1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

Parveen Shakar


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'Parveen Shakir' started by PakArt, Nov 25, 2014.

Parveen Shakir"/>Nov 25, 2014"/>

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    Hidden Content:
    یہ لنک دیکھنے کے لیے فورم پر آپ کا اکاونٹ ہونا ضروری ہے اکاونٹ بنانے کے لیے یہاں کلک کریں
    تعلیم پاکستان اور امریکہ میں حاصل کی۔ 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ جن سے بعد میں طلاق لے لی۔ 26دسمبر 1994 کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں ، بیالیس سال کی عمر میں مالک حقیقی سے جا ملیں۔
    انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
    خوشبو، صدبرگ، خودکلامی، انکار اور ماہ تمام مجموعہ کلام ہیں۔
    پروین شاکر استاد اور سرکاری ملازم بھی رہیں۔ ​
    آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟



    وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں؟
    وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں
    جنھیں اب تم چاہا کرتے ہو!
    تم کہتے تھے
    مری آنکھیں، اِتنی اچھی، اِتنی سچی ہیں
    اس حُسن اور سچائی کے سوا، دُنیا میں کوئی چیز نہیں
    کیا اُن آنکھوں کو دیکھ کے بھی
    تم فیض کا مصرعہ پڑھتے ہو؟
    تم کہتے تھے
    مری آنکھوں کی نیلاہٹ اتنی گہری ہے
    ’’مری روح اگر اِک بار اُتر جائے تو اس کی پور پور نیلم ہوجائے‘‘
    مُجھے اتنا بتاؤ
    آج تمھاری رُوح کا رنگ پیراہن کیا ہے
    کیا وہ آنکھیں بھی سمندر ہیں؟
    یہ کالی بھوری آنکھیں
    جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے
    ’’یوں لگتا ہے شام نے رات کے ہونٹ پہ اپنے ہونٹ رکھے ہیں‘‘
    کیا اُن آنکھوں کے رنگ میں بھی،یوں دونوں وقت مِلاکرتے ہیں؟
    کیا سُورج ڈُوبنے کا لمحہ،اُن آنکھوں میں بھی ٹھہرگیا
    یا وہاں فقط مہتاب ترشتے رہتے ہیں؟
    مری پلکیں
    جن کو دیکھ کے تم کہتے تھے
    اِن کی چھاؤں تمھارے جسم پہ اپنی شبنم پھیلادے
    تو گُزر تے خواب کے موسم لوٹ آئیں
    کیا وہ پلکیں بھی ایسی ہیں
    جنھیں دیکھ کے نیند آجاتی ہو؟
    تم کہتے تھے
    مری آنکھیں یُونہی اچھی ہیں
    ’’ہاں کاجل کی دُھندلائی ہُوئی تحریر بھی ہو__تو
    بات بہت دلکش ہوگی!‘‘
    وہ آنکھیں بھی سنگھار تو کرتی ہوں گی
    کیا اُن کا کاجل خُود ہی مِٹ جاتا ہے؟
    کبھی یہ بھی ہُوا
    کِسی لمحے تم سے رُوٹھ کے وہ آنکھیں رودیں
    اور تم نے اپنے ہاتھ سے اُن کے آنسو خُشک کیے
    پھر جُھک کر اُن کوچُوم لیا
    (کیا اُن کو بھی!!)
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    شوقِ رقص سے جب تک اُنگلیاں نہیں کُھلتیں
    پاؤں سے ہواؤں کے ، بیڑیاں نہیں کُھلتیں

    پیڑ کو دُعادے کر کٹ گئی بہاروں سے
    پُھول اِتنے بڑھ آئے ، کھڑکیاں نہیں کھلتیں

    پُھول بن کی سیروں میں اور کون شامل تھا
    شوخی صبا سے تو بالیاں نہیں کُھلتیں

    حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے ، جاناں!
    دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کُھلتیں

    کوئی موجہ شیریں چُوم کر جگائے گی!
    سُورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کُھلتیں

