1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت عبدالل&#17

Discussion in 'History aur Waqiat' started by INNOCENT BOY, Apr 3, 2013.

  1. [​IMG]
    [​IMG]
    حضرت ام ورقہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت عبداللہ

    نام و نسب:۔
    نام معلوم نہیں، ام ورقہ کنیت اور انصار کے کسی قبیلہ سے تھیں، سلسلہ نسب یہ ہے ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث بن عویمر بن نوفل۔
    اسلام:۔
    ہجرت کے بعد مسلمان ہوئیں۔
    غزوات:۔
    غزوہ بدر پیش آیا تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شرکت کی اجازت مانگی کہ مریضوں کی تیماداری کرونگی، ممکن ہے کہ اس سلسلہ میں شہادت نصیب ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"تم گھر میں رہو اللہ تمکو وہیں شہادت عطا فرمائے گا۔"
    شہادت:۔
    چونکہ قرآن پڑھی ہوئی تھیں۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو عورتوں کا امام بنایا ہوا تھا، اس لیے درخواست کی کہ ایک مؤذن بھی مقرر فرما دیجیئے، چنانچہ مؤذن اذان دیتا اور یہ عورتوں کی امامت کرتی تھیں،[عورتوں کی امامت کے متعلق دیباچہ کے صفحہ 8 پر ایک نوٹ ہے، وہ ملاحظہ فرمائیں۔] راتوں کو قرآن پڑھا کرتیں انہوں نے ایک لونڈی اور ایک غلام کو مدیر بنایا یعنی اس شرط پر آزادی کا وعدہ کیا تھا کہ میرے بعد تم آزاد ہو، ان بدبختوں نے اس وعدے سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا۔۔ اور رات کو ایک چادر ڈال کر انکا کام تمام کر دیا، یہ خلافت فاروقی کا واقعہ ہے، صبح کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے لوگوں سے پوچھا، آج خالہ کے پڑھنے کی آواز نہیں آئی، معلوم نہیں کیسی ہیں؟ مکان میں گئے دیکھا تو ایک چادر میں لپٹی ہوئئ پڑی ہیں نہایت افسوس ہوا، اور فرمایا اللہ اور رسول ﷺنے سچ کہا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ کہ "شہیدہ کے گھر چلو" اسکے بعد منبر پر چڑھے اور کہا غلام اور لونڈی دونوں گرفتار کیئے جائیں، چنانچہ وہ گرفتار ہو کر آئے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو سولی پر لٹکا دیا۔ یہ دونوں وہ پہلے مجرم ہیں جنکو مدینہ منورہ میں سولی دی گئی،[اصابہ ج8ص289]
     
  2. Jazak Allah
     

Share This Page