1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

ایک وقت تھا


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Library' started by نمرہ, Aug 27, 2014.

Library"/>Aug 27, 2014"/>

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Regular Member
    • 38/49

    ایک وقت تھا جب ملک کے بادشاہ کے اندر عبادت، پرھیزگاری اور دینی سمجھ بوجھ کوٹ کوٹ کر بھری ھوتی تھی۔ آج کے اس گئے گزرے دور میں آدمی ان واقعات کو سنے تو عقل حیران رہ جاتا ھے۔ چنانچہ عقل کو حیران کردینے والا واقعہ سنیے۔
    جب حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کی وفات ھوئی تو کہرام مچ گیا۔ جنازہ تیّار ھوا، ایک بڑے میدان میں لایا گیا۔ بے پناہ لوگ نمازِ جنازہ پڑھنے کے لیے آئے ھوئے تھے۔ انسانوں کا ایک سمندر تھا جو حدِّ نگاہ تک نظر آتا تھا۔ جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، ایک آدمی آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا وکیل ھوں۔ حضرت نے ایک وصیّت کی تھی۔ میں اس مجمعے تک وہ وصیت پہنچانا چاھتا ھوں۔ مجمعے پر سنّاٹا چھا گیا۔ وکیل نے پکار کر کہا۔ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے یہ وصیّت کی کہ میرا جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار خوبیاں ھوں۔
    زندگی میں اس کی تکبیر اولیٰ کبھی قضاء نہ ھوئی ھو۔
    اس کی تہجّد کی نماز کبھی قضا نہ ھوئی ھو۔
    اس نے غیر محرم پر کبھی بھی بری نظر نہ ڈالی ھو۔
    اتنا عبادت گزار ھو کہ اس نے عصر کی سُنّتیں بھی کبھی نہ چھوڑی ھوں۔
    جس شخص میں یہ چار خوبیاں ھوں وہ میرا جنازہ پڑھائے۔ جب یہ بات سنائی گئی تو مجمعے پر ایسا سنّاٹا چھایا کہ جیسے مجمعے کو سانپ سونگھ گیا ھو۔ کافی دیر گزر گئی، کوئی آگے نہ بڑھا۔ آخرکار ایک شخص روتے ھوئے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کے جنازے کے قریب آئے۔ جنازہ سے چادر اٹھائی اور کہا۔ حضرت! آپ خود تو فوت ھوگئے مگر میرا راز فاش کردیا۔
    اس کے بعد بھرے مجمعے کے سامنے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر قسم اُٹھائی کہ میرے اندر یہ چاروں خوبیاں موجود ھیں۔ یہ شخص وقت کا بادشاہ شمس الدین التمش تھا۔
     
  2. PakArt
    Online

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    JazakAllah
     
  4. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

    بہت عمدہ شیئرنگ کی ہے آپ نے .شکریہ
    [​IMG]
     

Share This Page