1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

توبہ اور اِسْتِغْفَار کیا ھے

Discussion in 'Quran e Kareem' started by نمرہ, Aug 27, 2014.

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    توبہ اور اِسْتِغْفَار کیا ھے ؟

    توبہ:

    توبہ گناہوں کی گندگی سے اللہ کے احکام کی فرمانبردای کی طرف ظاہری(قولاً و فعلاً) اور باطنی( دلی) طور پر رجوع کرنے یعنی واپس لوٹنے کو کہتے ہیں۔

    ٭ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
    اور جو توبہ کرے اور اچھا کام کرے تو وہ اللہ کی طرف (وہ) رجوع لایا جو رجوع کا حق تھاo‘‘ (سورۂ فرقان، آیت:71)

    ٭ حضرت عبد ﷲ ابن مسعود رضی ﷲ عنہما سے مروی ھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’(گناہ پر) پشیمان ہونا توبہ ہے۔‘‘

    ٭ پس شریعت میں جو کچھ مذموم (یعنی بُرا، خراب) ہے اسے چھوڑ کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے، پچھلے تمام گناہوں پر نادم و شرمندہ ہو کر ﷲ سے معافی مانگ لے کہ وہ بقیہ زندگی ﷲ کی مرضی کے مطابق بسر کرے گا اور گناہوں کی زندگی سے الگ ہو کر ﷲ کی رحمت و مغفرت کی طرف متوجہ ہو جائے گا اس عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔

    اِسْتِغْفَار:

    ندامتِ قلب کے ساتھ ہمیشہ کے لئے گناہ سے رک جانا توبہ ہے جبکہ ماضی کے گناہوں سے معافی مانگنا ’’استغفار‘‘ ہے۔ ’’توبہ‘‘ اصل ہے جبکہ توبہ کی طرف جانے والا راستہ ’’استغفار‘‘ ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے سورہ ھود میں توبہ سے قبل استغفار کا حکم فرمایا ہے۔

    ٭ ارشادِ ربّانی ہے :
    ’’ سو تم اس سے معافی مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہےo‘‘ (سورۂ هود، آیت:61)

    ٭ گویا گناہوں سے باز آنا، آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا اور صرف ﷲ کی طرف متوجہ ہونا ’’توبہ‘‘ ہے جبکہ ﷲ سے معافی طلب کرنا، گناہوں کی بخشش مانگنا اور بارگاہِ الٰہی میں خوب رو رو کر اپنے مولا کو منانا استغفار ہے۔

    توبہ و استغفار کی اَہمیت و فضیلت:

    ہر وقت گناہوں سے پاک رہنا فرشتوں کی صفت ہے۔ ہمیشہ گناہوں میں غرق رہنا شیطان کی خصلت ہے۔ جبکہ گناہوں پر نادم ہوکر توبہ کرنا اور گناہوں کی راہ چھوڑ کر شاہراہِ ہدایت میں قدم رکھنا اولادِ آدم علیہ السلام کا خاصہ ہے۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ انسانوں کی فطرت میں موجود اعلیٰ تر بلند مقام و مرتبہ تک جانے کی خواہش کی آڑ میں اسے مرتبہ انسانیت سے گرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لئے اس نے مومن بندوں کو قیامت تک گمراہ کرنے کی قسم کھائی ہے۔

    ٭ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    " شیطان نے کہا: اے رب میرے! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) ان (انسانوں) کے لئے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوشنما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ (بے راہ) کروں گا o"
    (سورۃ الحجر، آیت: 39)

    ٭ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث قدسی میں شیطان مردود کی اس قسم کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

    ’’ شیطان نے (بارگاہِ الٰہی میں) کہا : (اے اللہ!) مجھے تیری عزت کی قسم! میں تیرے بندوں کو جب تک ان کی روحیں ان کے جسموں میں باقی رہیں گی گمراہ کرتا رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں انہیں بخشتا رہوں گا۔‘‘
    (أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 29، رقم : 11257)

    اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے :

    ٭ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    ’’مگر جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہےo‘‘
    (سورۂ فرقان، آیت:70)

    ٭ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
    مگر جو لوگ توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں اور (حق کو) ظاہر کریں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی ہوں بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان،o
    (سورة البقرہ،آیت:160)

    ٭ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر کلمہ شہادت پڑھا اور یہ دعا مانگی:

