1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

گناه کیا ہے

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by نمرہ, Sep 8, 2014.

  1. نمرہ

    نمرہ Management

    گناه کیا ہے- اس کے بارے میں لوگوں کے درمیان مختلف تصورات پائے جاتے ہیں- مثلا ایک نظریہ وه ہے هو فطرت پر مبنی ہے-ان لوگوں کا کہنا ہے کہ انسان کی فطرت ہی میں گناه کے اسباب موجود ہیں- اس لئے انسان مجبور ہے کہ وه گناه کرے، یہ رائے ان لوگوں کی ہے جن کو جبریہ کہا جاتا ہے- دوسرا نظریہ وه ہے جو تربیت پر مبنی ہے- اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ساده ورق کی مانند هوتا ہے- گردوپیش کی دنیا یا سماجی حالات مرد یا عورت کو گناه کی طرف لے جاتے ہیں- گویا گناه کے فعل کا ذمہ دار خارجی سماج ہے نہ کہ خود انسان-

    گناه کا تیسرا تصور وه ہے جو خصوصی طور پر مسیحی چرچ سے تعلق رکهتا ہے- اس کے مطابق پہلے انسان آدم نے جنت میں ایک گناه کیا جس کو مسیحیت میں معصیت اصلی کہا جاتا ہے- انسان اول کے اس گناه کے سبب ساری نسل انسانی گناه گار هو گئ- اب اس کے لئے پاک هونے کی کوئی صورت نہ تهی- چنانچہ خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بهیجا تاکہ وه مصلوب هو کر لوگوں کے گناه کا کفاره بن جائے-

    گناه کے بارے میں اسلام کا تصور ان سب سے مختلف ہے- اسلام کے مطابق انسان موجوده دنیا میں امتحان کے لئے پیدا کیا گیا ہے (الملک 2) امتحان کی اسی مصلحت کی بنا پر انسان کو قول و عمل کی آزادی دی گئ ہے-انسان کو پورا اختیار ہے کہ وه جس طرح چاہے زندگی گزارے اور جس طرح چاہے نہ گزارے- اس اختیار کو قرآن میں الامانہ کہا گیا ہے-(الاحزاب 72)

    قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو آزادی دینے کے ساته یہ بتا دیا ہے کہ فکر اور قول اور عمل کا کونسا طریقہ اس کے لئے درست ہے اور قول و عمل کا کونسا طریقہ اس کے لئے درست نہیں ( الشمس 8 )

    قرآن کے مطابق، انسان کو اس دنیا میں یہ اختیار تو حاصل ہے کہ وه اپنی آزادی کو جس طرح چاہے استعمال کرے مگر اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وه آزادی کے استعمال کے نتائج کو اپنے اوپر اثر انداز نہ هونے دے-مثلا انسان یہ اختیار رکهتا ہے کہ وه آگ کے انگاره کو اپنے ہاته میں لے یا نہ لے- لیکن آگ کے انگارے کو اپنے ہاته میں لینے کے بعد اس کو یہ اختیار نہیں کہ وه اس فعل کے انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے-اس سے معلوم هوتا ہے کہ اسلام کا تصور گناه کیا ہے- اسلام کے نزدیک گناه یہ ہے کہ آدمی اپنی آزادی کو غلط استعمال کرے- حدیث کے الفاظ میں، وه خدا کی ممنوعہ چراگاه میں داخل هو جائے-

    گناه کی پہچان کیا ہے-اس کی ایک خارجی پہچان ہے اور ایک داخلی پہچان- خارجی پہچان سے مراد خدا کی کتاب ہے- خدا کی کتاب میں واضح طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ وه کون سی چیزیں ہیں جو خدا کے نزدیک گناه ہیں اور جن سے آدمی کو بچنا چاہئے- گناه کی داخلی پہچان انسان کا ضمیر ہے-قرآن کے مطابق، انسان کے اندر پیدائشی طور پر نیکی اور بدی کی تمیز رکهہ دی گئ ہے- ( الشمس 8) اسی طرح پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ : یعنی گناه وه ہے جو تمہارے دل میں کهٹکے اور تم کو یہ ناگوار هو کہ لوگ اس کو جان لیں-

