1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

قرآن اور حدیث

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by نمرہ, Nov 7, 2014.

Share This Page

  1. نمرہ
    Offline

    نمرہ Management
    • 38/49

    قرآن اور حدیث

    خالص علمی اعتبار سے ، قرآن اور حدیث میں کوئی فرق نہیں - جس پیغمبر کی زبان سے حدیث کے الفاظ ہیں ، قرآن کا کلام بهی یقینی طور پر اسی پیغمبر کے ذریعے حاصل هوا ہے - گویا کہ عام حدیث اگر صرف حدیث ہے تو قرآن کی حیثیت حدیث قدسی کی ہے - حدیث کے معاملے میں اگر راوی یہ کہتا ہے کہ : سمعت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، تو قرآن کے معاملے میں پیغمبر یہ کہتا ہے کہ : سمعت عن جبریل -

    اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق براه راست نہیں ہے ، بلکہ ہمارے اور قرآن کے درمیان ایک پیغمبر کا واسطہ موجود ہے - اگر پیغمبر کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو قرآن ہمارے لیے صرف لائبریری کی ایک کتاب کے مانند هو جائے گا ، وه خدا کی طرف سے اتارا هوا کلام نہ رہے گا - اس کے بعد قرآن کے حق میں وه تاریخی اعتباریت )
    historical credibility
    ( ہی باقی نہ رہے گی جس کی بنیاد پر هم قرآن کو خدا کا ایک معتبر کلام مانتے ہیں -

    کسی کا یہ کہنا کہ میں قرآن کو مانتا هوں ، مگر میں حدیث کو نہیں مانتا ، یہ کوئی ساده بات نہیں - یہ بظاہر قرآن کو مانتے هوئے قرآن کا انکار کرنا ہے - حقیقت یہ ہے کہ جن راویوں کے ذریعے هم کو حدیث رسول پہنچی ہے ، انهیں راویوں کے ذریعے هم کو قرآن بهی ملا ہے - آج جو قرآن ہمارے ہاته میں ہے ، وه براه راست هم پر نہیں اترا - وه ٹهیک اسی سلسلہ روایت کے ذریعے هم کو ملا ہے جس سلسلہ روایت کے ذریعے احادیث رسول هم تک پینچی ہیں - ایسی حالت میں ایک کو ماننا اور دوسرے کو نہ ماننا ، خالص غیر منطقی اور غیر علمی بات ہے - ایسے موقف کے لیے حقیقی طور پر کوئی جواز موجود نہیں -

    حدیث ، ایک اعتبار سے ، قرآن کے انطباق
    ( application )
    کو بتاتا ہے - مثال کے طور پر قرآن میں ہے کہ تم اللہ کا ذکر کثیر (33:41) کرو - اس آیت کا عملی انطباق هم کو حدیث کے ذریعے معلوم هوتا ہے - حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ : کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یذکر اللہ علی کل آحیانه (صحیح البخاری ، رقم الحدیث :597) - اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ہر موقع
    (occasion)
    کو اللہ کی یاد کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس بناتے تهے - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل مستند طور پر بتاتا ہے کہ قرآن کی اصولی تعلیم کا عملی انطباق کیا ہے -
     
  2. PRINCE SHAAN
    Offline

    PRINCE SHAAN Guest

  3. Asad khan786
    Offline

    Asad khan786 Well Wishir
    • 16/16

    آپ نے بہت اچھی شرینگ کی ہے اپ کا بہت بہت شکریہ مذید شرنگ کا انتظار رے گا
     
  4. ғσяυм gυяυ
    Offline

    ғσяυм gυяυ Guest

  5. ~Asad~
    Offline

    ~Asad~ Management
    • 36/49

    عمدہ شرنگ شکریہ
     

Share This Page