1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

ایک قانون فطرت


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by نمرہ, Aug 17, 2014.

Hadess Mubarak"/>Aug 17, 2014"/>

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے-اس روایت میں امت محمدی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں وه زوال کا شکار هو گی-اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : یعنی تم ضرور پچهلی امتوں (یہود و نصاری)کی پیروی کرو گے،قدم بہ قدم،یہاں تک کہ اگر وه کسی گوه کے بل میں داخل هوئے ہیں تو تم بهی ضرور اس میں داخل هو جاو گے-

    یہ حدیث ساده طور پر صرف ایک پراسرار پیشن گوئی نہیں ہے،بلکہ اس میں ایک قانون فطرت کا اظہار کیا گیا ہے-یہ قانون فطرت وہی ہے جس کو ڈی جنریشن کہا جاتا ہے-جس طرح افراد کا جسمانی ڈی جنریشن هوتا ہے،اسی طرح قوموں کا روحانی ڈی جنریشن لازمی طور پر هوتا ہے-اس میں کسی امت کا کوئی استثناء نہیں-

    مشاہده بتاتا ہے کہ یہود و نصاری کے اندر بعد کے زمانے میں جو ڈی جنریشن (زوال) آیا تها،وه سب موجوده زمانے میں امت مسلمہ کے اندر پوری طرح آچکا ہے-اس کی چند مثالیں یہ ہیں-مثلا امت مسلمہ کے لیے قرآن میں خیر امت (آل عمران: 110)کا لفظ آیا ہے-اس کو موجوده زمانے کے مسلمانوں نے ٹائٹل آف آنر کا درجہ دے دیا،حالانکہ وه ان کے لیے صرف ٹائٹل آف ڈیوٹی تها-اسی طرح ایمان اپنی حقیقت کے اعتبار سے معرفت (المائده:83) کے هم معنی تها،مگر موجوده زمانے میں اس کو کلمہ گوئی کے هم معنی سمجهہ لیا گیا ہے-اسی طرح نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے خاشعانہ عبادت (الموءمنون:2) کے هم معنی تهی،لیکن موجوده زمانے میں اس کو صرف اعضاء و جوارح کے ذریعے ادا کی جانے والی ایک رسمی عبادت کے هم معنی بنا دیا گیا ہے-قرآن کو اللہ تعالی نے کتاب تدبر (ص:29) کے طور پر نازل کیا تها،لیکن موجوده زمانے کے مسلمانوں میں اس کی حیثیت صرف کتاب تلاوت بن کر ره گئ ہے​
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

  3. naponnamja
    Offline

    naponnamja Superior Member
    • 18/33

  4. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Well Wishir
    • 16/16

    اپ نے بہت ہی اچھی شیرنگ کی ہے اپ کی مذید شیرنگ کا انتظار رے گا اپنی کشش جاری رکھے
     
  5. ғσяυм gυяυ
    Online

    ғσяυм gυяυ Guest

    Jazak ALLAH Khair
     
  6. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Management
    • 36/49

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page