اور ان کے باہمی منطقی روابط معلوم نہیں ہو سکتے۔

    البتہ انسان میں دنیا اور اپنی شناخت و ادراک کے سلسلے میں ایک ایسی پوشیدہ قوت بھی موجود ہے جو دوسرے حیوانات میں موجود نہیں اور وہ قوت شناخت ہے۔ جس کے ذریعے سے وہ دنیا کے کلی قوانین کو کشف کرتا ہے اور عالم کے کلی قوانین کی شناخت اور فطرت کے کلی قوانین کے کشف کرنے کے بعد اسی بنیاد پر فطرت پر غالب آتا ہے۔

    فکری شناخت کا ترکیبی نظام انسانی وجود کا پیچیدہ ترین نظام ہے اگر اس پر صحیح طرح سے غور و فکر کیا جائے تو انسان ہی کی شناخت کے سلسلے میں حیرت و تعجب کے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔ انسان اس قسم کی قوت شناخت کے ذریعے سے ایسے بہت سے حقائق معلوم کر سکتا ہے جن کا علم حواس ظاہری کے ذریعے سے ممکن نہیں ۔بلکہ ماورائے عالم کی شناخت خصوصاً اللہ کی فلسفیانہ شناخت بھی انسان ہی سے مخصوص اس وقت شناخت کی مرہون منت ہے جب کہ جذبات کے لحاظ سے انسان بھی دوسری ذی روح موجودات کی مانند مادی اور فطری جذبات اور خواہشات سے متاثر ہوتا ہے۔ جیسے غذا کی خواہش ،نیند ،جنسی تعلقات اور آرام و آسائش کی طلب وغیرہ۔ البتہ انسان کو اپنی طرف کھینچنے والے جذبات انہی پر منحصر نہیں بلکہ حجم اور وزن سے عاری ایسے غیر مادی یا معنوی جذبات بھی موجود ہیں جو انسان کو اپنی طرف کھینچتے ہیں معنوی جذبات کے وہ اصول جو آج تک شناخت کئے جا چکے ہیں اور جنہیں سب قبول کرتے ہیں۔
    مندرجہ ذیل امور ہیں:

    ۱۔​
    علم و دانائی

    انسان علم و دانائی کا طالب صرف اس لئے نہیں ہے کہ وہ اسے فطرت پر غلبہ دیتے ہیں ۔اور اس کی مادی زندگی میں اس کو نفع پہنچاتے ہیں ۔بلکہ اس کے اندر حقیقت اور تحقیق کی فطری جستجو موجود ہے۔ علم بہتر زندگی بسر کرنے اور اپنے فرائض بہتر طریقے سے انجام دینے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتاً بھی انسان کو مطلوب ہے۔ چنانچہ اگر اسے یہ معلوم ہو کہ ستاروں کے ماوراء بھی کوئی راز ہے جسے جاننا اور نہ جاننا اس کی زندگی پر اثرانداز نہیں ہوتا پھر بھی وہ اس راز کے جاننے کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ فطری طور پر جہالت سے فرار چاہتا ہے اور حصول علم کی جانب بھاگتا ہے۔ لہٰذا علم اور دانائی کا جذبہ وجود انسانی کے معنوی جذبوں میں سے ہے۔

    ۲۔ اخلاقی نیکی

    انسان بعض ایسے کام انجام دیتا ہے جن سے اس کا مقصد نہ تو حصول منفعت ہے اور نہ دفع ضرر ۔بلکہ وہ ایسے کام محض ان احساسات کے زیر اثر انجام دیتا ہے جنہیں اخلاقی احساسات کہا جاتا ہے۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ اس کا یہ فعل انسانیت کا تقاضا ہے۔ فرض کریں کہ ایک شخص سخت حالات میں ایک ایسے بیابان میں کھڑا ہے جہاں اس کے پاس غذا اور سامان سفر باقی نہیں رہا ۔اور اسے ہر لمحے موت کا خطرہ در پیش ہے۔

