1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بنی اسرائیل کے زمانے میں

Discussion in 'History aur Waqiat' started by نمرہ, Aug 26, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰ ؑ کے پاس گئے اور عرض کیا ’’یا کلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔‘‘ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کو جو ستر ہزار کے قریب لوگ تھے ہمراہ لیا اور بستی سے باہر دعا کے لئے آگئے، دعا ہوتی رہی، حاجت روائی جاری رہی مگر بادلوں کا دور دور تک پتا نہ تھا بلکہ سورج کی تپش مزید تیز ہو گئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بڑا تعجب ہُوا، اللہ تعالیٰ سے دعا قبول نہ ہونے کی وجہ پوچھی تو وحی نازل ہوئی ’’تمہارے درمیان ایک ایسا شخص ہے جو گزشتہ چالیس سالوں سے مسلسل میری نافرمانی کر رہا ہے۔

    اے موسیٰ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وہ نکل جائے کیوں کہ اس شخص کی وجہ سے بارش رکی ہوئی ہے اور جب تک وہ باہر نہیں نکلتا بارش نہیں ہو گی۔‘‘ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہوئے اعلان کر دیا کہ ’’جو شخص چالیس سال سے اپنے رب کو ناراض کر رہا ہے، لوگوں میں سے باہر آ جائے، اس کے گناہوں کے سبب ہم بارش سے محروم ہیں۔‘‘ اس گناہگار نے اپنے دائیں بائیں دیکھا، کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا، وہ سمجھ گیا کہ وہی مطلوب ہے۔ سوچا کہ اگر وہ تمام لوگوں کے سامنے باہر نکلا تو بے حد شرمندگی ہو گی اور اس کی جگ ہنسائی ہو گی اور اگر باہر نہ نکلا تو اس کی وجہ سے تمام لوگ بارش سے محروم رہیں گے۔

    اس نے اپنا چہرہ اپنی چادر میں چھپا لیا، اپنے گزشتہ افعال و اعمال پر شرمندہ ہُوا اور یہ دعا کی ’’اے میرے ربّ! تو کتنا کریم ہے کہ میں چالیس سال تک تیری نافرمانی کرتا رہا اور تو مجھے مہلت دیتا رہا اور اب یہاں میں تیرا فرمانبردار بن کر آیا ہوں، میری توبہ قبول فرما اور مجھے ذلت و رسوائی سے بچا لے۔ ابھی اس شخص کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ آسمان سے بادلوں نے برسنا شروع کر دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’یا الہی! آپ نے بارش کیسے برسا دی وہ نافرمان تو مجمع سے باہر نہیں آیا؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اے موسی! جس کی بدولت میں نے بارش روک رکھی تھی اسی کی بدولت اب بارش برسا رہاہوں، اس لئے کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔‘‘ موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’یا اللہ! اس آدمی سے مجھے بھی ملا دے تاکہ اس کو دیکھ لوں۔

    ‘‘ فرمایا ’’موسیٰ! میں نے اس کو اس وقت رسوا اور خوار نہیں کیا جب وہ میری نافرمانی کرتا رہا اور اب جبکہ وہ میرا مطیع اور فرمانبردار بن چکا ہے تو اسے کیسے شرمندہ اور رسوا کر سکتا ہوں؟‘‘

    الله اكبر.​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

  3. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    جزاک اللہ بہت اچھے
     
  4. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Super Moderators


    ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ شیئرنگ ہے
    ہمارے ساتھ شیئر کرنے کے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
    جزاک اللہ خیرا
    __________________
    [/color]
     

Share This Page