1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بیس پیسے کا اسلام

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by نگار, Nov 6, 2014.

  1. نگار

    نگار Cruise Member

    سالوں پہلے کی بات ہے جب ایک امام مسجد صاحب روزگار کیلئے برطانیہ کے شہر لندن پُہنچے تو روازانہ گھر سے مسجد جانے کیلئے بس پر سوار ہونا اُنکا معمول بن گیا۔لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔

    ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس پر سوار ہوئے، ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لیکر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی کے پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھے تو پتہ چلا کہ بیس پنس زیادہ آگئے ہیں۔امام صاحب سوچ میں پڑ گئے، پھر اپنے آپ سے کہا کہ یہ بیس پنس وہ اترتے ہوئے ڈرائیور کو واپس کر دیں گے کیونکہ یہ اُن کا حق نہیں ۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ بھول جاؤ ان تھوڑے سے پیسوں کو۔ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے!!!ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں پاؤنڈ کماتی بھی تو ہے، ان تھوڑے سے پیسوں سے اُن کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا؟ میں چپ ہی رہتا ہوں۔

    بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رُکی تو امام صاحب نے اُترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پنس واپس کرتے ہوئے کہا؛ یہ لیجیئے بیس پنس، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مُجھے زیادہ دے دیئے ہیں۔
    ڈرائیور نے بیس پنس واپس لیتے ہوئے مُسکرا کر امام صاحب سے پوچھا؛کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟ میں بہت عرصہ سے آپ کی مسجد میں آ کر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پنس میں نے جان بوجھ کر آپ کو آزمانے کے لیے زیادہ دیئے تھے تاکہ آپ کا اس معمولی رقم کے بارے میں رویہ اور دیانت داری پرکھ سکوں۔

    امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اُترے، اُنہیں ایسے لگا جیسے اُنکی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے، گرنے سے بچنے کیلئے ایک کھمبے کا سہارا لیا، آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر روتے ہوئے دُعا کی،
    یا اللہ مُجھے معاف کر دینا، میں ابھی اسلام کو بیس پنس میں بیچنے لگا تھا۔۔۔

    قابل توجہ


    ہم لوگ کبھی اپنے افعال پر لوگوں کے رد فعل کی پرواہ نہیں کرتے , ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ بعض اوقات لوگ صرف زبانی دعوت اور قرآن پڑھ کر اسلام کے بارے میں جاننے کے بجائے ہم مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کا تصور باندھتے ہیں۔

    ہم لوگ اللہ کے پسندید مذہب اسلام کے نمائندے ہیں, ہمیں دوسروں کیلئے ایک اچھی مثال پیش کرنی ہوگی اور اپنے معاملات صاف اور کھرے رکھنے ہوں گے ۔۔یہ ہی ذہن میں رکھ کرکہ
    کہیں کوئی ہمارے رویوں کے تعاقب میں تو نہیں؟
    کوئی ہمارے شخصی تصرف کو سب مسلمانوں کی مثال نہ سمجھ بیٹھے۔یا
    اسلام کی تصویر ہمارے تصرفات اور رویئے کے مُطابق ذہن میں نہ بٹھا لے!!!
    اور ہم اسکی دین حق سے دوری کی وجہ بن کر اپنے ساتھ اسے بھی ہمیشہ کی جہنم کا حق دار بنادیں۔۔

     
  2. NAEEM

    NAEEM Regular Member

    ماشا اللہ بہت خوب
     
  3. نمرہ

    نمرہ Management

    jazak Allah
    wah boht he achi shairing ki hai.shukriya
     
  4. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    JazakAllah
     
  5. نگار

    نگار Cruise Member

    سب کا پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ
     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    جزاک اللہ شیئر کرنے کا بہت بہت شکریہ​
     
  7. Asad khan786

    Asad khan786 Well Wishir

    اپ نے بہت ہی اچھی شیرنگ کی ہے اپ کی مذید شیرنگ کا انتظار رے گا اپنی کشش جاری رکھے
     
  8. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page