1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

قرآن کی ایک آیت


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Quran e Kareem' started by نمرہ, Aug 17, 2014.

Quran e Kareem"/>Aug 17, 2014"/>

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Regular Member
    • 38/49

    قرآن کی سوره نمبر 89 میں ارشاد هوا ہے : " پس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کو آزماتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے ، تو وه کہتا ہے کہ کہ میرے رب نے مجهے عزت دی- اور جب خدا اس کو آزماتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے ، تو وه کہتا ہے کہ میرے رب نے مجهہ کو ذلیل کر دیا " ( الفجر : 16-15 )-
    اس آیت میں انسان کی ایک کمزوری کا ذکر کیا گیا ہے-جو شخص اس کمزوری کو جانے اور اس پر کنٹرول رکهے ، وه کامیاب هو گا، اور جو شخص اس کمزوری سے بے خبر هو اور اس پر کنٹرول نہ کر سکے ، وه خدا کی اس دنیا میں ناکام هو کر ره جائے گا-
    دنیا میں کسی کے حالات یکساں نہیں رہتے-اس کو کبهی زیاده ملتا ہے اور کبهی کم-دونوں ہی معاملہ خداوند ذوالجلال کے فیصلے کے تحت هوتا ہے-
    مگر انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب اس کو زیاده ملے تو وه اس کو اپنی لیاقت کا نتیجہ سمجهہ لیتا ہے اور اس نفسیات کا شکار هو جاتا ہے جس کو برتر اندازه کہا جاتا ہے-اس کے برعکس ، جب آدمی کو کم ملے تو وه یہ سمجهہ لیتا ہے کہ مجهہ کو نظر انداز کیا گیا ہے اور پهر وه اس نفسیات کا شکار هو جاتا ہے جس کو کم تر اندازه کہا جاتا ہے-
    یہ دونوں ہی قسم کی نفسیات کسی شخص کے لیے قاتل کی حیثیت رکهتی ہیں-جو آدمی اپنا زیاده اندازه کر لے ، وه غیر واقعی طور پر برتری کی نفسیات میں مبتلا هو جائے گا-اس کے برعکس ، جو شخص اپنا کم تر اندازه کرے ، وه غیر واقعی طور پر کم تری کی نفسیات کا شکار هو جائے گا-
    صحیح انسان وه ہے جو ان دونوں قسم کی نفسیات سے اپنے آپ کو بچائے-یہی وه انسان ہے جس کو قرآن میں النفس المطمئنه (الفجر :27)کہا گیا ہے، یعنی ہر صورت میں یکساں حال پر قائم رہنا-​
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

  3. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

  4. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Newbi
    • 16/16

    Umda bot achy zabardast
     

Share This Page