1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice
  3. Dismiss Notice

ایک پردیسی کی کہانی


آئی ٹی استاد کی ںئی ایپ ڈاونلوڈ کریں اور آئی ٹی استاد ٹیلی نار اور ذونگ نیٹ ورک پر فری استمال کریں

itustad

Discussion in 'English Fun & Quizze' started by PakArt, Dec 14, 2014.

English Fun & Quizze"/>Dec 14, 2014"/>

Share This Page

  1. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    جاپان میں رہنے والے بلاگر خاور صاحب نے باہر کی کمائی پر ایک تحریر لکھی۔ یہ تحریر بھی اسی موضوع پر ہے۔ جو کہ ایک پردیسی اور اس کے گھر والوں کے مابین خطوط کی شکل میں ہے۔ شاید کچھ لمبی تحریر ہے لیکن پڑھیں گے تو اچھی لگے گی۔

    پیارے ابو جان اور امی جان
    مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارداہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں
    آپکا پیارا – جمال


    پیارے بیٹے جمال
    تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
    تمھاری پیاری امی اور ابو۔

    پیارے ابو جان اور امی جان
    میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
    آپکا پیارا – جمال

    پیارے بیٹے جمال
    تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
    تمھاری پیاری امی اور ابو۔

    پیارے ابو جان اور امی جان
    آج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
    آپکا پیارا – جمال

    پیارے بیٹے جمال
    بیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
    (بیوی ) پیارے جانو جمال
    میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
    آپکی پیاری جان۔ زہرہ

    پیاری شریک حیات زہرہ
    انیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
    تمھارا شریک سفر – جمال

    پیارے جانو جمال
    آپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
    آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری جان۔ زہرہ

    اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
    یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔​
     
  2. PakArt
    Offline

    PakArt ITUstad dmin Staff Member
    • 83/98

    پردیس


    سالوں کے سال گزر جاتے ہیں اور ہم پردیسی یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ہماری یہ غریب الوطنی عارضی ہے اور ہم جلد ہی اپنے اس وطن کو لوٹ جائیں گے جہاں ہم نے اپنا سہانا بچپن، چلبلا لڑکپن یا بھرپور جوانی کے دن گزارے تھے، گویا یہ پردیس میں کٹا ہوا زمانہ تو کسی گنتی میں ہی نہیں ہے۔

    وطن کی محبت اچھی چیز ہے مگر اپنے آپ کو دھوکا اور اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو وطن کی محبت دل میں دبائے جوانی سے بڑھاپے کی حدوں میں داخل ہو گئے مگر وطن واپسی کی راہ نا پا سکے۔ کتنے پردیس کی سختیاں جھیلتے رہے، زندگی کی مسرتوں اور راحتوں کو اپنے آپ پر حرام کرتے رہے، زندگی کی لذتوں سے محروم رہتے ہوئے درہم و دینار جمع کرتے رہے کہ وطن واپس جا کر اپنے اہل و عیال کے ساتھ مل کر ان پیسوں کو خرچ کریں گے مگر پردیس کی عمر تھی کہ بڑھتی ہی رہی انتظار لمبا ہوتا رہا۔ اہداف دور سے دور ہوتے رہے، فرمائشیں بڑھتی رہیں، واپس ہوئے بھی تو اس وقت جب گزرے وقت کا مداوا نا ہو سکتا تھا۔ بلکہ کئی ایسی مثالیں بھی ہیں کہ جوانی اور صحت گزار کر گھروں کو لوٹے بھی تو کھانستے ، تڑپتے اور سسکتے بیماریوں کے ساتھ۔ بلکہ کچھ تو ایسے بھی لوٹے کہ زندگانی کے دن ہی باقی گنے چنے رہتے تھے اور آتے ہی اگلے جہان کو سدھار گئے۔

    میں بذات خود کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی مادی حالت کو سدھارنے کیلئے پردیس میں برسوں انتہائی برے حالات میں رہتے رہے۔ پیسہ کماتے تھے مگر اسے ہاتھ نہیں لگاتے تھے کہ یہ پیسہ تو وطن واپس جا کر خرچ کرنے کیلئے تھا۔ حیرت ہوتی تھی ان کی حالت دیکھ کرکہ وہ کیسے ان برے حالات میں رہتے تھے۔ ٹوٹے پھوٹے گندے گھروں میں رہائش پذیر ان لوگوں سے پوچھا جائے کہ تم لوگ سلیقے کا فرنیچر ہی ڈلوا لو مگر ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم پردیسی ہیں اور یہ ایک پرایا ملک ہے، ہم کیوں اپنی کمائی اور اپنا پیسہ یہاں خرچ کریں اور ضائع کریں۔ ارے بھائی تم کیا سمجھتے ہو کہ وقت تھم چکا ہے اور جب تم واپس جاؤ گے تو پھر وہیں سے شروع ہو جائے گا جہاں سے چھوڑ گئے تھے؟

    بات صرف محنت مزدوری کرنے والے محنت کش مزدوروں کی نہیں میں کئی اچھے اچھے عہدوں پر فائز کھاتے پیتے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنے وارثوں کیلئے دکانیں ، پلازے اور بنگلے بنوائے مگر خود لگے بندھے سے رہتے رہے۔ ان لوگوں کا یہ کہنا اور ماننا تھا کہ ادھر کیا بنگلوں اور کیا صاف ستھرے اور اچھے گھروں میں رہنا، اصل مزا تو اپنے ملک میں آتا ہے۔

