1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

حالات زندگی

Discussion in 'History aur Waqiat' started by PRINCE SHAAN, Dec 21, 2014.

  1. حالات زندگی

    Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    رابعہ بصریؒ نے جب ہوش سنبھالا تو والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور قحط سالی کی وجہ سے آپ کی تینوں بہنیں بھی آپ سے جدا ہوکر نہ جانے کہاں مقیم ہوگئیں ۔ آپ بھی ایک سمت کوچل دیں اور ایک ظالم نے پکڑ کرزبردستی آپ کو اپنی کنیزبنالیا اور کچھ دنوں کے بعد بہت ہی قلیل رقم میں فروخت کردیا اور اس شخص نے گھر لاکر بے حد مشقت آمیز کام آپ سے لینے شروع کردیئے ۔ ایک مرتبہ آپ کہیں جارہی تھیں کہ کسی نامحرم کو اپنے سامنے دیکھ کر اتنے زور سے گریں کہ ہاتھ ٹوٹ گیا ۔ اس وقت آپ نے سربسجود ہوکر عرض کیا کہ یا اللہ میں بے یارومددگار پہلے ہی سے تھی اور اب ہاتھ بھی ٹوٹ چکاہے ۔اس کے باوجود میں تیری رضا چاہتی ہوں ۔ چنانچہ ندائے غیبی آئی کہ اے رابعہ غمگین نہ ہو کل تجھے وہ مرتبہ حاصل ہوگا کہ مقرب ملائکہ بھی تجھ پر رشک کریں گے ۔ یہ سن کر آپ خوشی خوشی اپنے مالک کے یہاں پہنچ گئیں اور آپ کا یہ معمول تھاکہ دن میں روزہ رکھتیں اور رات بھر عبادت میں صرف کردیتیں۔ ایک شب جب آپ کے مالک کی آنکھ کھلی تو اس نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا ۔ اس وقت ایک گوشہ میں آپ کو سربسجود پایا اور ایک معلق نور آپ کے سر پر فروزاں دیکھا ۔ جب آپ اللہ تعالیٰ سے یہ عرض کررہی تھیں کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو ہمہ وقت تیری عبادت میں گذاردیتی لیکن چونکہ تو نے مجھے غیر کامحکوم بنا دیاہے اس لئے تیری بارگاہ میں دیر سے حاضر ہوتی ہوں ۔یہ سن کر آپ کا آقا بہت پریشان ہوگیا اور عہدکرلیا کہ مجھے تو اپنی خدمت لینے کے بجائے الٹی ان کی خدمت کرنی چاہئے۔ چنانچہ صبح ہوتے ہی آپ کو آزاد کرکے استدعا کی کہ اگر آپ یہاںقیام فرمائیں تومیرے لئے باعث سعادت ہے ، ویسے اگر آپ کہیں اور جانا چاہئیں تو آپ کو اختیار ہے ۔یہ سن کر آپ حجرے سے باہر نکل آئیں اور ذکرواذکار میں مشغول ہوگئیں ۔ آپؒ شب وروز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتی تھیں اور گاہے گاہے حضرت حسن بصریؒ کے وعظ میں بھی شریک ہوتیں ۔جس وقت سفر حج روانہ ہوئیں تو آپ کا ذاتی گدھا بہت نحیف تھا اور جب آپ سامان لادکرروانہ ہوچکیں تو وہ راستہ ہی مر گیا ۔ یہ دیکھ کر اہل قافلہ نے عر ض کیا کہ آپ کا سامان ہم لوگ اٹھائیں گے لیکن آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے بھروسہ پر سفر نہیں کیا ہے یہ سن کر اہل قافلہ آپ کو تنہا وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے ۔ اس وقت آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ ایک نادار وعاجز کے ساتھ کیا یہی سلوک کیا جاتاہے کہ پہلے تو اپنے گھر کی جانب مدعو کیا پھر راستے میں میرے گدھے کو مار ڈالا اور مجھ کو جنگل میں تنہا چھوڑ دیا گیا ۔ ابھی آپ کا شکوہ ختم بھی نہ ہونے پایا تھاکہ سواری کا پھر سے انتظام ہوگیااور آپ اس پر سامان لاد کر عازم مکہ ہوگئیں ۔ جب آپ مکہ معظمہ پہنچیں تو کچھ ایام بیابان میں مقیم رہ کر خدا سے التجا کی کہ میں اس لئے دل گرفتہ ہوئی کہ میری تخلیق توخاک سے ہوئی ہے اور کعبہ پتھر سے تعمیر کیا گیا ۔ لہٰذا میں تجھ سے بلاواسطہ ملاقات کی متمنی ہوں ۔ چنانچہ بلاواسطہ اللہ نے الہاماً فرمایا کہ اے رابعہ !کیا نظام عالم درہم برہم کرکے تمام اہل عالم کا خون اپنی گردن پر لینا چاہتی ہے اور کیا تجھے معلوم نہیں کہ جب موسیٰؑ نے دیدار کی خواہش کی اور ہم نے اپنی تجلیات میں سے ایک چھوٹی سی تجلی کوہِ طور پر ڈالی تو وہ پاش پاش ہوگیا ۔ اس کے بعد جب آپ دوبارہ حج کو گئیں تو روحانی آنکھ سے دیکھا گویاخانہ کعبہ خود آپؒ کے استقبال کے لئے چلا آرہاہے اور آپ نے فرمایا مجھے مکان کی حاجت نہیں بلکہ مکین کی ضرورت ہے کیونکہ مجھے حسن کعبہ سے زیادہ جمال خداوندی کے دیدار کی تمنا ہے ۔
     
  2. IQBAL HASSAN

    IQBAL HASSAN Management


    ماشاء اللہ بہت ہی عمدہ شیئرنگ ہے
    ہمارے ساتھ شیئر کرنے کے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
    جزاک اللہ خیرا
     

Share This Page