1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

چوٹیاری ڈیم

Discussion in 'Proud To Be Pakistani' started by PRINCE SHAAN, Nov 5, 2014.


  1. [​IMG]
    فوٹو اور تحریرفاروق سومرو اور محسن علی سومرو


    یہ ہمارا چوٹیاری ڈیم کا تیسرا دورہ تھا اور ہم تاحال اس جگہ کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جان سکے تھے، اس 'گزرگاہ' میں کچھ ایسا اسرار چھپا ہوا ہے جو آپ کو یہاں بار بار آنے پر مجبور کرتا ہے۔
    ہم جب یہاں پہلی بار آئے تو یہاں کے نایاب ماحولیاتی مناظر نے ہمیں حیرت زدہ کردیا تھا اور دوسری بار یہاں رات کو آلودگی سے پاک آسمان کو دیکھ کر ہمیں لگا جیسے ہم ایلس ان ونڈرلینڈ جیسی کسی جگہ پر پہنچ گئے ہیں، اس وقت کی بہرہ کردینے والے خاموشی اور تنہائی نے اس دورے کو خاص بنادیا تھا۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]

    چوٹیاری میں فطرت اپنے عروج پر نظر آتی ہے، ہجرت کرنے والے پرندوں کی پناہ گاہ، ستاروں کے سحر میں گرفتار افراد کے لیے جنت، مختلف اقسام کی مچھلیوں کا گھر، یہ ڈیم نایاب ماحولیاتی نظام کی میزبانی کرتا ہے جو دلدلی علاقے، مگرمچھوں، جنگی سور، ہجرت کرکے آنے والے پرندوں، جھیلوں اور جھاڑیوں پر مشتمل ہے۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]

    جنگلی حیات کی گہرائی میں جانے، ستاروں سے جگمگاتے آسمان کے نیچے سونے اور ستاروں کے متعدد جھرمٹوں کی شناخت دلچسپ مشغلہ ثابت ہوتا ہے، مختلف ثقافتوں کی شناخت مختلف انداز میں ہوتی ہے اور انہیں پسندیدگی ڈاٹس کے ذریعے ظاہر کی جاتی ہے، خود کو بھی اس عمل سے گزارے جو یہاں کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔
    چوٹیاری ڈیم نارا کینیال کے اختتام پر سانگھڑ کے شمال مشرق میں اچھرو شہر کے قریب واقع ہے(اسے صحرائے تھر کا دورازہ بھی کہا جاتا ہے)، ، چوٹیاری کی تعمیر حکومت اور عالمی بینک کی مستحکم ماحولیاتی حکمت عملی(1989) کا نتیجہ تھی تاکہ کاشت کے لیے علاقے کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
    تاہم پانی ذخیرہ کرنے کے لیے اس مقام کی تعمیر نوے کی دہائی کے آخر میں مکمل ہوئی جس کا بنیادی مقصد پانی کا ذخیرہ اور صحرائے تھر میں کاشتکاری تھا۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    اس ڈیم کی تعمیر سے پہلے یہ مقام چھ قدرتی جھیلوں باقر، اخنواری، تاجار، پھیلولی، سری اور سونارو کا گھر تھا، یہ جھیلیں نارا کینیال کے آخری ٹربیونز کو پانی فراہم کرتی تھیں، اس کے علاوہ یہاں تاریخی و لیجنڈری ماکھی جنگل واقع ہے، اس علاقے کا موسم بہت گرم ہوتا ہے اسی وجہ سے یہاں حیاتیاتی طور پر کافی تنوع نظر آتا ہے اور اس کی وجہ صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ یہاں کا پیچیدہ ماحولیاتی نظام ہے۔
    چوٹیاری ڈیم چودہ بڑے اور انیس چھوٹے ممالیہ جانور، 109 اقسام کے پرندوں، رینگنے والے کیڑوں سمیت پانی و خشکی میں پائے جانے والے جانوروں کی 58 اقسام اور تازہ پانی کی مچھلیوں کی 53 اقسام کا گھر ہے، اس کے علاوہ یہ ایسے خاتمے سے دوچار جانوروں کا بھی مسکن ہے جنھیں آئی یو سی این کی ریڈ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]

