1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

قانون التباس

Discussion in 'Quran e Kareem' started by نمرہ, Aug 20, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    قرآن کی سوره نمبر 6 میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر کے منکرین نے کہا کہ اگر اللہ کو اپنا پیغام ہمارے پاس بهیجنا تها تو وه فرشتے کے ذریعے اپنا پیغام بهیجهتا ، تاکہ ہمیں اس کی حیثیت کے بارے میں شبہہ نہ هو اور هم کسی اشتباه کے بغیر اس کا اقرار کر لیں-اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ اگر اللہ تعالی فرشتے کو پیغمبر کی حیثیت بهیجتا تو اس کو بهی انسان بنا کر بهیجتا اور : وللبسنا علیهم ما یلبسون ( الانعام :9 ) یعنی هم پهر بهی ان کو اسی شبہہ میں ڈال دیتے جس شبہہ میں وه اب پڑے هوئے ہیں-

    یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں، اس آیت میں دراصل اللہ کے عام قانون التباس کو بتایا گیا ہے- اللہ نے انسان کو چوں کہ آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے،اس لیے اس دنیا میں ہمیشہ ہر مرحلے کے ساته ایک شبہہ کا عنصر موجود رہتا ہے-

    یہ موجوده دنیا کے لیے ایک عام قانون ہے کہ یہاں ہر واقعے کے ساته شبہہ کا ایک عنصر شامل رہے-اس دنیا میں ہدایت صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اپنے شعور کو متحرک کر کے شبہہ کے پردے کو پهاڑے،اور شبہہ کے باوجود حقیقت کو کامل یقین کے ساته دریافت کر سکے-

    قانون التباس کا یہ معاملہ تمام پیغمبروں پیغمبروں کے ساته موجود تها- اسی طرح یہ معاملہ قیامت تک ہمیشہ باقی رہے گا-جب بهی کوئی داعی،سچا مصلح اور سچا مجدد اٹهے گا تو اس کی شخصیت کے ساته لازما شبہہ کا یہ عنصر شامل رہے گا،حتی کہ آخری زمانے میں ظاہر هونے والے مہدی اور مسیح کا معاملہ بهی اس سے مستثنی نہیں- مہدی اور مسیح کی شخصیت کے ساته بهی شبہہ کے اسباب لازما موجود رہیں گے-

    پیغمبر کی طرح مہدی اور مسیح کو بهی وہی لوگ پہچانیں گے اور ان کا ساته دیں گے جو شبہہ کے پردے کو پهاڑنے کی نادر صلاحیت رکهتے هوں-اس دنیا کے لیے خدا کا قانون یہ ہے کہ یہاں کوئی اعلی سعادت صرف اس شخص کو ملے جو شبہات سے بلند هو کر سچائی کو پہچانے اور یقین کے ساته اس کا مکمل ساته دے سکے-

    اصل یہ ہے کہ موجوده دنیا آزمائش کے لیے بنائی گئ ہے- اس بنا پر یہاں حقیقتوں کو دو اور دو چار کی طرح نہیں کهولا گیا ہے- یہاں ہر حقیقت کے ساته شبہہ کا عنصر موجود ہے-یہ اصول پیغمبر کے زمانے میں بهی تها اور آئنده بهی قیامت تک باقی رہے گا-

    حدیث میں بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور هو گا- لیکن یاد رکهنا چاہئے کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا معاملہ مزکوره قانون عام سے مستثنی نہیں-

    اس قانون عام کے مطابق،ایسا ہر گز نہیں هو گا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور اس طرح برہنہ انداز میں هو کہ لوگ کسی شبہہ یا کسی مغالطہ کے بغیر ان کو جان لیں اور فورا ان کے معاملے میں اپنے مطلوب رویے کو اختیار کر لیں-دجال اور مہدی اور مسیح کے ساته یقینی طور پر اسی طرح شبہہ کا عنصر موجود رہے گا،جس طرح لوگ اس سے پہلے پیغمبروں کے ساته موجود تها-

    حدیث میں بیان کرده علامتیں بتاتی ہیں کہ قیامت اب بہت قریب ہے-اس اعتبار سے غالبا یہ کہنا درست هو گا کہ دجال اور مہدی اور مسیح کا ظہور هو چکا ہے-

    ضرورت ہے کہ لوگ اس معاملے میں کامل سنجیدگی کے ساته متجسس بنیں اور اپنے ایمانی تقاضوں کو پورا کریں،تاکہ ایسا نہ هو کہ تاریخ کا کاونٹ ڈاون اہنی آخری گنتی پر پہنچ جائے اور فرشتہ اسرافیل قیامت کا صور پهونک دے-

    جب ایسا هو گا تو اس کے بعد کسی کے لیے نہ توبہ کا وقت هو گا اور نہ اعتراف کا-صور اسرافیل سے پہلے تمام حقیقتیں شبہہ کے پردے میں ہیں،صور اسرافیل اس پردے کو پهاڑ دے گا اور اس کے بعد تمام حقیقتیں عیانا سامنے آ جائیں-
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. Nice sharing
     
  4. NAEEM

    NAEEM Regular Member

    nice sharning
     
  5. جزاک الله خیر
    سدا خوش رہیں
     
  6. Asad khan786

    Asad khan786 Well Wishir

    Umda bot achy zabardast
     
  7. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ بہت پیاری شرنگ اپ کا بہت بہت شکریہ
     

Share This Page