    میں ایک ایسے دوست کو بھی جانتا ہوں جو زندگی کے پچیس سال کولہو کے بیل کی طرح کماتا رہا۔ دل کا مریض، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے ساتھ کچھ مالی حقوق لیکر واپس لوٹا تو چوتھے دن فوت ہو گیا۔ مل بیٹھ کر کھانے، بچوں کو بیاہنے، اچھا گھر بنانے اور چھوٹا سا کاروبار شروع کرنے کے سارے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے، کیا فائدہ ہوا؟

    میں جب پردیسیوں کا سوچتا ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی خوشیوں کو آنے والے کل پر ملتوی کرتے رہیں گے گویا کل ان کی توقعات کے مطابق ہی ہوگا۔ مجھے اس بچے کی کہانی یاد آ رہی ہے جس نے ریڈیو کھولا تو اس کا من پسند گانا لگا ہوا تھا، بچے نے ٹھک سے ریڈیو بند کیا اوربھاگ کر اپنے بھائی کو بلا لایا کہ دونوں مل کر یہ گانا سنیں گے مگر جب ریڈیو دوبارہ کھولا تو وہاں گانا کب کا ختم اور خبریں آ رہی تھیں۔

    نجانے کیوں ہر پردیسی کو اپنا مستقبل اپنے وطن میں ہی نظر آتا ہے اور جہاں وہ رہ رہا ہوتا ہے وہ اس کیلئے صرف ایک کمائی کا موقع ہوتا ہے واپس جا کر اپنے مستقبل کو پالینے کا۔ مشہور مؤرخ اور فلسفی تھامس کارلائل کہتا ہے کہ ہمیں چاہیئے کہ جو کچھ ہمارے ہاتھوں میں ہے ہم اس کو مضبوطی سے تھامیں اور اس کی قدر کریں نا کہ جو کچھ ہمارے تسلط اور قبضے میں ہی نہیں ہے کی خواہش کریں اور اس کے تصور سے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ خوشی ہمارے ارد گرد ہوا کرتی ہے نا کہ ہمارے سامنے دور کہیں نا نظر آنے والی جگہ پر۔

    سر ولیم اوسلر اپنے شاگردوں سے کہتے تھے کہ تم لوگ اپنے دماغوں سے مستقبل میں کھلنے والے دروازوں کے بٹن ہی مٹا دو، اور ایسے سمجھو کہ وہ دن تو کبھی آنے ہی نہیں ہیں۔ اس کے لئے کیوں سوچا جائے اور کس لئے پریشان ہوا جائے جو ابھی تک ہوا بھی نہیں۔ سر ولیم اوسلو کے مطابق تو مستقبل آج کا ہی نام تھا اور ان کے نزدیک کوئی چیز ایسی تھی ہی نہیں جس کا نام کل ہو۔ آدمی کی بقاء اور سلامتی آج سے مربوط ہے نا کہ آنے والے کل سے۔ وہ اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ سے آج کے دن کی عافیت مانگو اور آج کے دن کیلئے ہی روٹی کا سوال کرو۔ آج کی بھوک کیلئے آنے والے کل کو ملنے والی روٹی بے سود ہوگی۔

    قبل مسیح کا ایک رومن شاعر کہا کرتا تھا: جس انسان نے آج کا دن اچھا گزار لیا اُسے پورے اعتماد کے ساتھ اُٹھ کر کہہ دینا چاہیئے ؛ اے آنے والے کل، میں نے اپنا آج اچھا جی لیا، تیری مرضی تو آنے والے کل کو اُس کل میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ کیا کرے گا؟

    میرے پردیسیو؛ تمہارے آس پاس بھی تو پھول اُگتے ہیں اور اگر فطرت کے ان احسانوں سے مستفید ہونے کیلئے تمہیں کسی نے نہیں روک رکھا تو تم ان جادوئی پھولوں کے خواب کیوں دیکھتے ہو جو شاید کھلیں یا نا بھی کھلیں؟ تمہارا حال بالکل اُن سرکاری ملازم پیشہ لوگوں جیسا ہے جو ساری زندگی خواب دیکھتے رہتے ہیں کہ ریٹائر ہوں گے تو اپنی خواہشات کی تکمیل کریں گے۔ گویا ساری خوشیاں تو گویا ٹھہری ہوئی اُن کے ریٹائر ہونے کی منتظر ہیں! اور تم پردیسیوں کی خوشیاں تمہارے وطن واپس لوٹنے کے انتظار میں ٹھہری ہوئی ہوں۔

    پردیسیو، ختم کرو اپنے آپ کو کو پردیسی سمجھنا، جدھر ہو اور جہاں ہو وہاں ہی خوش رہو، اپنی اپنی زندگیوں سے لطف اُٹھاؤ، تمہارا اپنا وہی کچھ ہے جو تم نے خود کھانا ، پینا، پہننا ، اوڑھنا ، بچھانا ہے یا اپنے آپ پر خرچ کر لینا ہے ۔ وقت وہی ہے جو تمہارے ہاتھ میں ہے، کل والے پر آپ کا اختیار ہو یا نا ہو۔ اگر کل تمہارے لئے ایک خواب ہے تو اس خواب کو ٹھیک سے دیکھنے کیلئے آج کا دن تو اچھا گزارو اور سلیقے قرینے سے اچھا اور آرام دہ سونے کا بندوبست کرو۔​
     

Share This Page