1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

مرزا اسد اللہ غالب

Discussion in 'Mirza Ghalib' started by PakArt, Dec 27, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    یوم خصوصی اشتراک بزرگ شاعر مرزا اسد اللہ غالب۔آپ بھی انکی یوم پیدائش پر انکی شاعری ہر شیئرنگ کریں۔


    نقش، فریادی ہےکس کی شوخئ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
    کاوکاوِ ‘سخت جانی ہائے‘ تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبہِ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے
    سینہِ شمشیر سے باہر ہے، دم شمشیر کا
    آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
    بس کہ ہوں غالب، اسیری میں بھی آتش زیرِ پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan



    جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
    صحرا، مگر، بہ تنگی۔ چشمِ حسود تھا
    آشفتگی نے نقشِ سویدا کیا درست
    ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
    تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ
    جب آنکھ کھل گئی، نہ زیاں تھا نہ سود تھا
    لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
    لیکن یہی کہ رفت، گیا اور بود،تھا
    ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
    میں، ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا
    تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد
    سرگشتہِ خمارِ رسوم و قیود تھا​
     
  3. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
    دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
    عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
    درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
    دوست دارِ دشمن ہے! اعتماد دل معلوم
    آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
    سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
    حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا
    غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
    خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
    حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
    ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
    شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
    آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا​
     
  4. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    دل میرا سوزِ نہاں سے بے محابہ جل گیا
    آتشِ خاموش کی مانند گویا جل گیا
    دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
    آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا
    میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
    میری آہِ آتشیں سے بال عُنقا جل گیا
    عرض کیجیئے جوہرِ اندیشہ کی گرمی کہاں
    کچھ خیال آیا تھا وحشت کا، کہ صحرا جل گیا
    دل نہیں، تجھ کو دکھاتا ورنہ، داغوں کی بہار
    اس چراغاں کا کروں کیا؟ کار فرما جل گیا
    میں ہوں اور افسردگی کی آرزو غالب! کہ دل
    دیکھ کر طرزِ تپاکِ اہل دنیا، جل گیا​
     
  5. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    شوق، ہر رنگ، رقیبِ سروسامان نکلا
    قیس، تصویر کے پردے میں بھی، عریاں نکلا
    زخم نے داد نہ دی تنگئ دل کی، یارب
    تیر بھی سینہ بسمل سے پر اَفشان نکلا
    بوئے گل، نالہ دل، دودِ چراغِ محفل
    جو تری بزم سے نکلا، سو پریشاں نکلا
    دلِ حسرت زدہ تھا، مائدہِ لذتِ درد
    کام یاروں کا بقدرِ لب و دنداں نکلا
    تھی نو آموزِ فنا، ہمتِ دشوار پسند
    سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
    دل میں پھر گریے نے اک شور اٹھایا غالب
    آہ، جو قطرہ نہ نکلا تھا، سو طوفاں نکلا​

     
  6. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
    عشقِ نبرد پیشہ، طلبگار؟ مرد تھا
    تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
    اڑنے سے پیشتر بھی میرا رنگ زرد تھا
    تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
    مجموعہِ خیال ابھی فرد فرد تھا
    دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
    اس رہ گزر میں جلوہِ گل، آگے گرد تھا
    جاتی ہے کوئی؟ کشمکش اندوہِ عشق کی
    دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا
    احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
    زنداں میں بھی خیال، بیاں نورد تھا
    یہ لاشِ بے کفن اسدِ خستہ جان کی ہے
    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا​