    اس اثناء میں اچانک وہاں ایک شخص پہنچتا ہے ۔جو اس کی مدد کرتا ہے اور اس کو موت کے یقینی خطرے سے نجات دلاتا ہے ۔پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں اور ایک طویل عرصے تک ایک دوسرے سے نہیں ملتے ۔چنانچہ کئی سال کے بعد جب وہ شخص جو مصیبت میں گرفتار تھا ،اپنے محسن کو ایک تکلیف میں مبتلا دیکھتا ہے۔ اور اسے یاد آتا ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے مجھے موت کے یقینی خطرے سے نجات دلائی تھی ۔تو کیا اس موقع پر اس کا ضمیر اسے کچھ نہیں کہتا؟ کیا اس سے نہیں کہتا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہے؟ آیا یہ نہیں کہتا کہ محسن کا شکر واجب اور لازم ہے؟ جواب یقینا اثبات میں ہے ۔لہٰذا اگر وہ شخص اپنے محسن کی مدد کرے تو دوسرے لوگ کیا کہیں گے؟ اسی طرح اگر وہ بے توجہی سے اپنے محسن کے پاس سے گذر جائے اور اس کی کوئی مدد نہ کرے تو دوسرے لوگ کیا کہیں گے؟

    ظاہر ہے کہ پہلی صورت میں لوگ اس کی تعریف کریں گے ۔اور دوسری صورت میں اس کی مذمت کریں گے۔ یہ جو انسانی ضمیر کہتا ہے کہ

    ھل جزاء الاحسان الا الاحسان

    نیک کا صلہ نیکی ہے۔ (الرحمن ۴۰)​

    لہٰذا نیکی کا بدلہ نیکی سے دینے والے کی تعریف کرنی چاہئے اور اس کے خلاف عمل کرنے والے کی مذمت ہونی چاہئے تو اس کا منبع انسان کا ’’اخلاقی ضمیر‘‘ ہے اور ایسے ہی اعمال کو ’’اخلاقی نیکی‘‘ کہا جاتا ہے۔احسان کا مطلب ہوتا ہے کسی غیر متوازن شے کاتوازن درست کر دینا۔اسے توازن بخش دینا۔

    انسان کے بہت سے کاموں کا معیار یہی ’’اخلاقی نیکی‘‘ ہے اور دوسرے لفظوں میں انسان بہت سے کام اخلاقی قدروں کی وجہ سے کرتا ہے نہ کہ کسی مادی فائدے کی خاطر ۔اور یہ بھی انسان کا خاصہ ہے جس کا تعلق اس کے معنوی پہلو سے ہے ۔اور یہ اس کے معنوی پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ جب کہ دیگر جانداروں میں اس طرح کا کوئی معیار موجود نہیں۔ حیوان کے لئے ’’اخلاقی نیکی‘‘ اور ’’اخلاقی قدریں‘‘ کوئی مفہوم اور معنی نہیں رکھتیں۔

    ۳۔ حسن و جمال​

    انسان کے معنوی پہلوؤں میں سے ایک اور پہلو ’’حسن و جمال‘‘ سے اس کی محبت ہے۔ انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ حسن و جمال سے تشکیل پاتا ہے۔ وہ زندگی کے تمام شعبوں میں ’’حسن و جمال‘‘ کو اہمیت دیتا ہے ۔چنانچہ جب وہ موسم سرما یا موسم گرما کا لباس پہنتا ہے، تو اس کے رنگ کے حسن اور خوبی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ جب رہنے کے لئے وہ اپنا مکان تعمیر کرتا ہے تو وہ اس کی خوبصورتی پر توجہ دیتا ہے ۔یہاں تک کہ جب وہ دسترخوان بھی بچھاتا ہے تو کھانے کے برتنوں دسترخوان پر ان کے لگانے اور برتنوں میں کھانا ڈالنے میں بھی زیبائی کو مد نظر رکھتا ہے۔ بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کا نام اس کا چہرہ اور اس کا لباس بھی خوبصورت ہو۔ اور اس کی لکھائی بھی خوبصورت ہو ۔اس کا شہر اور اس کی سڑکیں اور اس کے سامنے کے مناظر بھی حسین ہوں۔ گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے ہر شعبے پر حسن اور خوبصورتی غالب ہو۔

    البتہ حیوان کے لئے حسن و زیبائی کا کوئی مسئلہ نہیں ۔اسے تو چراگاہ چاہئے چراگاہ خوبصورت ہو یا نہ ہو اس سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔اسی طرح اس کے نزدیک خوبصورت پالان ،خوبصورت طویلہ یا کسی منظر کی خوبصورتی کی کوئی اہمیت نہیں۔

