1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

عمیرہ احمد کے ناول حاصل سے اقتباس


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by mehwish, Sep 17, 2014.

Urdu Iqtebaas"/>Sep 17, 2014"/>

Share This Page

  1. mehwish
    Offline

    mehwish Newbi
    • 16/16

    [shadow="pink"]"آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے- وہی زندہ کرتا ہے، وہی مارتا ہے-"

    اگلے دن وہ اسے ایک صفحے پر لکھا ہوا سورۃ حدید کا ترجمہ سنا رہی تھی-

    "اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تم جہاں کہیں ہو- وہ تمھارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو- خدا اسے دیکھ رہا ہے-"

    وہ رک گئی تھی- اس نے حدید کو دیکھا تھا، وہ اس سے نظر چرا گیا تھا-

    "اور تم کیسے لوگ ہو کہ خدا پر ایمان نہیں لاتے-" اس کی آواز بے حد نرم تھی- "حالا
    نکہ اس کے پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اس پر ایمان لاؤ اور اگر تم کو باور ہو تو وہ تم سے اس کا عہد بھی لے چکے ہیں-"

    حدید نے اس کی طرف دیکھا تھا، کرسٹینا اس کی طرف متوجہ نہیں تھی-

    "جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کے ایمان کا نور ان کے آگے آگے اور داھنی طرف چل رہا ہے-"

    حدید نے سر جھکا لیا- وہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی-

    "تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو بشارت ہو کہ آج تمہارے لیے بہشتیں ہیں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں، ان میں ہمیشہ رہو گے- یہی بہت بڑی کامیابی ہے- اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں-"

    اس کی آواز بھرا گئی تھی- وہ رک گئی تھی- حدید نے سر اٹھا کر اسے دیکھا- وہ اپنے لرزتے ہوئے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے آنسوؤں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی- اس کے ہاتھ میں لرزش تھی، اس نے کاغذ حدید کی طرف بڑھا دیا-

    "باقی تم پڑھو-" بھیگی آواز میں اس نے کہا تھا-

    "نہیں- میں تم سے سننا چاہتا ہوں-"

    وہ چند لمحے ساکت رہی تھی- پھر جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے بولنے لگی تھی-

    "اس دن منافق مرد اور منافق عورتیں مومنوں سے کہیں گے کہ ہماری طرف نظر کیجئے کہ ہم بھی تمھارے نور سے روشنی حاصل کریں تو ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹ جاؤ-"

    حدید نے اپنے بازوؤں میں چہرہ چھپا لیا تھا-

    "اور وہاں نور تلاش کرو پھر ان کے بیچ ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہو گا- جو اس کے اندرونی جانب ہو تو اس میں تو رحمت ہے اور جو بیرونی جانب ہے اس طرف عذاب ہے تو منافق لوگ مومنوں سے کہیں گے کیا ہم دنیا میں تمھارے ساتھ نہ تھے- وہ لوگ کہیں گے کیوں نہیں مگر تم نے خود اپنے تئیں بلا میں ڈالا اور ہمارے حق میں حوادث کے منتظر رہے اور اسلام میں شک کیا-"

    اس کی آواز اسے اندر تک کاٹ رہی تھی- وہ دوبارہ کبھی کسی کو اپنا چہرہ دکھانا نہیں چاہتا تھا-

    "اور لاحاصل آرزوؤں نے تم کو دھوکہ دیا یہاں تک کہ خدا کا حکم آن پہنچا اور خدا کے بارے میں شیطان دغا باز دغا دیتا رہا تو آج تم سے معاوضہ نہیں لیا جائے گا اور نہ کافروں سے ہی-"

    اس کا پورا وجود موم بن کر پگھل رہا تھا- وہ آھستہ آواز میں بولتی جا رہی تھی-

    "اور نہ کافروں سے ہی قبول کیا جائے گا- تم سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے کہ وہی تمھارے لائق ہے اور وہ بری جگہ ہے اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لائے یہی اپنے پروردگار کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں ان کے لیے ان کے اعمال کا صلہ ہو گا اور جن لوگوں نے کفر کیا اور تمہاری آیتوں کو جھٹلایا وہی اہل دوزخ ہیں- وہ تمھارے لیے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے وہ تم کو بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے-"

    وہ خاموش ہو گئی تھی- حدید بازوؤں میں سر چھپائے بیٹھا رہا- چاروں طرف ایک عجیب سا سناٹا پھیلا ہوا تھا- ہوا سے ہلنے والے پتوں کی سرسراہٹ کے علاوہ وہاں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا-

    بہت دیر بعد حدید نے سر اٹھایا تھا- کرسٹینا نے اس کے چہرے کو آنسوؤں سے تر دیکھا تھا-

    "اگر میں واپس جانا چاہوں تو؟ اگر مجھے ----- اگر مجھے اپنے کیے پر افسوس ہو تو؟ الله سے معافی مانگنا چاہوں تو؟ اگر ----- اگر میں پچھتاوے کا اظہار کروں تو ---؟ تو کیا ہو گا کرسٹینا، کیا الله مجھے معاف کر دے گا؟"

    اس نے لڑکھڑاتی آواز میں اس سے پوچھا تھا-

    "ہاں- وہ تمہیں معاف کر دے گا وہ تمھارے لیے روشنی کر دے گا جس میں چلو گے اور تمہیں بخش دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے-"

    "تو میں، میں دوبارہ کبھی یہ گناہ نہیں کروں گا- میں دوبارہ کبھی یہ سب نہیں کروں گا- میں مرتے دن تک مسلمان ہی رہوں گا- میں اب کسی چیز کے گم ہونے پر خدا سے شکوہ نہیں کروں گا- بس تم میرے لیے الله سے دعا کرنا کہ وہ مجھے معاف کر دے-"

    وہ بھرائی آواز میں کہتا گیا تھا-

    تحریر: عمیرہ احمد
    اقتباس: حاصل[/shadow]
     
  2. waqas mughal
    Online

    waqas mughal Guest

    Umdah sharing Jazak Allah
     
  3. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    JazakAllah
     

Share This Page