     
  7. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    دہر میں نقشِ وفا وجہِ تسلی نہ ہوا
    ہے یہ وہ لفظ، کہ شرمندہِ معنی نہ ہوا
    سبزہِ خط سے تراکاکُلِ سرکش نہ دبا
    یہ ُزمُرد بھی حریفِ دم افعی نہ ہوا
    میں نے چاہا، کہ اندوہِ وفا سے چھوٹوں
    وہ ستمگر مرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا
    دل گزر گاہِ خیالِ مے و ساغر ہی سہی
    گر نَفَس جادہِ سرمنزلِ تقوِی نہ ہوا
    ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پر بھی، راضی، کہ کبھی
    گوش منت کشِ گلبانگِ تسلی نہ ہوا
    کس سے محرومئ قسمت کی شکایت کیجیے
    ہم نے چاہاتھاکہ مر جائیں، سو وہ بھی نہ ہوا
    مر گیا صدمہِ یک جنبش؟ لب سے غالب
    ناتوانی سے حریفِ دم عیسِی نہ ہوا​

     
  8. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ستایشگر ہے زاہد ، اس قدر جس باغ رضواں کا
    وہ اک گلدستہ ہے ہم بیخودوں کے طاقِ نسیاں کا

    بیاں کیا کیجئے بیدادِکاوشہائے مژگاں کا
    کہ ہر یک قطرہء خوں دانہ ہے تسبیحِ مرجاں کا

    نہ آئی سطوتِ قاتل بھی مانع ، میرے نالوں کو
    لیا دانتوں میں جو تنکا ، ہوا ریشہ نیستاں کا

    دکھاؤنگا تماشہ ، دی اگر فرصت زمانے نے
    مِرا ہر داغِدل ، اِک تخم ہے سروِ چراغاں کا

    کیا آئینہ خانے کا وہ نقشہ تیرے جلوے نے
    کرے جو پرتوِ خُرشید عالم شبنمستاں کا

    مری تعمیر میں مُضمر ہے اک صورت خرابی کی
    ہیولٰی برقِ خرمن کا ، ہے خونِ گرم دہقاں کا

    اُگا ہے گھر میں ہر سُو سبزہ ، ویرانی تماشہ کر
    مدار اب کھودنے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

    خموشی میں نہاں ، خوں گشتہ لاکھوں آرزوئیں ہیں
    چراغِ مُردہ ہوں ، میں بےے زباں ، گورِ غریباں کا

    ہنوز اک پرتوِ نقش خیال یار باقی ہے
    دلِ افسردہ ، گویا حجرہ ہے یوسف کے زنداں کا

    نہیں معلوم ، کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
    قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا

    نظر میں ہے ہماری جادہ ء راہِ فنا غالب
    کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشاں کا
     
  9. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    رد منتِ کشِ دوا نہ ہوا
    میں نہ اچھا ہوا، بُرا نہ ہوا

    جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
    اک تماشا ہوا گِلا نہ ہوا

    ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
    تُو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

    کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
    گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

    ہے خبر گرم ان کے آنے کی
    آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

    کیا وہ نمرود کی خُدائی تھی
    بندگی میں میرا بھلا نہ ہوا

    جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یُوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    زخم گر دب گیا لہو نہ تھما
    کام گر رُک گیا روا نہ ہوا

    رہزنی ہے کہ دلستانی ہے
    لے کے دل، دلستاں روا نہ ہوا

    کچھ تو پڑھیے کہ لوگ کہتے ہیں
    آج “غالب“ غزل سرا نہ ہوا​
     
  10. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan

    ہ فراق اور وہ وصال کہاں وہ شب و روز وہ ماہ و سال کہاں
    فرصتِ کاروبارِ شوق کسے ذوقِ نظارہ جمال کہاں
    دل تو دل وہ دماغ بھی نہ رہا شورِ سودائے خط و خال کہاں
    تھی وہ اک شخص کے تصور سے اب وہ رعنائی خیال کہاں
    ایسا آساں نہیں لہو رونا دل میں*طاقت، جگر میں حال کہاں
    ہم سے چھوٹا قمار خانہ عشق واں جو جاویں، گرہ میں مال کہاں
    فکر دنیا میں سر کھپاتا ہوں میں کہاں اور یہ وبال کہاں
    مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں​

     

Share This Page