1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

سرکار کی آمد مرحبا

Discussion in 'Islamic Events-ITU' started by PakArt, Dec 30, 2014.

  1. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی ہر طرف مبارکباد کے پیغامات' انسانوں کے چہروں پر مسرت و شادمانی اور ہرسُو ایک خوشی کا سماں دکھائی دیتا ہے۔ مسلمان سرکارۖ کی آمد کی خوشی منانے کیلئے تیار اور مستعد ہیں۔ محافل کا انعقاد' جلوسوں کا غلغلہ اور چراغاں جاری ہے۔ جہاں عشق و محبت کے یہ مناظر دکھائی دے رہے ہیں' وہیں امت مسلمہ کی ایک قلیل تعداد خوشی کے اس موقع پر ناک بھوں چڑھاتی نظر آ رہی ہے۔ ہر سال میلاد النبیۖ کے موقع پر ان لوگوں کے بے تکے سوالات اور بے سروپا اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں۔ میلادالنبیۖ کی شرعی حیثیت کے حوالے سے علماء کرام قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے دلائل پیش کر چکے اور یہ کہ نبی کریمۖ کی ولادت کی خوشی منانا صحابہ کرام کے دور سے لیکر آج تک اُمت مسلمہ کا طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا میں اس بات پر کوئی گفتگو نہیں کرنا چاہتا کیونکہ عیدمیلادالنبیۖ کا جواز قرآن و حدیث سے ثابت اور مسلمہ ہے۔ میں اس کالم میں ایک اور انداز سے میلادالنبیۖ پر گفتگو کرنا چاہوں گا۔
    میلاد النبی ۖ پر خوشی منانے کی مخالفت کرنے والوں کو ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ قرآن پاک میں میلاد کی خوشی کا واضح حکم موجود نہیں۔ جیسے نماز' روزہ' زکوٰة اور حج کے حوالے سے احکامات موجود ہیں۔ ان کی بات اس حوالے سے درست ہے' لیکن ایسا بھی نہیں کہ میلاد کی خوشی کرنے سے روک دیا گیا ہو بلکہ اگر کتاب و سنت کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ میلاد النبیۖپر خوشی کے جواز کے ثبوت خود ملتے ہیں۔ اب رہ گئی یہ بات کہ میلادالنبیۖ کا مہینہ شروع ہوتے ہی کچھ لوگوں کے دلوں میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں۔ چہروں پر آثار قبض نمایاں ہو جاتے ہیں اور سرکار دو عالمۖ کی ذات کے ساتھ بغض عیاں ہو کر ان کے چہروں اور زبانوں پر آجاتا ہے اور وہ ٹھونک بجا کر عاشقان رسولۖ کی خوشیوں پر فتوے لگانے میدان میں اتر آتے ہیں۔
    میلادالنبیۖ منانے کے واضح احکامات قرآن پاک میں نہ ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک کو یہ گوارا نہیں کہ محبوب خداۖ کی ولادت کی خوشی کوئی مجبوری میں نہ منائے بلکہ جس نے بھی اس کارخیر میں شرکت کرنی ہے وہ دل سے خوش ہوکر کرے۔ اللہ پاک کیلئے کچھ مشکل نہیں تھا کہ قرآن پاک میں نماز اور روزے کی طرح میلاد منانے کا حکم ارشاد کر دیتا' لیکن اللہ پاک نے ایسا نہیں کیا کیونکہ سرکارۖ کی ولادت کی خوشی آقاۖ کے غلاموں اور آپۖ سے بغض رکھنے والے لوگوں میں امتیاز کی نشانی ہے۔ لہٰذا ربیع الاول کے مہینے میں ولادت کی خوشی سے سرکارۖ کے غلاموں کی پہچان ہوتی ہے اور ان لوگوں پر یہ خوشی ایک قیامت بن کر نازل ہوتی ہے جس کے دلوں میں نفاق اور سرکارۖ سے بغض کی بیماری ہے
    حشر تک ڈالیں گے پیدائش ِمولاۖ کی دھوم
    مثلِ فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
    محبت کے انداز انوکھے' اطوار جدا اور اظہار کے طریقے بھی الگ ہی ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام کو سرکارۖ سے محبت اور عقیدت کے انداز کس نے سکھائے۔ قرآن پاک میں کہیں یہ حکم نہیں کہ نبی کریمۖ وضو کریں تو پانی زمین پر نہ گرنے دینا۔ آپۖ داڑھی مبارک کا خط کریں تو بالوں کو اپنے دامنوں میں سمو لینا اور اگر آپۖ اپنا لعاب دہن عطا کریں تو اسے زمین پر نہ گرنے دینا۔ نبی کریمۖکے پسینہ مبارک کو جمع کرکے خوشبو اور عطر کے طورپراستعمال کرنے کا حکم بھی قرآن پاک نے نہیں دیا تھا بلکہ یہ محبت و عقیدت کے وہ انداز تھے جو صحابہ کرام کے دلوں سے اٹھے اور اس کی توثیق خود سرکارِ دوعالمۖ نے اپنے عمل مبارک سے کر دی۔