    ’’ اے ﷲ! مجھے خوب توبہ کرنے والوں اور خوب پاک ہونے والوں میں سے بنا دے ۔
    تو اس کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دئیے جائیں گے۔ وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔‘‘ (ترمذی)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توبہ کے بارے میں فرمایا کہ:

    ٭ " آدم (علیہ السلام) کا ہر بیٹا خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو جلدی سے توبہ کر لیتے هیں ۔“ (ترمذی)

    ٭ " گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا هے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں-" (ابن ماجہ)

    ٭ " جب بندہ اپنے گناہ کا (ندامت و شرمندگی کے ساتھ) اعتراف کرتا هے اور پهر توبہ کرتا هے تو الله اس کی توبہ قبول فرماتا هے-" ( بخاری، مسلم)

    ٭ " بے شک الله تعالیٰ اس وقت تک بندے کی توبہ قبول کرتا رہتا هے جب تک موت کی کیفیت طاری نہ هو-" (ترمذی)

    ٭ " جو شخص مغرب سے سورج طلوع هونے (یعنی قیامت آنے) سے پہلے توبہ کریگا الله تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا-" (صحیح مسلم)

    ٭ " اگر تم (اس قدر) گناہ کرتے رہو کہ وہ آسمان کی بلندیوں کو چهونے لگ جائیں اور پهر تم توبہ کرو تو وہ (الله) تمهاری توبہ قبول کرلے گا-" (ابن ماجہ)

    ٭ " جب ایک جوان انسان توبہ کرتا هے تو مشرق سے مغرب تک کے قبرستانوں میں سے چالیس دن تک عذاب ہٹا لیا جاتا هے-" (ابن ماجہ)

    حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ :
    " مجهے اس شخص پر تعجب هوتا هے جو الله تعالیٰ کی رحمت سےنا امید هو بیٹها هے، حالانکہ اس کے پاس استغفار موجود هے، جس کے ذریعے وہ اپنے گناہوں کو معاف کروا سکتا هے-"

    جو لوگ اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے بخشش و مغفرت کا سوال نہیں کرتے اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے توبہ نہیں کرتے ان کے لئے قرآن و سنت میں سخت وعید (سزا کی دھمکی یا وعدہ) آئی ہے۔

    انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم بڑے بڑے اولیاء ﷲ اور اکابرین علیہ الرحمۃ کے بھی یہ معمولات تھے کہ وہ ہمیشہ ﷲ تعالیٰ سے معافی مانگتے رہتے تھے۔

    ٭ بڑے بڑے اکابر اولیاء ﷲ جب درج ذیل آیتِ کریمہ پڑھتے :

    ’’بیشک نیکوکار جنتِ نعمت میں ہوں گے اور بیشک بدکار دوزخ میں ہوں گے۔‘‘
    (سورۂ انفطار، 13، 14)

    تو رو رو کر بے ہوش ہو جاتے کہ معلوم نہیں ہمارا شمار کن لوگوں میں ہوگا ؟

    یہ ﷲ کے ان مقبول بندوں کی حالت ہے جن کی ساری زندگیاں بندگی اور اطاعت (فرمانبرداری) میں گزریں لیکن ادھر ہماری حالت یہ ہے کہ نہ بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ خوف کا احساس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بہت ظالم، غافل اور گنہگار ہیں، ہماری زندگیوں کے شب و روز بغاوت، سرکشی، لالچ اور طلبِ دنیا جیسے شیطانی پھندوں میں الجھے ہوئے ہیں، ہم اپنے نفس کے اسیر ہیں، ان لوگوں کی بندگی اور خوفِ الٰہی کی یہی کیفیت انہیں حیات جاوداں عطا کر گئی۔

    ﷲ والوں سے سبق سیکھ کر ہمیں بھی ہر وقت ﷲ سے معافی مانگتے رہنا چاہئے کیونکہ اسی سے نفس اور قلب کی اصلاح ہوتی ہے، اسی سے ظاہر اور باطن کے احوال درست ہوتے ہیں اور توبہ میں استقامت نصیب ہوتی ہے۔ ﷲ تعالیٰ ہمارے حال پر لطف و کرم فرمائے اور ہمیں ہر لحظہ اپنے حضور معافی مانگتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے!
    آمین ثم آمین
     
  2. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest

  3. waqas mughal
    Offline

    waqas mughal Guest

  4. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

  5. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Well Wishir
    • 16/16

    Umda bot achy zabardast
     
  6. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Management
    • 36/49

    عمدہ بہت پیاری شرنگ اپ کا بہت بہت شکریہ
     

Share This Page