1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

پیاری سنتیں

Discussion in 'Hadess Mubarak' started by PRINCE SHAAN, Dec 8, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ت ہے، عجم کے ایک عیسائی بادشاہ نے عقیدت ظاہر کرنے کے خیال سے اپنے ملک کے ایک نامور طبیب کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں اس خیال سے بھیجا کہ وہ مدینہ شریف میں رہ کر بیمار مسلمانوں کا علاج معالجہ کر سے۔
    اس طبیب کو مدینہ شریف میں رہنے کی اجازت مل گئی اور وہ مطب کھول کر وہاں رہنے لگا لیکن کتے نے ہی دن گزر گئے ایک مسلمان بھی علاج کرانے کے خیال سے اس کے مطب میں نہ آیا۔ طبیب نے اپنے طور پر خیال کیا کہ شاید یہ لوگ میرے عیسائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے علاج نہیں کراتے۔چنانچہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی شکایت کی کہ مسلمان مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اس وجہ سے علاج نہیں کراتے۔ حضرت رسول اللہ صلی علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا، ایسی بات ہر گز نہیں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ لوگ بیماری نہیں ہوتے اور ان کے تندرست رہنے کی خاص وجہ یہ ے کہ جب تک خوب بھک نہ لگے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے اور جب کچھ بھو ک باقی ہوتی ہے تو د ستر خوان سے اٹھ جاتے ہیں۔
    حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کہ یہ ارشاد مبارک سن کر طبیب مطمئن ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ مدینہ شریف کے مسلمان علاج کی غرض سے اس کے مطب میں کیوں نہیں آتے۔

    "بولنے میں اور کھانے میں اگر ہو اعتدال
    معتبر بنتا ہے انساں، محترم رہتی ہے جان

    خیق میں پھنستے ہیں ہم بے اعتدالی کے سبب
    ہوا گر محتاط تو گھٹتی نہیں انساں کی شان"

    (حکایت شیخ سعدی (ر.ع) سے اقتباس)​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ت ہے، عجم کے ایک عیسائی بادشاہ نے عقیدت ظاہر کرنے کے خیال سے اپنے ملک کے ایک نامور طبیب کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت اقدس میں اس خیال سے بھیجا کہ وہ مدینہ شریف میں رہ کر بیمار مسلمانوں کا علاج معالجہ کر سے۔
    اس طبیب کو مدینہ شریف میں رہنے کی اجازت مل گئی اور وہ مطب کھول کر وہاں رہنے لگا لیکن کتے نے ہی دن گزر گئے ایک مسلمان بھی علاج کرانے کے خیال سے اس کے مطب میں نہ آیا۔ طبیب نے اپنے طور پر خیال کیا کہ شاید یہ لوگ میرے عیسائی ہونے کی وجہ سے مجھ سے علاج نہیں کراتے۔چنانچہ وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کی شکایت کی کہ مسلمان مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور اس وجہ سے علاج نہیں کراتے۔ حضرت رسول اللہ صلی علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا، ایسی بات ہر گز نہیں بلکہ صحیح صورت یہ ہے کہ لوگ بیماری نہیں ہوتے اور ان کے تندرست رہنے کی خاص وجہ یہ ے کہ جب تک خوب بھک نہ لگے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے اور جب کچھ بھو ک باقی ہوتی ہے تو د ستر خوان سے اٹھ جاتے ہیں۔
    حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کہ یہ ارشاد مبارک سن کر طبیب مطمئن ہو گیا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات آ گئی کہ مدینہ شریف کے مسلمان علاج کی غرض سے اس کے مطب میں کیوں نہیں آتے۔

    "بولنے میں اور کھانے میں اگر ہو اعتدال
    معتبر بنتا ہے انساں، محترم رہتی ہے جان

    خیق میں پھنستے ہیں ہم بے اعتدالی کے سبب
    ہوا گر محتاط تو گھٹتی نہیں انساں کی شان"

    (حکایت شیخ سعدی (ر.ع) سے اقتباس)​
     
  3. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management

    سبحان اللہ
    جزاک اللہ خیر
    اللہ سبحان تعالی آپ کو خوش رکھے اور آپ کے دل کی تمام جائز مرادیں پوری فرمائے۔ امین
    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا بے حد شکریہ
     
  4. IQBAL

    IQBAL Cruise Member

    Jazzak Allah Khair
     

Share This Page