1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

اس نے کہا:


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by نمرہ, Oct 27, 2014.

Urdu Iqtebaas"/>Oct 27, 2014"/>

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Regular Member
    • 38/49

    اس نے کہا: کبھی انسان سانس لیتا ہے، اور زندوں میں شمار ہوتا ہے، اور کبھی کبھی انسان کی سانس بھی چل رہی ہوتی ہے، لیکن وہ مر چکا ہوتا ہے۔ جانتے ہو کیوں؟؟؟
    میں نے کہا: "نہیں"

    اس نے کہا: کیوں کے اس کا اندر اس وقت مر چکا ہوتا ہے، وہ اندر سے چکنا چور ہو چکا ہوتا ہے، اس کے اندر ایک طوفان بپا ہوتا ہے، جو اس کے سوا کسی کو نظر نہیں آ رہا ہوتا۔

    میں نے کہا: ہاں! یہ اندر سے ٹوٹنے کا عمل ہی مایوسی کی انتہا ہوتی ہے، جہاں اس کو کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا، اپنا رب بھی نہیں۔

    اس نے کہا: یہ مایوسی نہیں، یہ خواہش کا ختم ہو جانا ہے،۔۔
    میں نے کہا: ٹوٹ جانا مایوسی ہی ہوتی ہے، ہاں اندر سے مضبوط ہو جانا، ضرور خواہشات کا ختم ہو جانا ہوتا ہے۔

    اس نے کہا: تو پھر کبھی انسان کی اندر کی توڑ پھوڑ بھی تو انسان کو خواہشات سے دور کر دیتی ہیں۔

    میں نے کہا: نہیں، جب تک یہ ٹوٹ بٹوٹ کا عمل جاری رہتا ہے، انسان مایوس سے مایوس تر ہوتا جاتا ہے، وہ خواہشات کا ختم ہونا نہین، بلکہ اکتا جانا کہلاتا ہے، اور جب یہ ٹوٹ بٹوٹ ختم ہو جاتی ہے، تو پھر کچھ کرنے کا عزم جاری ہوتا ہے، کچھ ایسا کرنے کا جس کو زوال نہ ہو، اور وہ رب کریم کی ذات ہوتی ہے، جس کو پانے کی خواہش جنم لیتی ہے، تو پھر آپ کا اندر مضبوط ہونے لگتا ہے، پھر آپ کی ساری خواہشات ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے، کیونکہ آپ دنیا والوں کی حقیقت جان چکے ہوتے ہو، شاید آپ کوئی ٹھوکر کھا چکے ہوتے ہو، اور وہ خواہشات کا ختم ہونا ہی، دنیا سے بغاوت کا اعلان ہوتا ہے، اور اپنے نفس کو پہچاننے کے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔۔ جہاں بندہ اپنے کمال کے ساتھ، پورے جلال کے ساتھ کامل بن کر چیخ رہا ہوتا ہے، اور اس کی چیخ سنی جا رہی ہوتی ہے۔۔
    وہ پکارتا ہے۔ اللہ۔۔۔۔ اندر سے آواز آتی ہے، ہاں میرے بندے۔ بول ۔۔۔

    (بندۂ کامل سے اقتباس)
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Regular Member
    • 38/49

    Bohat Khoob
    Share karne ke liye shukriya
     
  3. PRINCE SHAAN
    Online

    PRINCE SHAAN Guest

    BOHAT KHOOB...ACHI SHARING HAI
    [​IMG]

     
  4. نگار
    Offline

    نگار Regular Member
    • 36/49

    اس خوبصورت شیئرنگ کے لیے آپکا بہت بہت شکریہ
     

Share This Page