    سرکارۖ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ سوائے ان کے جن کے دلوںپر مہر لگا دی گئی ہے۔ وہ کچھ بھی سننے' سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر ہیں اور ایسے لوگ میرے آج کے کالم کے مخاطب بھی نہیں ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دل تو مُردہ ہو چکے ہیں' لیکن میں ان لوگوں سے ضرور کلام کرنا چاہوں گا جن کے دل اس حوالے سے گومگو کا شکار ہیں۔ جن کے دماغ کسی شک و شبہ میں مبتلا ہیں یا وہ بھی کسی وجہ سے سرکار دو عالمۖ کی ذات کے حوالے سے کئے جانے والے پراپیگنڈے سے متاثر ہ ہوچکے ہیں کہ غیر جانبداری اور محبت سے معاملات کا جائزہ لیں اور قرآن و سنت کا مطالعہ کریں تو ان پر واضح ہو جائے گا کہ ایمان کی اصل اور قیامت والے دن کامیابی کی ضمانت صرف اور صرف محبت و عشق مصطفیۖ سے مشروط ہے۔ محبت اتنا خوبصورت اور پاکیزہ جذبہ ہے کہ انسان کو سرمدی انعامات سے نوازتا ہے۔ جہالت کی تاریکی سے نکال کر اسلام کے نور کی طرف لے جاتاہے۔ امجد اسلام امجد کہتے ہیں
    محبت ابر کی صورت
    دلوں کی بستیوں پہ
    گھر کے آتا اور برستا ہے
    یہ ان کو بھی آباد اور شاداب کرتا ہے
    کہ جو دل ہیں قبر کی صورت
    محبت ابر کی صورت
    اور آقاۖ کی محبت تو ایسا ابر ہے جس سے ایمان کے سوتے پھوٹتے اور بخشش کے باغ لہلاتے ہیں۔ میری قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اگر کسی مخمصے کا شکار ہیں یا ان کے ذہنوں اور دلوںپر سرکار دوعالمۖ کی ذاتِ مقدسہ کے بارے میں کوئی گرد پڑ چکی ہے تو اسے محبت' عشقِ مصطفیۖ سے صاف کردیں اور قرآن و حدیث میں سرکار دوعالم ۖکے مقام و مرتبہ کے حوالے سے موجود معلومات کا مطالعہ کریں۔ اپنے ایمان کو مضبوطی اور جلا بخشیں اور ولادتِ مصطفیۖ کی خوشی میں خوب خوب چراغاں کریں۔ دلوں کو باغ باغ کر دیں اور اپنوں کے لبادے اوڑھے ان غیروں کوضرور پہچانیںجو خرمنِ ایمان کو شک و شبہ کی چنگاری سے جلا دینا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اعلیٰ حضرت امام اہلسنت نے ارشاد فرمایا تھا کہ
    اور تم پر آقاۖ کی عنایت نہ سہی
    نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا
    ایسے لوگوں کی ایک نشانی قرآن پاک میں بھی بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے تو دوڑے چلے آتے ہیں' لیکن جب انہیں رسولۖ کی ذاتِ بابرکت کی طرف دعوت دی جائے تو ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور ان کے چہروں پر سختی اورکرختگی در آتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اُمت مسلمہ کے ساتھ مخلص ہیں اور یہ نہ ہی والیٔ امتۖ کے ساتھ۔
    بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ ربیع الاول میں خوب خوب خوشیاں منائی جائیں۔ یہی صحابہ کرام کا طریقہ ہے، یہی اہل بیت اطہار کا عقیدہ ہے اور یہی اولیاء و صالحین کا عمل ہے۔ ان لوگوں کی باتوں پر ہرگز دھیان نہ دیں جو ہمیں اس عقیدے' اس طریقے اور اس عمل سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ آقاۖ کی سنت پر ہیں نہ قرآن کی تعلیمات پر
    نثار تیری چہل پہل پہ ہزار عیدیں اے ربیع الاول
    سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں
    امام المحدثین شیخ محقق شاہ عبدالحق محدثدہلوی اپنی کتاب اخبارالاخیار میں لکھتے ہیں
    ''اے اللہ! میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیرے دربار میں پیش کرنے کے لائق سمجھوں' میرے تمام اعمال میں فسادنیت موجود رہتا ہے۔ البتہ مجھ حقیر فقیر کا ایک عمل صرف تیری ذات پاک کی عنایت کی وجہ سے بہت شاندار ہے اور وہ یہ کہ مجلس میلاد کے موقع پر میں کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہوںاور بہت ہی عاجزی و انکساری' محبت و خلوص کے ساتھ تیرے حبیب ۖ پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔ اے اللہ وہ کون سا مقام ہے جہاں میلاد مبارک سے زیادہ تیری خیرو برکت کا نزول ہوتا ہے۔ اس لئے اے الرحم الراحمین! مجھے پکا یقین ہے کہ میرا یہ عمل کبھی بے کار نہ جائے گا بلکہ یقینا تیری بارگاہ میں قبول ہو گا اور جو کوئی درود و سلام پڑھے اور اس کے ذریعے دعا کرے وہ کبھی مسترد نہیں ہو سکتی۔''
    شیخ محقق کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ میں نے محافل میلاد میں دعائوں کی قبولیت کا خود مشاہدہ اور تجربہ کیا ہے۔
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے والد گرامی شاہ عبدالرحیم دہلوی فرماتے ہیں
    ''میں ہر سال میلاد شریف کے دنوں میں کھانا پکوا کر لوگوں کو کھلایا کرتا تھا۔ ایک سال قحط کی وجہ سے بُھنے ہوئے چنوں کے سوا کچھ میسر نہ ہوا۔ میں نے وہی چنے تقسیم کر دیئے۔ رات کو خواب میں آقا و مولیٰۖ کی زیارت سے مشرف ہوا تو دیکھا وہی بُھنے ہوئے چنے سرکار دوعالمۖ کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور آپۖ بے حد مسرور اورخوش ہیں۔''
    امام ابن جوزی فرماتے ہیں کہ سیدہ آمنہ نے بوقت ولادت ایک ہاتفِ غیبی کی ندا سنی جو یہ کہہ رہا تھا ''ہر وہ شخص جو نبی کریمۖ کی ولادت کے باعث خوش ہوا' اس کیلئے اللہ تعالیٰ نے آگ سے محفوظ رہنے کیلئے حجاب اور ڈھال بنائی۔ جس نے مصطفی کریمۖ کا میلاد منانے کیلئے ایک درہم خرچ کیا' نبی کریمۖاس کیلئے شافع اور مشفع ہونگے اور اللہ تعالیٰ ہر درہم کے بدلے دس گنا عطا فرمائے گا۔''
    آپۖ آئے تو منادی ہو گئی صائم زمانے میں
    بہار آئی' بہار آئی' بہار آئی' بہار آئی
    بہار جب بھی آتی ہے اپنے ساتھ خوشیاں' محبتیں' خوشبوئیں اور چاہتیں لاتی ہے اور ولادتِ مصطفیۖ سے بڑی بہار کائنات کو نصیب ہوئی ہے نہ کبھی ہوگی
    ہوا بدلی' گھِرے بادل' کھلے گل'بلبلیں چہکیں
    تم آئے بہارِ جاں فزائی آئی گلستان میں
    عیدِولادتِ مصطفیۖ کی اس بہار کو دل و جاں سے خوش آمدید
    کہتے ہوئے اپنی مسرت و شادمانی کا اظہار کریں' خوب خوب خوشیاں منائیں' چراغاں کریں' گھروں اور مسجدوں کو سجائیں' سرکار کی بارگاہ میں درودوں کے گجرے اور سلاموں کے تحفے پیش کریں، ہرسُو اک دھوم مچا دیں۔
    ابوجہلی کہے بدعت و لیکن ذکر میلاد سے
    دلوں میں عاشقوں کے بڑھتی ہے الفت محمدۖ کی
    اور اعلیٰ حضرتۖ فرماتے ہیں ۔
    غیض سے جل جائیں بے دینوں کے دل
    یا رسول اللہۖ کی کثرت کیجئے
    اللہ کریم الرحم الراحمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیں اور ہماری اولاد کو آقائے کریمۖ کی ولادت کی خوشیاں منانے والوں میں رکھے اور قیادت کے دن بھی دلوں میں عشق مصطفیۖ کے دیپ اور لبوں پر سرکارۖ کے نغمے لیکر اُٹھیں اور خدا وہ وقت لائے کہ جنت میں بھی جشنِ میلادۖ منائیں (آمین)
    سرکارۖ کی آمد مرحبا
    دلدارۖ کی آمد مرحبا
    آقاۖ کی آمد مرحبا
    مرحبا یا مصطفیۖ' مرحبا یا مصطفیۖ​
     
  2. Sarkar ki aamad marha-ba
     

Share This Page