    ۴۔ تقدیس اور عبادت​

    انسانی روح کی پائیدار اور قدیم ترین تجلیوں اور اصلی ترین پہلوؤں میں سے ایک دعا اور عبادت کا احساس ہے ۔انسانی زندگی کے آثار کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس دور میں اور جس مقام پر بھی بشر موجود تھا وہاں دعا اور عبادت کے آثار بھی موجود تھے ۔البتہ اگر کہیں اختلاف ہے تو وہ صرف ’’طریق عبادت‘‘ اور ’’معبود‘‘ میں ہے۔ عبادت کی روش میں کہیں رقص و سرود اور ورد و اذکار کا ایک سلسلہ نظر آتا ہے۔ تو کہیں خضوع اور خشوع کے بلند ترین مناظر اور حمد و ذکر کے رقت آمیز مظاہرے ۔’’معبود‘‘ کے لحاظ سے کہیں لکڑی اور پتھر کے بت نظر آتے ہیں تو کہیں زمان و مکان سے بالاتر ازلی و ابدی ذات ربّانی۔

    پرستش کا تصور اللہ کے پیغمبر نہیں لائے ۔بلکہ انہوں نے انسانوں کو صرف عبادت کی روش اور اس کے آداب سکھائے ہیں ۔اور ان کو غیر خدا کی پرستش یعنی شرک سے منع کیا ہے۔

    مسلم دینی نظریات اور بعض ماہرین علوم دینی(جیسے میکس مولر) کی آراء کے مطابق انسان ابتداء میں موحد تھا ۔اور ربّ ِواحد کی پرستش کرتا تھا۔ بتوں چاند ستاروں یا انسانوں کی پرستش تو راہ راست سے انحراف کی وہ صورتیں ہیں جو بعد میں ظہور میں آئیں ۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ انسان نے عبادت کا آغاز بتوں یا انسانوں یا کسی دوسری مخلوق کی پرستش سے کیا ہو ۔اور تدریجاً تمدن کے تکامل پانے کے ساتھ وہ خدائے واحد کی پرستش پر پہنچا ہو ۔پرستش کا احساس جسے دینی احساس بھی کہا جاتا ہے۔ عام انسانوں میں خود بخود موجود ہوتا ہے۔

    ہم پہلے ’’ایرک فرام‘‘ سے نقل کر چکے ہیں کہ یہ ممکن ہے انسان دوسرے جانداروں یا درختوں یا سونے اور پتھر کے بتوں یا نا دیدہ خداؤں یا کسی روحانی انسان یا شیطانی پیشوا کی پرستش کرے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اجداد ،قوم ،طبقہ، جماعت، دولت اور کامیابی کی پرستش کرے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے اعتقادات کو دینی سمجھتا ہو۔ یا اس کے برعکس سمجھتا ہو کہ وہ کوئی دین نہیں رکھتا۔

    مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہ دین دار ہے یا بے دین؟ مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس دین کا پابند ہے۔ (کتاب ’’جہانی از خود بیگانہ‘‘، ص ۱۰۰)

    علامہ اقبال کے بقول ولیم جیمز کہتا ہے :دراصل دعا کو تحریک ہوتی ہے۔ تو اس لئے کہ نفس انسانی کے کئی مراتب ہیں۔ اور ان کی تہوں میں ایک نفس ِاجتماعی پوشیدہ ہے، جسے اپنا سچا ہمدم (رفیق اعلیٰ) کسی مثالی دنیا ہی میں مل سکتا ہے۔ لہٰذا کتنے انسان ہیں جو ہمیشہ نہیں تو اکثر اس ہمدم ِصادق کی تمنا اپنے سینوں میں لئے پھرتے ہیں اور جس کی بدولت ایک حقیر سا انسان بھی جسے بظاہر لوگوں نے دھتکار رکھا ہو ،محسوس کرتا ہے کہ اس کی ذات بھی عزت و مقام رکھتی ہے۔ (تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ۱۰۵)

