1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

رستم زمان گاما پہلوان عظیم پہلوان تھا

Discussion in 'Library' started by نمرہ, Aug 13, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Supper Moderator

    رستم زمان گاما پہلوان عظیم پہلوان تھا . ھندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا. ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والا باٹ دے مارا. گامے کے سر سے خون کے فوارے چھوٹ پڑے. گامے نے سر پر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا. لوگوں نے کہا آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی. گامے نے جواب دیا مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا یہی برداشت نے پہلوان بنایا ھے. میں اس وقت تک پہلوان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی. قوت برداشت میں چین کے بانی ماوزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے وہ پہچھتر سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے ماوزے تنگ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی زبان کا ایک لفظ نہیں بولا انکی قوت برداشت کا اندازہ لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا ہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے پھر مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو دل کھول کر ھنستے تھے
    ھندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی قوت برداشت کا ایک واقع سنایا کرتے تھے. وہ کہتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں
    پہلی کامیابی بیس فٹ کے اژدھے کے ساتھ جنگل میں لڑائی جس میں انہیں جان بچانے کے لیے بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا. دوسری کامیابی خارش تھی خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے اس بیماری کی خبر پھیلی تو اب کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کے لیے آ گیا. یہ بابر کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ بیماری کی حالت میں دشمن کے سامنے جاے بابر نے فوراً شاھی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی کے سامنے بیٹھ گیا وہ آدھا گھنٹہ شبانی کے سامنے بیٹھا رھے پورے جسم پر شدید خارش ھوئ لیکن بابر نے خارش نہیں کی بابر ان دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اور آدھی دنیا کی فتح کو آدھی کامیابی کہتا تھا.
    دنیا میں لیڈرز ھوں سیاستدان ھوں حکمران ھوں یا عام انسان ان کا اصل حسن انکی قوت برداشت ھوتی ھے کوئی غصیلا اور جلد باز شخص ترقی نہیں کرسکتا
    دنیا میں معاشرے قومیں اور ملک وھی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ھوتی ھے جن میں دوسرے انسان کی راے خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی ھمارے ملک ھمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے ھم میں سے ھر شخص ھر وقت کسی نہ کسی سے لڑنے کو تیار بیٹھا ھے شاید قوت برداشت کی یہ کمی ھے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ھوتے ھیں .... غصہ دنیا کے 90% مسائل کی ماں ھے اگر انسان صرف غصہ پر قابو پا لے تو اس کی زندگی کے 90%مسائل ختم ھو سکتے ہیں \
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Very Nice
    Keep it up
     

Share This Page