1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

گیارہ عادتیں جو زندگی کر دیتی ہیں مختصر

Discussion in 'General Knowledge' started by نگار, Oct 30, 2014.

Share This Page

  1. نگار
    Offline

    نگار Cruise Member
    • 36/49

    خراب غذائی عادات
    جنک یا فاسٹ فوڈ کا استعمال بہت عام ہوگیا ہے جو مختلف امراض کا سبب بن کر قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے، طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کم چینی اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں صحت کیلئے بہترین ثابت ہوتی ہیں، جبکہ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سبزیوں و پھلوں کا استعمال طویل زندگی کا سبب بنتا ہے۔
    کولیسٹرول چیک نہ کرنا
    ہائی بلڈ پریشر کی طرح ہائی کولیسٹرول بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تو اپنے کولیسٹرول کا چیک اپ کرانا معمول بنالینا ایک اچھا خیال ہے خاص طور پر اگر آپ زیادہ چربی والی خوراک اور کولڈ ڈرنکس وغیرہ کے شوقین ہیں تو۔
    کچھ مخصوص غذائیں جیسے مٹر یا مونگ پھلی وغیرہ فائبر اور انٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتی ہیں جو کولیسٹرول کی شرح رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
    ممنوعہ یا بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے ادویات کا استعمال
    نیند کی ادویات کا ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر استعمال جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
    ذیابیطس سے بے خبر رہنا
    ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد میں سالانہ لاکھوں کا اضافہ ہوتا ہے اور لگ بھگ ہر پانچ میں سے ایک شخص اس کا شکار ہے۔
    اس جان لیوا مرض کے باعث بنیائی ختم ہونے، جسمانی اعضاءسے محرومی اور خون کی رگیں جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کے دورے اور فالج کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
    خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے آپ ہر چھ ماہ یا سالانہ بنیادوں پر اس مرض میں مبتلا ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں۔
    موٹاپا
    موٹاپا اس وقت ایک عالمی وباء کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے کیساتھ ہمارے میٹابولزم سست ہوجاتا ہے اور کیلیوریز جلنے کی تعداد کم ہوجاتی ہے، اگر ہم اپنی غذائی اور ورزش کی عادات میں تبدیلی نہ لائیں تو جسمانی وزن بڑھنا لازمی ہوجاتا ہے۔
    موٹاپا ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر متعدد جان لیوا امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اپنے جسمانی وزن میں صرف دس فیصد کمی لانا ہی طبی فوائد کا باعث بنتا ہے تو اسے اپنا مقصد بنالینا ہی بہتر ہے۔
    دل کے دورے کے اشاروں کو نظرانداز کرنا
    سینے میں درد نہ ہونے کا مطلب دل کا دورہ نہ ہونا نہیں ہے۔ خواتین کو اکثر دل کے دورے بدہضمی اور تھکان کے باعث پڑتے ہیں، جبکہ مردوں کو سینے کے درمیان درد کا احساس ہوتا ہے جو گردن، کندھوں یا جبڑے تک پھیل جاتا ہے۔
    کم نیند
    آج کل اوسطاً ہر فرد ایک ماہ میں تیرہ راتیں مکمل نیند نہیں لے پاتا، اگرچہ یہ جان لیوا تو نہیں مگر جب آپ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ گاڑی چلارہے ہو تو آپ خود کو اور دیگر افراد کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں، کیونکہ توجہ نہ ہونا اور سست ردعمل عمل حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔
    ورزش سے گریز
    صحت مند رہنے کیلئے ہفتے میں دو بار مسلز مضبوط کرنے والی ورزش کرنا ضروری ہے، اس کے ساتھ سات روز میں ڈھائی گھنٹے کی عام سرگرمیاں جیسے چہل قدمی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
    ہفتے میں تین بار چہل قدمی سے دماغ کے یاداشت کو کنٹرول کرنے والے حصوں کا حجم بڑھتا ہے، جس سے بڑھاپے میں یاداشت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔
    بہت زیادہ ذہنی بوجھ
    اکثر افراد اپنے کندھوں پر خاندان، دفتر اور دوستوں وغیرہ کی ذمہ داریاں اٹھالیتے ہیں، جس سے ہمارے ذہن بہت بری متاثر ہوتے ہیں اور تناﺅ و مایوسی جیسے ذہنی امراض زندگی سے دلچسپی ختم کردیتے ہیں۔
    توند
    یہ اضافی وزن نہیں جو ہم لیکر گھومتے ہیں بلکہ یہ ہمارے پیٹ میں چربی کا بہت زیادہ بڑھ جانا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ توند یا چربی کا یہ ذخیرہ مجموعی صحت کیلئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔
    تمباکو نوشی
    تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں اور اس عادت کو اپنانا مختلف قسم کے کینسر اور دیگر امراض کا سبب بن کر جلد زندگی کا خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

  3. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    boht achi sharing ki hai.. shukriya
    lakin kashhhhh is par koi amal b karin ....
     
  4. نگار
    Offline

    نگار Cruise Member
    • 36/49

    جہاں لفظ کاش آ جائے تو سمجھ لینا چاہیئے کہ کام نا ممکن ہے

    پسندیدگی پہ آپ دونوں کا بہت بہت شکریہ
     
  5. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    koi kam na mumkin nahi hota hum log karna nahi chahte isliye us ko na mumkin bana laite hai...
     
  6. نگار
    Offline

    نگار Cruise Member
    • 36/49

    یہاں دو باتیں ہیں میڈم جی
    کاش تب انسان کہتا ہے جب اس کے دل کا زور ختم ہو جائے اور وہ نا امید ہو جائے
    دوسری بات اگر ہم کو یقین ہے کہ نا ممکن نہیں تو پھر کاش کہنا کیا محض ہماری بیوقوفی ہو سکتی ہے یا نادانی ؟؟
     
  7. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    naii je kash hum khud k liye nai hamesha dosre insan k liye use karte hai q k un par hamra bas nai chalta ab is ko ab dill ka zor na ho wo samjho ya jo b ap ki apni soch
     
  8. نگار
    Offline

    نگار Cruise Member
    • 36/49

    اگر ایسی ہی بات ہے کہ ہم کو اتنا معلوم ہے کہ یہ کام یا وہ کام ہم کر سکتے ہیں تو پھر کاش کیوں ؟؟
    شکایت کس سے ؟؟؟
    جب کہ سب اپنے ہاتھ میں ہے کسی ایک وجہ سے جو ہم کر بھی سکتے ہیں زندگی ادھوری ہے تو کرتے کیوں نہیں ؟؟؟
    کیا بس کاش کہنا اس کا حل ہے ؟؟
     
  9. نگار
    Offline

    نگار Cruise Member
    • 36/49

    بس نہیں چلتا مطلب کام نا ممکن ہے نا ؟؟؟؟
     
  10. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    nai na mumkin kaisa apni liye to na mumkin nai hai na har koi agr khud amal kare to na mumkin kaisa...?
     

Share This Page