    ماں سے کیا کہیں گی دُکھ ہجر کا ، کہ خودپر بھی
    اِتنی چھوٹی عُمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں

    شاخ شاخ سرگرداں ، کس کی جستجو میں ہیں
    کون سے سفر میں ہیں ، تتلیاں نہیں کُھلتیں

    آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ اُبھرتی ہے
    چھپ پہ کون آتا ہے ، سیڑھیاں نہیں کُھلتیں

    پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
    کیا قیامتیں گزریں ، بستیاں نہیں کُھلتیں
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  3. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
    آئی ہے عجب گھڑی وفا پر

    کس خاک کی کوکھ سے جنم لیں
    آئے ہیں جو اپنے بیج کھوکر

    کانٹا بھی یہاں کا برگِ تر ہے
    باہر کی کلی ببول ، تھوہھر

    قلموں سے لگے ہُوئے شجر ہم
    پل بھر میں ہوں کِس طرح ثمرور

    کچھ پیڑ زمین چاہتے ہیں
    بیلیں تو نہیں اُگیں ہوا پر

    اس نسل کا ذہن کٹ رہا ہے
    اگلوں نے کٹائے تھے فقط سر

    پتّھر بھی بہت حسیں ہیں لیکن
    مٹّی سے ہی بن سکیں گے کچھ گھر

    ہر عشق گواہ ڈھونڈتا ہے
    جیسے کہ نہیں یقیں خود پر

    بس اُن کے لیے نہیں جزیرہ
    پَیر آئے جو کھولتے سمندر ​
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  4. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    آئینہ سے فرش پر
    ٹوٹے بدن کا عکس،
    آدھے چاند کی صورت لرزتا ہے
    ہوا کے وائلن کی نرم موسیقی
    خنک تاریکیوں میں
    چاہنے والوں کی سرگوشی کی صورت بہہ رہی ہے
    اور ہجومِ ناشناساں سے پرے
    نسبتاً کم بولتی تنہائی میں
    اجنبی ساتھی نے ، میرے دل کی ویرانی کا ماتھا چُوم کر
    مجھ کو یوں تھاما ہُوا ہے
    جیسے میرے سارے دُکھ اب اُس کے شانوں کے لیے ہیں!
    دونوں آنکھیں بند کرکے
    میں نے بھی اِن بازؤں پر تھک کے سریوں رکھ دیا ہے
    جیسے غربت میں اچانک چھاؤں پاکرراہ گم گشتہ مسافر پیڑ سے سر ٹیک دے!
    خواب صورت روشنی
    اور ساز کی دلدارلے
    اُس کی سانسوں سے گُزرکر
    میرے خوں کی گردشوں میں سبز تارے بورہی ہے
    رات کی آنکھوں کے ڈورے بھی گُلابی ہورہے ہیں
    اُس کے سینے سے لگی
    میں کنول کے پُھول کی وارفتگی سے
    سر خوشی کی جھیل پر آہستہ آہستہ قدم یوں رکھ رہی ہوں
    جیسے میرے پاؤں کچّی نیندوں میں ہوں اور ذرا بھاری قدم رکھے تو پانی ٹوٹ جائے گا
    شکستہ روح پر سے غم کے سارے پیرہن
    ایک ایک کرکے اُترتے جارہے ہیں
    لمحہ لمحہ
    میں زمیں سے دُور ہوتی جارہی ہوں
    اب ہَوا میں پاؤں ہیں
    اب بادلوں پر
    اب ستاروں کے قریب
    اب ستاروں سے بھی اُوپر،…..
    اور اُوپر…..اور اُوپر…..اور۔۔۔۔۔۔
     
