1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

اِسے قیامت نہ کہیں تو کیا کہیں کہ۔

Discussion in 'News & Views' started by نمرہ, Nov 6, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے "نفسانفسی کی حالت"۔۔!! جس کا مطلب ہے "ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا، اور کسی کو کسی کی پرواہ نہ ہوگی۔۔!!

    اِسے قیامت نہ کہیں تو کیا کہیں کہ۔۔۔!!!

    ایک طرف واہگہ بارڈر پر افسوسناک واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کو لاشوں اور زخمیوں میں تلاش کر رہے ہیں، جن کے پیاروں کی اموات کی تصدیق ہو گئی ہے وہ خود ہی رو رو کر اپنے غموں کا مداوہ کر رہے ہیں، اور جو ابھی بھی شش و پنج کی صورتحال میں ہیں وہ آنسوؤں کے سمندر کو پلکوں پر روکے ایک اُمید کے تحت اپنے پیاروں کے زندہ ہونے کی دُعا کر رہے ہیں۔

    اور دوسری طرف نظام دنیا ویسے ہی رواں دواں ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، لوگ اپنے کاروبارِ زندگی میں اِس سوچ کے ساتھ مصروف ہیں کہ "جس تن لاگے وہی تن جانے"، ہم تو اللہ کا شکر ہے محفوظ ہیں۔

    صرف افسوس کے چند جملوں کا تبادلہ ہوا ہے، کچھ حکومت، دہشتگردوں اور بھارت پر لعن طعن ہوئی ہے اور پھر سے وہی ہنسی مذاق شروع ہو گیا ہے، فیس بک پر پھر سے طنز و مزاح کی پوسٹیں لگنا شروع ہو گئی ہیں، جن لوگوں نے یہ افسوس ناک خبر سنتے ہی وقتی طور پر ڈرامے، فلموں اور گانوں کے چینل بند کر دئیے تھے، وہ پھر سے شروع ہو گئے ہیں۔۔!!!

    کیا یہ ہے انسانیت، اور کیا یہی ہے انسانیت کا حق۔۔؟ ایک وہ وقت تھا جب سنتے تھے کہ کہیں کوئی ناحق قتل ہوتا تھا تو "سرخ آندھیاں" چلتی تھیں، اور دور دراز کے علاقوں کے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کہیں کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اور لوگ پریشان ہو جاتے تھے اور نمازِ آیات تک پڑنے لگ جاتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ ایک گھر میں قیامت گزر جاتی ہے اور ساتھ رہنے والے ہمسائے ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

    چاہیے تو یہ تھا کہ ایسے سانحات ہمیں دہشتگردی کے خلاف مزید مضبوط کرتی، لیکن ہم تو مزید کمزور سے کمزور ہوتے چلے گئے ہیں، اور دشمن بھی یہی چاہتا ہے، اور ہم اپنے دشمن کی ہر راہ کو اپنے ہاتھوں سے ہموار کر رہے ہیں۔
     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Bohat Khoob
     
  3. بہتر معلومات کے لئے آپکا شکریہ
     

Share This Page