1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حسد کے بجائے دعا

Discussion in 'Library' started by نمرہ, Sep 4, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    لطیفہ ہے کہ ایک غریب دیہاتی تها-وه معاشی اعتبار سے بہت پریشان رہتا تها-کسی شخص نے اس سے کہا کہ تم اکبر بادشاه کے پاس جاو-اس کے پاس بہت پیسہ ہے اور وه ہر مانگنے والے کو دیتا ہے-وه تم کو بهی ضرور دے گا اور تمہارا معاشی مسئلہ حل هو جائے گا-دیہاتی آدمی نے کہا کہ اکبر بادشاه کو کس نے دیا ہے-بتانے والے نے بتایا کہ خدا نے-دیہاتی نے کہا کہ پهر ہم بهی خدا ہی سے کیوں نہ مانگیں-هم اکبر سے کیوں مانگیں-
    اس کے بعد وه ایک روز اپنے گهر سے نکلا اور سنسان جنگل کی طرف چلا گیا-وہاں جا کر اس نے اپنا میلا کپڑا زمین پر بچهایا اور اس پر بیٹهہ کر خدا سے دعا کرنے لگا-اس نے اپنی دیہاتی زبان میں کہا : اے اکبر کو دینے والے، مجهے بهی دیدے-وه اسی طرح دعا کرتا رہا-یہاں تک کہ جب وه فارغ هوا اور اس نے اپنا کپڑا اٹهایا تو اس کے نیچے اشرفیوں کی بهری هوئی تهیلی موجود تهی- یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ ہمارے بڑے بڑے دماغ اور اونچے پڑهے لکهے لوگ اپنے شعور اور کردار کے اعتبار سے اس سطح پر بهی نہیں ہیں جہاں مزکوره دیہاتی آدمی تها-
    آج یہ حالت ہے کہ جب بهی کوئی شخص یہ دیکهتا ہے کہ دوسرا آدمی اس سے بڑهہ گیا ہے، خواه یہ بڑهنا مال کے اعتبار سے هو یاحیثیت کے اعتبار سے، تو فورا وه حسد میں مبتلا هو جاتا ہے-اس کے سینے میں بڑهنے والے آدمی کے خلاف نفرت اور جلن کی کبهی نہ ختم هونے والی آگ بهڑک اٹهتی ہے-حسد اور جلن میں مبتلا هونے والے لوگ اگر یہ سمجهیں کہ کسی کو جو کچهہ ملا ہے وه خدا کے دیئے سے ملا ہے، وہی کم بهی دیتا ہے اور وہی زیاده بهی دیتا ہے،تو وه بهی وہی کریں جو مزکوره دیہاتی نے کیا- وه پانے والے انسان کے بجائے دینے والے خدا کی طرف دوڑیں- وه خدا کو پکارتے هوئے کہیں کہ جس طرح تونے میرے بهائی کو دیا ہے اسی طرح تو مجهے بهی دیدے-اگر لوگوں میں یہ مزاج آ جائے تو سماج کی تمام برائیاں اپنے آپ ختم هو جائیں-
    کسی کی بڑائی کو دیکهہ کر اپنی کمی کا احساس ابهرنا بذات خود ایک فطری جذبہ ہے- اس جذبہ کا رخ اگر خدا کی طرف هو تو وه صحیح ہے اور اگر اس کا رخ آدمی کی طرف هو تو غلط-​
     
  2. بہت عمدہ شیئرنگ کی ہے آپ نے .شکریہ
    [​IMG]
     
  3. KHUBSOORAT SHARING KE LIYE SHUKRIYA
    [​IMG]:mad:​
     
  4. Walikum As Salam
    Bhut Pyari Aur Achi Sharing Ka Mahira Kia Hai
     

Share This Page