1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہ

Discussion in 'History aur Waqiat' started by INNOCENT BOY, Apr 3, 2013.

  1. INNOCENT BOY

    INNOCENT BOY Senior Member

    [​IMG]
    [​IMG]
    حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہ

    نام و نسب:۔
    ہند نام، قبیلہ قریش سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ہند بنت عتبہ ابن ربیعہ بن عبدشمس ابن عبدمناف، ہند کا باپ قریش کا سب سے معزز رئیس تھا۔
    نکاح:۔
    فاکہ بن مغیرہ مخزومی سے نکاح ہوا، لیکن پھر کسی وجہ سے جھگڑا ہو گیا، تو ابوسفیان ابن حرب کے عقد میں آئیں جو قبیلہ امیہ کے مشہور سردار تھے۔
    عام حالات:۔
    عتبہ، ابوسفیان اور ہند تینوں کو اسلام سے سخت عداوت تھی اور وہ اسلام کی غیر معمولی ترقی کو نہایت رشک سے دیکھتے تھے، حتی الامکان اسکی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے تھے، ابوجہل ان سب کا سردار تھا۔ لیکن جب بدر کے معرکہ میں جو اسلام و کفر کا پہلا معرکہ تھا۔ قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ابوجہل اور عتبہ وغیرہ بھی قتل ہو گئے تو ابوسفیان بن حرب نے جو عتبہ کے داماد تھے اسکی جگہ لی اور ابوجہل کی طرح مکہ میں انکی سیادت مسلم ہو گئی، چنانچہ بدر کے بعد سے جس قدر معرکے پیش آئے، ابوسفیان سب میں پیش پیش تھے، غزوہ احد انہی کے جوش انتقام کا نتیجہ تھا۔ اس موقع پر انکے ساتھ انکی بیوی ہند بھی آئی تھیں، جنہوں نے اپنے باپ کے انتقام میں سنگدلی اور خونخواری کا ایسا خوفناک منظر پیش کیا، کہ جسکے تخیل سے بھی جسم لرز اٹھتا ہے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، انہوں نے عتبہ کو قتل کیا تھا، ہندان کی فکر میں تھیں، چنانچہ انہوں نے وحشی کو جو جبیر بن مطعم کے غلام اور حربہ اندازی میں کمال رکھتے تھے، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قتل پر آمادہ کیا تھا، (یہ حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کے قبل از اسلام کا واقعہ ہے) اور یہ اقرار ہوا کہ اس کارگزاری کے صلہ میں وہ آزاد کر دیئے جائیں گے، چنانچہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ جب انکے برابر آئے تو وحشی نے حربہ پھینک کر مارا جو ناف میں لگا اور پار ہو گیا، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ان پر حملہ کرنا چاہا لیکن لڑکھڑا کر گر پڑے اور روح پرواز کر گئی۔
    خاتونان قریش نے انتقام بدر کے جوش میں مسلمانوں کی لاشوں سے بھی بدلی لیا تھا۔ انکے ناک کان کاٹ لیئے۔ ہند نے ان پھولوں کا ہار بنایا، اور اپنے گلے میں ڈالا حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی لاش پر گئیں اور اور انکا پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکالا اور چبا گئیں۔ لیکن گلے سے اتر ن ہسکا، اس لیۓ اگل دینا پڑا،(حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ اور ہند کے یہ سب واقعات اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فعل سے جس قدر صدمہ ہوا تھا، اسکا کون اندازہ کر سکتا ہے لیکن ایک اور چیز تھی جو ایسے موقعوں پر بھی جبینِ رحمت کو شکن آلود نہیں ہونے دیتی تھی،

