1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

گئی رتوں میں تو شام و سحر. احمد فراز

Discussion in 'Ahmad Faraz' started by PRINCE SHAAN, Jan 18, 2015.


  1. گئی رتوں میں تو شام و سحر

    گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے
    کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے



    یہاں بھی پھول سے چہرے دکھائی دیتے تھے
    یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے



    ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کیسی
    کہ اس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے ایسے



    رفاقتوں سے مرا ہُوں مسافتوں سے نہیں
    سفر وہی تھے مگر ہم سفر نہ تھے ایسے



    ہمیں تھے جو ترے آنے تلک جلے ورنہ
    سبھی چراغ سرِ رہگذر نہ تھے ایسے



    دلِ تباہ تجھے اور کیا تسلّی دیں
    ترے نصیب ترے چارہ گر نہ تھے ایسے



    فراز خوش ہو کہ احسان اس ستمگر کے
    جو تجھ پہ ہیں وہ کسی اور پر نہ تھے ایسے


     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Bohat Khoob
     

  3. تمہاری پوروں کا لمس

    تمہاری پوروں کا لمس اب تک
    مری کفِ دست پر ہے
    اور میں سوچتا ہوں
    وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
    وہ کہہ گئے تھے
    کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں
    تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں
    وہ کہہ گئے تھے
    تمہاری پوریں
    جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں
    وہی تو قسمت تراش ہیں
    اور اپنی قسمت کو
    سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو
    ہماری مانو
    تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا
    میں اُس سمے سے
    تمام ہاتھوں
    وہ ہاتھ بھی
    جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں
    وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے
    اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں
    اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے
    اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔
    وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان
    معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے
    تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے
    دست کش یوں رہا ہوں جیسے
    یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو
    وہ ساری سچائیوں کے موتی
    مسرتوں کے تمام جگنو
    جو بے یقینی کے جنگلوں میں
    یقین کا راستہ بناتے ہیں
    روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں
    میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے
    پھر نہ تازہ ہوا چلے گی
    نہ کوئی شمع صدا جلے گی
    میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں
    مگر جب اک شام
    اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی
    ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی
    مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا
    تو مٹھیاں میں نے کھول دیں
    اور میں نے دیکھا
    کہ میرے ہاتھوں میں
    کوئی جگنو
    نہ کوئی موتی
    ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں
    اور ان میں
    قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں۔



    احمد فراز

     

  4. Hello guest, Thank you for Register or you log to see the links!

    یوں تو کہنے کو بہت لوگ

    یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
    کہاں لے جاؤں تجھے اے دلِ تنہا میرے

    وہی محدود سا حلقہ ہے شناسائی کا
    یہی احباب مرے ہیں، یہی اعدا میرے

    میں تہِ کاسہ و لب تشنہ رہوں گا کب تک
    تیرے ہوتے ہوئے ، اے صاحبِ دریا میرے

    مجھکو اس ابرِ بہاری سے ہے کبکی نسبت
    پر مقدر میں وہی پیاس کے صحرا میرے

    دیدہ و دل تو ترے ساتھ ہیں اے جانِ فرازؔ
    اپنے ہمراہ مگر خواب نہ لے جا میرے

     

Share This Page