    چوٹیاری ڈیم تک دو اطراف سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے، ایک راستہ جامشورہ ہیڈ(مقامی طور پر منڈ جامرو پکارا جاتا ہے) سے آتا ہے جو نوابشاہ شہر سے اسی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے سڑک کے ذریعے رنتو کینال کے پاس سے گزرا جاتا ہے جو نارا کینال کا حصہ ہے، جبکہ دوسرا راستہ سانگھڑ شہر آتا ہے جس سے پہلے اچھرو پہنچا جاتا ہے اور وہاں سے چوٹیاری ڈیم۔
    جامشورو ہیڈ چوٹیاری کے دلدلی علاقے کا بھی حصہ ہے حالانکہ یہ ڈیم منڈ جامرو سے تیس کلومیٹر دور واقع ہے، جامشورو ہیڈ آبپاشی کا ایک ہیڈورک ہے جہاں نارا کینیال جامشورو اور رنتو کینال میں تقسیم ہوتا ہے، یہ جگہ کافی تاریخی اہمیت رکھتی ہے، پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ہاکھڑا(دریائے سرسوتی کے ڈیلٹا) کا حصہ تھا، تاریخ دانوں کا اندازہ ہے کہ جامشورو ہیڈ کا علاقہ ستر عیسوی میں اس دریا کے ڈیلٹا میں شامل تھا تاہم اس کے بعد یہ دریا نامعلوم وجوہات کی بناءپر خشک ہوگیا۔
    اس کے علاوہ یہاں اس زمانے میں ایک اور بڑی جھیل "کھپرو جھیل" واقع تھی جہاں آج چوٹیاری ڈیم موجود ہے، اسی طرح جامشورو ہیڈ برصغیر میں آبپاشی کے نظام والے اولین علاقوں میں شامل ہے جو 1899 میں تعمیر کیا گیا اور آج بھی اس وقت کی نصب کی گئی افتتاحی تختی یہاں موجود ہے۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]

    یہاں سے ہمیں کچے روڈ پر سفر کرکے چوٹیاری کے کنارے پر پہنچنے میں لگ بھگ ایک گھنٹہ لگ گیا، ہم نے اپنی گاڑیاں وہاں کھڑی کیں اور دس میٹر بلند پشتے پر چڑھ گئے، اس کی دوسری طرف ہم نے کشتیوں کو دیکھا جو لگتا تھا کہ ہمیں اس جزیرے پر لے جانے کے کھڑی تھیں جہاں ہم رات گزارنا چاہتے تھے۔
    وہ سردیوں کی رات تھی تاہم ڈیم کے اندر موسم خوشگوار تھا، کشتیوں سے نکل کر ہم پیدل چل کر جزیرے کے سب سے بڑے ریت کے ٹیلے تک پہنچے اور اس کے اوپر ہمیں ایک ہٹ ملا جہاں آرام کیا جاسکتا تھا۔
    یہ چھپر نما ہٹ دروازے سے محروم تھا اور لگتا تھا جیسے کسی دیہاتی کے مویشی یا سامان رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، مگر یہاں گرم رضائیاں اور الاﺅ کی سہولت موجود تھی، ایک مقامی سازندے نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس رات کو یادگار بنادیا۔


    [​IMG]


    [​IMG]

    اگلی صبح ہم واپس اپنی کشتیوں کے پاس پہنچے جہاں پرندوں کو دیکھنے کے شوقین دو کشتیوں میں تقسیم ہوگئے، جیسا ہم نے پہلے بتایا کہ یہ علاقہ جھیلوں، ریت کے ٹیلوں، دلدلی حصوں جیسا منفرد نظام رکھتا ہے اور جب ہم چھوٹے جزیروں کے پاس سے گزر رہے تھے تو سب ڈیم کے اندر سب واضح نظر آرہا تھا جیسے پرانے درخت اور دلدلی علاقہ وغیرہ۔
    ہمارے ایک میزبان جو شکاری پارٹیوں کو گائیڈ بھی کرتے ہیں، نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ہجرت کرکے آنے والے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم صرف بیس اقسام کے ہی یہ پردیسی پرندے دیکھ پائے، اس کمی کی اصل وجہ بے تحاشہ شکار اور ان کے رہنے کی جگہ محدود ہونا ہے جو پشتوں کی تعمیر کے باعث دلدلی نظام اور پانی کے ذخیرے کے علاقے سے کٹ گئی ہے۔


    [​IMG]


    [​IMG]


    [​IMG]


    سہ پہر کو ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا مگر بدقسمتی سے ایک کشتی پانی کے درمیان میں رک گئی، تفصیلی معائنے کے بعد ملاح نے کشتی کے موٹر کو جام قرار دے دیا جو اب مزید چلنے سے قاصر تھی، یہ ایک مشکل لمحہ تھا کیونکہ ہم جنگلی جانوروں کے درمیان تنہا رہ گئے تھے، ہم جنگلی سوروں کی چنگھاڑیں سن سکتے تھے جو اپنے علاقے میں ہماری آمد پر غصے میں تھے، مگر جلد ہی ملاح نے ایک چھوٹی مقامی کشتی کو ڈھونڈ لیا جو ہمیں ہماری منزل کی جانب لے گئی۔
    اہم مشورہ: اس علاقے میں کبھی بھی گرمیوں میں نہ جائیں کیونکہ دلدلی حصے میں مچھروں کے جھنڈ آپ کی زندگی کو قابل رحم بناسکتے ہیں۔
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Bohat Khoob
     

Share This Page