1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

انسان کا وجود ، خدا کے وجود کا ثبوت

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by نمرہ, Nov 7, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    انسان کا وجود ، خدا کے وجود کا ثبوت

    وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے - حالانکہ انسان کا خود اپنا وجود ، خدا کے وجود کا سب سے بڑا ثبوت ہے - اگر انسان جیسی ایک ہستی یہاں موجود ہے تو خدا بهی یقینی طور پر موجود ہے - انسان کے اندر وه تمام صفتیں ناقص طور موجود ہیں جو خدا کے اندر کامل طور پر موجود ہیں - اگر ناقص ہستی کا وجود ہے تو کامل ہستی کا بهی یقینی طور پر وجود ہے - ایک کو ماننے کے بعد دوسرے کو نہ ماننا ایک ایسا منطقی تضاد ہے جس کا تحمل کو ئی صاحب عقل نہیں کر سکتا -

    ڈکارٹ
    (Rene Descartes)
    مشہور فرنچ فلسفی ہے وه 1596 میں پیدا هوا اور 1650 میں اس کی وفات هوئی - اس کے سامنے یہ سوال تها کہ انسان اگر موجود ہے تو اس کی موجودگی کا عقلی ثبوت کیا ہے - لمبے غور فکر کے بعد اس نے اس سوال کا جواب ان الفاظ میں دیا ہے ------ میں سوچتا هوں اس لئے میں هوں -ڈیکارٹ کا یہ جواب منطقی اعتبار سے ایک محکم جواب ہے - مگر یہ منطق جس سے انسان کا وجود ثابت هوتا ہے ، وه اس سے بهی زیاده بڑی بات کو ثابت کر رہی ہے ، اور وه ہے خدا کے وجود کا عقلی ثبوت - اس منطقی اصول کی روشنی میں یہ کہنا بالکل درست هو گا---------- کہ سوچ کا وجود ہے ، اس لئے خدا کا بهی وجود ہے -

    سوچ ایک مجرد چیز ہے - جو لوگ خدا کا انکار کرتے ہیں ، وه اسی لیے خدا کا انکار کرتے ہیں کہ خدا انہیں ایک مجرد تصور معلوم هوتا ہے ، اور مجرد تصور کی موجودگی ان کے لیے ناقابل فہم ہے ، یعنی ایک ایسی چیز کو ماننا جس کا کوئی مادی وجود نہ هو - لیکن ہر انسان سوچنے والی مخلوق ہے - خود اپنے تجربے کی بنیاد پر ہر آدمی سوچ کے وجود کو مانتا ہے - حالانکہ سوچ مکمل طور پر ایک مجرد تصور ہے ، یعنی ایک ایسی چیز جس کا کوئی مادی وجود نہیں -

    اب اگر انسان ایک قسم کے مجرد تصور کے وجود کو مانتا ہے تو اس پر لازم آ جاتا ہے کہ وه دوسری قسم کے مجرد تصور کے وجود کو بهی تسلیم کرے - یہ بلاشبہہ خدا کے وجود کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا تجربہ ہر آدمی کرتا ہے اور جس کی صحت کو ہر آدمی بلا اختلاف مانتا ہے - اگر سوچ کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو اس کے بعد یقینی طور پر انسان کے وجود کا اور خود اپنے وجود کا انکار کرنا پڑے گا - کوئی بهی آدمی اپنے وجود کا انکار نہیں کر سکتا ، اسی لیے کسی بهی آدمی کے لیے منطقی طور پر یہ ممکن نہیں کہ وه خدا کے وجود کا انکار کرے -

    خدا کا غیر مرئی
    (invisible)
    هونا ، اس بات کے لیے کافی ہے کہ خدا کے وجود کا انکار کیا جائے - حقیقت یہ ہے کہ غیر مرئی هونے کے بنا پر خدا کا انکار کرنا ، ماڈرن سائنس کے زمانے میں ایک خلاف زمانہ استدلال ہے - اس لئے کہ آئن سٹائن کے زمانے میں جب ایٹم ٹوٹ گیا اور علم کا دریا عالم صغیر
    (micro world)
    تک پہنچ گیا تو اس کے بعد معلوم هوا کہ یہاں ہر چیز غیر مرئی ہے - پہلے جو چیزیں مرئی سمجهی جاتی تهی اب وه سب کے سب غیر مرئی هو گئیں - ایسی حالت میں عدم رویت کی بنیاد پر خدا کے وجود کا انکار کرنا ، ایک غیر علمی موقف بن چکا ہے -
     
  2. Asad khan786

    Asad khan786 Well Wishir

    آپ نے بہت اچھی شرینگ کی ہے اپ کا بہت بہت شکریہ مذید شرنگ کا انتظار رے گا
     
  3. Jazak ALLA Khair
     
  4. ~Asad~

    ~Asad~ Management

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page