    IQBAL HASSAN likes this.
  5. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    وہ اگرچہ مطربہ ہے
    لیکن اُس کے دامِ صورت سے زیادہ
    شہر اُس کے جسم کا اسیر ہے
    وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمالِ آزری سے پہلوی تراش پانے والا جسم
    جس کو آفتاب کی کرن جہاں سے چُومتی ہے
    رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے!
    ا س کے حسنِ بے پناہ کی چمک
    کسی قدیم لوک داستان کے جمال کی طرح
    تمام عُمر لاشعور کو اسیرِ رنگ رکھتی ہے!
    گئے زمانوں میں کسی پری کو مُڑکے دیکھنے سے لوگ
    باقی عُمر قیدِ سنگ کاٹتے تھے
    یاں___سزائے بازدید آگ ہے!
    یہ آزمائشِ شکیبِ ناصحاں وامتحانِ زُہدِ واعظاں
    دریچہ مُرادکھول کر ذراجُھکے
    تو شہرِ عاشقاں کے سارے سبز خط
    خدائے تن سے،
    شب عذار ہونے کی دُعا کریں
    جواں لُہو کا ذکر کیا
    یہ آتشہ تو
    پیرِ سال خوردہ کو صبح خیز کردے!
     
  6. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    شہر اس کی دلکشی کے بوجھ سے چٹخ رہا ہے
    کیا عجیب حُسن ہے،
    کہ جس سے ڈر کے مائیں اپنی کھوکھ جائیوں کو،
    کوڑھ صورتی کی بد دُعائیں دے رہی ہیں
    کنواریاں تو کیا
    کہ کھیلی کھائی عورتیں بھی جس کے سائے سے پناہ مانگتی ہیں
    بیاہتا دِلوں میں اس کا حُسن خوف بن کے یوں دھڑکتا ہے
    کہ گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو
    وفاشعار بیبیاں دُعائے نور پڑھنے لگتی ہیں
     
  7. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    کوئی برس نہیں گیا
    کہ اس کے قرب کی سزا میں
    شہر کے سہی قدراں
    نہ قامتِ صلیب کی قبا ہُوئے
    وہ نہر جس پہ ہر سحر یہ خوش جمال بال دھونے جاتی ہے
    اُسے فقیہہِ شہر نے نجس قرار دے دیا
    تمام نیک مرد اس سے خوف کھاتے ہیں
    اگر بکارِ خسروی
    کبھی کسی کو اس کی راندئہ جہاں گلی سے ہوکے جاناہو
    تو سب کلاہ دار،
    اپنی عصمتیں بچائے یوں نکلتے ہیں،
    کہ جیسے اس گلی کی ساری کھڑکیاں
    زنانِ مصر کی طرح سے
    اُن کے پچھلے دامنوں کو کھینچنے لگی ہیں
     
  8. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    یہ گئی اماوسوں کا ذکر ہے
    کہ ایک شام گھر کو لوٹتے ہُوئے میں راستہ بھٹک گئی
    مری تلاش مجھ کو جنگلوں میںلاکے تھک گئی
    میں راہ کھوجتی ہی رہ گئی
    اس ابتلا میں چاند سبز چشم ہوچکا تھا
    جگنوؤں سے اُمید باندھتی
    مہیب شب ہر اس بن کے جسم وجاں پہ یوں اُتررہی تھی
    جیسے میرے روئیں روئیں میں
    کسی بلا کا ہاتھ سرسرارہاہو
    زندگی میں۔۔۔ خامشی سے اِتنا ڈر کبھی نہیں لگا!
    کوئی پرند پاؤں بھی بدلتاتھاتونبض ڈوب جاتی تھی
    میں ایک آسماں چشیدہ پیڑ کے سیہ تنے سے سرٹکائے
    تازہ پتّے کی طرح لرزرہی تھی
    ناگہاں کسی گھنیری شاخ کو ہٹاکے
    روشنی کے دو الاؤیوں دہک اُٹھے
    کہ ان کی آنچ میرے ناخنون تک آہی تھی
    ایک جست۔۔۔
    اور قریب تھاکہ ہانپتی ہُوئی بلا
    مری رگ گلو میں اپنے دانت گاڑتی
    کہ دفعتاً کسی درخت کے عقب میں چوڑیاں بجیں
    لباس شب کی سلوٹوں میں چرمرائے زرد پتّوں کی ہری کہانیاں لیے
    وصالِ تشنہ کا گلال آنکھ میں
    لبوں پہ ورم ، گال پرخراش
    سنبلیں کُھلے ہُوئے دراز گیسوؤں میں آنکھ مارتا ہُوا گُلاب
    اورچھلی ہُوئی سپید کہنیوں میں اوس اوردُھول کی ملی جلی ہنسی لیے
    وہی بلا ، وہی نجس، وہی بدن دردیدہ فاحشہ
    تڑپ کے آئی___اور__
    میرے اوربھیریے کے درمیان ڈٹ گئی!
     