    قرآ میں بتایا گیا ہے کہ انسان صحیح فطرت پر پیدا کیا گیا ہے (الروم 30) یہی بات حدیث میں بهی بتائی گئ ہے- اس سے معلوم هوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک گناه کرنا انسان کا مقدر نہیں بلکہ وه اس کے لئے choice کا ایک معاملہ ہے- انسان کو شیطانی طاقتیں بہکاتی ہیں- اسی طرح سماجی اسباب اس کو غلط راستہ کی طرف لے جاتے ہیں- اب اگر کوئی شخص ان اسباب سے متاثر هو کر گناه کرے تو وه امتحان میں ناکام هو گیا-اس سلسلہ میں اسلام کی دوسری تعلیم یہ ہے کہ گناه کی تلافی ممکن ہے- اگر آدمی گناه کے بعد توبہ کرے اور آئنده وه اس سے باز رہے تو وه اللہ کے نزدیک قابل معافی ٹهرے گا​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    Deen-e-Islam > Islam
    گناه کیا ہے
    ****
    اشتراک کرنے کا شکریہ
    [​IMG]
     
  3. Nice sharing sister
     
  4. mehwish

    mehwish Well Wishir

    ایک بار حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ مجھے بتائیے کہ گناہ کیا ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت آسان الفاظ میں اسکی تعریف بیان کی۔آپ نے فرمایا کہ ہر وہ عمل،ہر وہ فعل ،ہر وہ بات ،ہر وہ کام جسے کرتے ہوئے دل میں کھٹکا محسوس ہو وہ گناہ ہے

    سبحان اللہ۔ کتنے آسان الفاظ میں انہوں نے گناہ کی حقیقت بیان کر دی۔عام روٹین میں اکثر یہ ہوتا بھی ہے جب بھی انسان کوئی غلط کام کرتا ہے تو فورا اس کے دل میں یہ بات لازمی آتی ہے کہ یہ غلط ہے یہ الگ بات کبھی ھم ضمیر کی بات کو سمجھ اور مان لیتے ہیں کبھی اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں اپنی ضمیر کی آواز کا گلہ ہی گھونٹ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ھم سب کو گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے چاہے وہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ۔آمین
     
  5. نمرہ

    نمرہ Management

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    ایک بار حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا کہ مجھے بتائیے کہ گناہ کیا ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت آسان الفاظ میں اسکی تعریف بیان کی۔آپ نے فرمایا کہ ہر وہ عمل،ہر وہ فعل ،ہر وہ بات ،ہر وہ کام جسے کرتے ہوئے دل میں کھٹکا محسوس ہو وہ گناہ ہے

    سبحان اللہ۔ کتنے آسان الفاظ میں انہوں نے گناہ کی حقیقت بیان کر دی۔عام روٹین میں اکثر یہ ہوتا بھی ہے جب بھی انسان کوئی غلط کام کرتا ہے تو فورا اس کے دل میں یہ بات لازمی آتی ہے کہ یہ غلط ہے یہ الگ بات کبھی ھم ضمیر کی بات کو سمجھ اور مان لیتے ہیں کبھی اپنی نفسانی خواہشات کے ہاتھوں اپنی ضمیر کی آواز کا گلہ ہی گھونٹ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ھم سب کو گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے چاہے وہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ۔آمین
    Click to expand...
    ameeen sumaa ameeen
     
  • Walikum As Salam Umda Sharing Hai
    Asi Sharing Jari Rakhein Shukriya
     
  • UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Very Nice
    Keep it up
     
  • Jazak Allah Kair
     
  • Ali baba

    Ali baba Well Wishir

    Jazakallah
     
  • Asad khan786

    Asad khan786 Well Wishir

    اپ نے بہت ہی اچھی شیرنگ کی ہے اپ کی مذید شیرنگ کا انتظار رے گا اپنی کشش جاری رکھے
     
  • Share This Page