    اسلام:۔
    چنانچہ جب مکہ فتح ہوا، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے بیعت لینے کے لیے بیٹھے، تو مستورات میں ہند بھی آئیں، شریف عورتیں نقاب پہنتی تھیں، ہند بھی نقاب پہن کر آئیں جس سے اس وقت یہ غرض بھی تھی کہ کوئئ انکو پہچاننے نہ پائے بیعت کے وقت انہوں نے نہایت دلیری سے باتیں کیں جو حسب ذیل ہیں۔
    ہند! یا رسول اللہ! آپ ہم سے کن باتوں کا اقرار لیتے ہیں۔
    رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔
    ہند:
    یہ اقرار آپ نے مردوں سے تو نہیں لیا، بہرحال ہم کو منظور ہے۔
    رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) چوری نہ کرنا۔
    ہند: میں اپنے شوہر کے مال میں سے کبھی کچھ لے لیا کرتی ہوں معلوم نہیں یہ بھی جائز ہے یا نہیں؟
    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)اولاد کو قتل نہ کرنا۔
    ہند:ربینا ھم صغاراوقتلھم کبارافانت وھو اعلم، ہم نے تو اپنے بچوں کو پالا تھا،
    بڑے ہوئے تو جنگ بدر میں آپ نے انکو مار ڈالا، اب آپ اور وہ باہم سمجھ لیں،
    (اس دیدہ دلیری کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند سے درگزر فرمایا، ہند کے قلب پر اسکا بہت اثر ہوا۔ اور انکے دل نے اندر سے گواہی دی کہ آپ سچے پیغمبر ہیں انہوں نے کہا یا رسول اللہﷺ اس سے پہلے آپکے خیمہ سے زیادہ میرے نزدیک کوئی مبغوض خیمہ نہ تھا لیکن اب آپکے خیمہ سے زیادہ کوئی محبوب خیمہ میرے نزدیک نہیں ہے،[صحیح بخاری]
    حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہو کر گھر گئیں تو اب وہ ہند نہ تھیں، ابن سعد نے لکھا ہے کہ انہوں نے گھر جا کر بت توڑ ڈالا اور کہا کہ ہم تیری طرف سے دھوکے میں تھے،[اصابہ ج8ص206]
    (اسد الغابہ میں انکے حسن اسلام سے متعلق لکھا ہے کہ اسلمت یوم الفتح و حسن اسلامھا)[اسد الغابہ ج5ص562]

    غزوات:۔
    فتح مکہ کے بعد اگرچہ اسلام کو اعلانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا، اور اس لیئے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی، تاہم جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد میں روم و فارس کی مہم پیش آئی تو بعض مقامات میں اس شدت کا رن پڑا۔ کہ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تیغ و خنجر کا کام لینا پڑا۔ چنانچہ شام کی لڑائیوں میں جنگ یرموک ایک یادگار جنگ تھی، اس میں حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے شوہر حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ دونوں نے شرکت کی اور فوج میں رومیوں کے مقابلہ کا جوش پیدا کیا۔
    وفات:۔
    حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں انتقال کیا۔ اسی دن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے والد ابوقحافہ نے بھی وفات پائی تھی ابن سعد کی روایت ہے کہ انکی وفات حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں ہوئی، کتاب الامثال سے بھی اسکی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ اس میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی (ابوسفیان نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی ہے) تو کسی نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ مجھ سے ہند رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح کردو۔ انہوں نے نہایت متانت سے جوابدیا کہ اب انکو نکاح کرنے کی ضرورت نہیں۔[اصابہ ج8ص206]
    اولاد:۔
    اولاد میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ زیادہ مشہور ہیں۔
    اخلاق:۔
    حضرت ہند رضی اللہ تعالی عنہا میں وہ تمام اوصاف موجود تھے جو ایک عرب عورت کے مابہ الامتیاز ہو سکتے ہیں، صاحب اسد الغابہ نے لکھا ہے۔
    "ان میں عزت نفس، غیرت رائے و تدبیر اور دانشمندی پائی جاتی تھی،"[اسد الغابہ ج5ص563]
    فیاض تھیں، حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ انکو انکے حوصلہ کے مطابق خرچ نہیں دیتے تھے اسلام لانے کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عہد لیا کہ چوری نہ کریں تو انہو ں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ مجھے پورا خرچ نہیں دیتے اگر ان سے چھپا کر لوں تو جائز ہے؟ آپ نے اجازت دی۔[صحیح بخاری]
     
  2. INNOCENT BOY

    INNOCENT BOY Senior Member

    PASAND KARNE K LIYE SHUKRIYA

    [​IMG]
     
  3. Jazak Allah
     

Share This Page