1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Oct 13, 2014.


  1. تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔جب بھی وہ توبہ کرتا،اسے توڑ دیتا یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
    اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی،میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سخت ناراض ہوں۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللّہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔وہاں جا کر بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی،اے ربّ ذوالجلال!
    " تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندّوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟تیرے عفو و درگزر سے کون سا گناہ بڑا ہے؟تُو کریم ہے،میں بخیل ہوں،کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟اگر تُو نے اپنے بندّوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی ھے اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔ "
    اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا،جاؤ اور میرے بندّے سے کہہ دو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
    مُکاشِفۃُ القلُوب ,صفحہ 170،171
    حضرت امام غزالی رحمتہ اللّہ علیہ
    عدل ’’کرے‘‘ تے تھر تھر کنبن اچُیاں شاناں والے
    فضل ’’کرے‘‘ تے بخشے جاون میں جئے منہ کالے



     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    جزاک اللہ خیرا​
     

Share This Page