1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

حضرت موسیٰ علیہ السلام

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Oct 23, 2014.

Share This Page

  1. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest


    حضرت موسیٰ علیہ السلام

    حضرت موسیٰ علیہ السلام دودھ پینے کے زمانے میں تو اپنی والدہ ھی کے پاس رھے اور دربارِ فرعون سے اُن کو دودھ پلانے کا وظیفہ اور صلہ ملتا رھا لیکن جب دودھ چھڑایا گیا تو فرعون اور اس کی بیوی حضرت آسیہ نے ان کو اپنا بیٹا بنالیا تھا اس لئے والدہ سے واپس لے کر اپنے یہاں پالنے لگے..
    اسی عرصہ میں ایک روز حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا.. اور بعض روایات میں ھے کہ ایک چھڑی ھاتھ میں تھی جس سے کھیل رھے تھے وہ فرعون کے سر پر ماری..
    فرعون کو غصہ آیا اور اس نے قتل کرنے کا ارادہ کرلیا.. بیوی حضرت آسیہ نے کہا کہ شاھا ! آپ بچے کی بات پر خیال کرتے ھیں جس کو کسی چیز کی عقل نہیں.. اور اگر آپ چاھیں تو تجربہ کرلیں کہ اس کو کسی بھلے بُرے کا امتیاز نہیں..
    اس نے فرعون کو تجربہ کرانے کے لئے ایک طشت میں آگ کے انگارے اور دوسرے میں جواھرات لا کر حضرت موسی علیہ السلام کے سامنے رکھ دئیے.. خیال یہ تھا کہ بچہ ھے یہ بچوں کی عادت کے مطابق آگ کے انگارے کو روشن خوبصورت سمجھ کر اُس کی طرف ھاتھ بڑھائے گا.. جواھرات کی رونق بچوں کی نظر میں ایسی نہیں ھوتی کہ اس طرف توجہ دیں.. اس سے فرعون کو تجربہ ھو جائے گا کہ اس نے جو کچھ کیا وہ بچپن کی نادانی سے کیا..
    مگر یہاں تو کوئی عام بچہ نہیں تھا.. اللہ تعالےٰ کا ھونے والا رسول تھا جن کی فطرت اول پیدائش سے ھی غیر معمولی ھوتی ھے..
    حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ کے بجائے جواھرات پر ھاتھ ڈالنا چاھا مگر حضرت جبرئیل امین نے اُن کا ھاتھ آگ کے طشت میں ڈال دیا اور انھوں نے آگ کا انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا جس سے زبان جل گئی.. فرعون کو یقین آگیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ عمل کسی شرارت سے نہیں ' بچپن کی بےخبری کے سبب سے تھا..
    اسی واقعہ سے حضرت موسی علیہ السلام کی زبان میں ایک قسم کی تکلیف (لکنت) پیدا ھو گئی.. اسی کو قرآن میں "عقدہ" کہا گیا ھے اور اسی کو کھولنے کی دُعا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مانگی..
    "مظہری و قرطبی بحوالہ معارف القرآن.. " مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب
    قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِيْ صَدْرِيْ..
    (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) کہا.. اے میرے پروردگار ! میرا سینہ میرے لئے کھول دے..
    وَيَسِّرْ لِيْٓ اَمْرِيْ..
    اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے..
    وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِيْ..
    اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے..
    يَفْقَـــهُوْا قَوْلِيْ..
    تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں..
    (سورۃ طہٰ : 25-28)



     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

  3. Ahmad ali
    Offline

    Ahmad ali New Member
    • 1/8

  4. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Management
    • 36/49

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page