  9. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    کیا ذکرِ برگ وبار ، یہاں پیڑ ہل چُکا
    اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا

    جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں
    اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا

    آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا
    تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا

    آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا
    مٹّی کی گود کرکے ہری ، پُھول کھِل چُکا

    بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھردیا ہے اور
    خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا

    چُھوکر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے
    کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چِھل چُکا

    اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات
    جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا
     
  10. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    وہ سایہ دار شجر
    جو مجھ سے دُور ، بہت دُور ہے، مگر اُس کی
    لطیف چھاؤں
    سجل، نرم چاندنی کی طرح
    مرے وجود،مری شخصیت پہ چھائی ہے!
    وہ ماں کی بانہوں کی مانند مہرباں شاخیں
    جو ہر عذاب میں مُجھ کو سمیٹ لیتی ہیں
    وہ ایک مشفقِ ریرینہ کی دُعا کی طرح
    شریر جھونکوں سے پتوں کی نرم سرگوشی
    کلام کرنے کا لہجہ مُجھے سکھاتی ہے
    وہ دوستوں کی حسیں مُسکراہٹوں کی طرح
    شفق عذار،دھنک پیرہن شگوفے،جو
    مُجھے زمیں سے محبت کا درس دیتے ہیں!

    اُداسیوں کی کسی جانگذار ساعت میں
    میں اُس کی شاخ پہ سررکھ کے جب بھی روئی ہوں
    تو میری پلکوں نے محسوس کرلیا فوراً
    بہت ہی نرم سی اِک پنکھڑی کا شیریں لمس!
    (نِمی تھی آنکھ میں لیکن مَیں مُسکرائی ہوں!)
    کڑی دھوپ ہے
    تو پھر برگ برگ ہے شبنم
    تپاں ہوں لہجے
    تو پھر پُھول پُھول ہے ریشم
    ہرے ہوں زخم
    تو سب کونپلوں کا رَس مرہم!
    وہ ایک خوشبو
    جو میرے وجود کے اندر
    صداقتوں کی طرح زینہ زینہ اُتری ہے
    کرن کرن مری سوچوں میں جگمگاتی ہے
    (مُجھے قبول،کہ وجداں نہیں یہ چاند مرا یہ روشنی مجھے ادراک دے رہی ہے مگر!)

    وہ ایک جھونکا
    جو اُس شہرِ گُل سے آیا تھا
    اَب اُس کے ساتھ بہت دُور جاچکی ہُوں میں
    میں ایک ننھی سی بچی ہوں ،اور خموشی سے
    بس اُس کی اُنگلیاں تھامے،اور آنکھیں بندکیے
    جہاں جہاں لیے جاتا ہے،جارہی ہوں میں!

    وہ سایہ دار شجر
    جو دن میں میرے لیے ماں کا نرم آنچل ہے
    وہ رات میں ،مرے آنگن پہ ٹھہرنے والا
    شفیق ،نرم زباں،مہرباں بادل ہے

    مرے دریچوں میں جب چاندنی نہیں آتی
    جو بے چراغ کوئی شب اُترنے لگتی ہے
    تو میری آنکھیں کرن کے شجر کو سوچتی ہیں
    دبیز پردے نگاہوں سے ہٹنے لگتے ہیں
    ہزار چاند ،سرِشاخ گُل اُبھرتے ہیں
     

Share This Page