    ولیم جیمز نوع انسانی کے تمام افراد میں اس احساس کی موجودگی کو یوں بیان کرتا ہے :جہاں تک یہ احساس کہ ایک اعلیٰ و ارفع ہستی ہمارے اعمال و افعال کو دیکھ رہی ہے بعض لوگوں میں تو بے حد قوی ہو گا اور بعض میں خفیف ۔گو بعض طبیعتوں کی ساخت ہی ایسی ہے کہ ان میں یہ احساس بہ نسبت دوسروں کے زیادہ شدت کے ساتھ جاگزیں ہو۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں جتنا یہ احساس کسی دل میں قوی ہو گا اتنا ہی اسے اپنے مذہب سے ، اپنے دین سےزیادہ گہرا لگاؤ ہو گا۔ لیکن پھر اس کے ساتھ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ جو لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں ۔کیوں کہ تھوڑا ہو یا بہت یہ احساس ان میں بھی موجود ہوتا ہے۔(تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ۱۳۵)

    جب ایک ادیب اپنے افسانوں میں پہلوانوں عالموں اور دینی بزرگوں کو افسانوی ہیرو کی شکل میں پیش کرتا ہے تو اس کی وجہ انسان کی پاکیزگی کا احساس ہی ہوتی ہے وہ یہ چاہتا ہے کہ کوئی ایسی پاکیزہ اور قابل تعریف ہستی ہو جس کی وہ عاشقانہ انداز میں حد سے زیادہ تعریف کرے۔

    دور ِحاضر میں کسی جماعت یا قوم کے بزرگوں کی مبالغہ آمیز تعریف کسی خاص جماعت ،مقصد ،طریقہ ،پرچم یا سرزمین سے عقیدت کا دعویٰ اور ان کے لئے جان قربان کرنے کا جذبہ بھی اسی احساس کا نتیجہ ہے۔

    دعا کا احساس اس کمال ِبرتر کی طرف ایک فطری احساس ہے۔ جس میں کوئی کمی یا نقص نہ ہو اور ایسے جمال کی طرف جس میں بدصورتی نہ ہو۔

    کسی بھی مخلوق کی پرستش ،خواہ کسی بھی صورت میں کیوں نہ ہو ،اصلی راستے سے مذکورہ احساس کے بھٹک جانے کی ایک صورت ہے۔

    انسان عبادت کی حالت میں اپنی محدود قوت کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے مقام سے پرواز کر کے ایک ایسی حقیقی ہستی سے جا ملے جس میں کسی کمی نقص فنا اور محدودیت کی کوئی جھلک نہ ہو۔یعنی وہ ہر طرح سےبے حد مکمل و حسین ہو۔

    دور حاضر کے دانشمند آئن سٹائن کے بقول:ایسی صورت میں انسان بچپن سے ہی انسانی اغراض و مقاصد کی پستی کو سمجھ لیتا ہے اور اسے اس بزرگی اور عظمت کا احساس ہوتا ہے جو مناظر ِفطرت و افکار کے ماوراء موجود ہوتی ہے۔ (دنیائی کہ من می بینم ۵۶)

    علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:دعا ایک ایسا زندہ عمل ہے جس کے ذریعے ہماری چھوٹی شخصیت اپنی حیثیت کو زندگی کے ایک بڑے ’’کل‘‘ میں پا لیتی ہے۔(تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ۱۳۸)

    پرستش اور عبادت انسان میں ایک قوت اور ایک خواہش کی نشاندہی کرتی ہے ۔اور مادی امور کی حدود سے نکل جانے اور ایک بلند اور وسیع افق سے مل جانے کو ممکن بنا دیتی ہے ۔ایسی خواہش اور ایسا عشق انسان کا خاصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پرستش اور دعا روح کا ایک اور معنوی پہلو ہے۔

    لیکن پر کشش چیزوں سے متاثر ہونے اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں بعد میں بات کی جائے گی۔​
     
  2. Silent_Love
    Online

    Silent_Love Guest

    جزک اللہ
    عمدہ شئیرنگ
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا شکریہ​
     
  3. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    jazak Allah very nice.......
     
  4. waqas mughal
    Online

    waqas mughal Guest

    عمدہ شئیرنگ
     
  5. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

  6. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Well Wishir
    • 16/16

    Umda bot achy zabardast
     

Share This Page