1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

ماں

Discussion in 'Urdu Iqtebaas' started by IQBAL, Jan 28, 2015.

  1. IQBAL

    IQBAL Cruise Member


    [​IMG]

    کسی بھی شخص کی زندگی میں کوئی تعلق اتنا مضبوط اور بے لوث نہیں ہو سکتا ،جتنا ماں کا رشتہ بے لوث اور اٹوٹ ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف نئے تخلیق شدہ بچے کا پہلا تعلق ہوتا ہے بلکہ حاملہ ہونے کے وقت سے لے کر اس وقت تک جب تک بچہ دنیا میں جینے اور رہنے کے قابل نہیںہوجاتا اسے اپنے پیٹ میں اور گود میںاٹھائے پھرتی ہے۔ تمام مائیں اس صداقت کی تصدیق کریں گی کہ حاملہ ہونے کے وقت سے پیدائش تک کے طویل عرصے کے دوران ان کو کئی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی دردوں کو سہنا پڑتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی وہ ماں بننے کے احساس اور نئے بچے کی تخلیق کے تجربے سے لطف اندوز بھی ہوتی ہیں۔9 ماہ تک بچے کو اپنی کوکھ میں رکھنے کے بعد ماں کو بچے کی پیدائش کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ مرحلہ کسی بھی طرح آسان نہیں ہوتا۔ دردزہ اور بچے کی پیدائش کے دوران ہونے والی دردوں کا خوف اتنا شدید ہے کہ آج کے دور کی مائیں ان کا سن کر ہی چیخ پڑتی ہیں۔ جدید سائنس زچگی کے مراحل کو آسان کرنے کے حوالے سے تحقیقات کی کوششوں میں جتی ہے۔ ان تحقیقات کا محرک وہی خوف ہے جو ماؤں کے دلوں میں گھر کر گیا ہے۔ نیا نومولودبچہ بھی ایک عجوبہ ہوتاہے۔ بے لباس، بے خوراک اور بے یارو مددگار قسم کی ایک مخلوق… لیکن پیٹ میں موجود بچے کے بر عکس دنیا میں آجانے والا بچہ اپنی ماں سے مضبوط ترین تعلقات کی بنیاد رکھتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد سے ہی وہ اس پر اپنے حق کا دعوی کرتا ہے۔ اس کی ماں اسے کپڑے پہناتی ہے اور اپنے سینے سے اسے دودھ پلاتی ہے۔ وہ اسے احساسِ تحفظ دیتی ہے۔ بچے میں جبلتاً یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ رو کر ماں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے۔ روکر متوجہ کرانے کی یہ عادت اس کے لیے مفید رہتی ہے اور اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ اس نامختتم کائنات کی وسعت میں جینے کی راہیںبنا سکے۔ بچہ اپنی ماں سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اس کے جواب میں وہ اپنی ماں کو احساس طمانیت اور محبت دیتا ہے۔ کائنات کی وسعتوں کے مابین ماں اور بچے کا ایک خوبصورت تعلق تخلیق پاچکاہے۔ اس تعلق میں جہاں ماں بچے کی جسمانی ضرورتوں کے پورا ہونے کا وسیلہ بنتی ہے وہیں بچہ ماں کو وہ اندرونی تسکین دینے کا سبب بنتا ہے جس کا بیان وہ مائیں بھی نہیں کر سکتیں جو اس طمانیت سے محظوظ ہورہی ہوتی ہیں۔ ہندو مذہبی کتابیں ماں اور بچے کے تعلق کو تمام انسانی تعلق سے بلند مرتبہ دیتی ہیں۔ منوسمرتی میں لکھا ہے: ’’اپنے استاد کا لازماً احترام کریں، روحانی پیشوا، استاد کے احترام کے مقابلے میں10 گنا زیادہ احترام کا حقدار ہے، اور باپ100 گنا زیادہ اس احترام اور محبت کا مستحق… مگر ان سارے تعلقات کے مقابلے میں ماں1000 گنا زیادہ محبت اور احترام کی مستحق ہے۔‘‘ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ماں کا تعلق درد، تکلیف اور قربانی سے ہے تو آخر کیوں عورتیں ماں بننے کو بے تاب رہتی ہیں۔ یہ ان کی ایک فطری ضرورت ہے۔ یہ نسل انسانی کے فروغ پانے کا واحد ذریعہ ہے۔ بعض معاشروں میں ایسا ہے کہ عورتیں ماں بننے سے کتراتی ہیں۔ ایسا اس ثقافتی دبائو اور معاشی تنگی کی وجہ سے ہے جو ان معاشروں میں ہے۔ ان معاشروں میں انسانی آبادی خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے۔ فطرت سے دور ہوتے انسان کے لیے یہ ایک اور مثال ہے جو اسے بتاتی ہے کہ وہ فطرت کے اصولوں پر قائم رہے۔ ان عورتوں کا دکھ جاننے کی کوشش کریں جو کسی بھی وجہ سے ماں نہیں بن سکتیں۔ ان سے پوچھیں۔ ان میں سے اکثریت اولاد کی خواہش میں تڑپ رہی ہوتی ہیں۔ کتنے ہی ملک ایسے ہیں جہاں یہ عورتیں نامکمل اور بد قسمت تصور ہوتی ہے۔ طب میں اب یہ الگ شعبہ ہے جہاں بانجھ عورتوں کے علاج کے حوالے سے تحقیق کی جاتی ہے۔ اس شعبے کی وجہ سے بہت سی ایسی عورتیں ہیں جنہیں ماں بننے کی خوشی حاصل ہوئی ہے۔ ماں بننے کی ایک دوسری راہ یہ ہے کہ بچے کو گود لے لیا جائے۔ بہت سے بے اولاد جوڑوں میں یہ عام ہے کہ وہ یتیم خانوں، ہسپتالوں، رشتے داروں یا دوستوں سے بچے لے کر انہیں اپنی اولاد کے طور پر پالتے ہیں لیکن اس عمل کے ذریعے ماں بننے کا جوتجربہ ہے اس کی تلافی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں پیدائش کا عمل نہیں ہوتا، حمل اور زچگی کے باقی مراحل سے واسطہ نہیں پڑتا۔ یہ تجربہ اس لحاظ سے بھی نامکمل ہے کہ اس میں عورت بچے کو دودھ پلانے کی نعمت سے محروم رہتی ہے۔ تاہم اس رشتے میں بھی ماں اور بچے کا ایک تعلق تعمیرہو جاتاہے۔ کئی عورتیں اور بچے ایسے ہیں جو اس تعلق کے ذریعے سے بھی وہ خوشی اور طمانیت حاصل کرتے ہیں جو عام اور حقیقی ماؤں اور ان کے بچوں کے درمیان ہوتا ہے۔ اور یوں ان کی زندگی کو ایک نیا رخ مل جاتاہے۔ یاد رکھیں!عام اصول ہے کہ وہ لوگ جو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں، اپنی ماؤں کی کوکھ سے برتری کے یہ عناصر لے کر آتے ہیں۔


    (پریم پی بھالا کی کتاب ’’اچھے تعلقات کے رہنما اصول‘‘ سے ماخوذ) ٭…٭…٭

     
    PakArt likes this.
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    Khoobsurat Sharing
     
  3. خوبصورت شیئرنگ ... اچھی شیئرنگ کے لئے شکریہ

    روحوں جیسا پاک و صاف​
     

Share This Page