1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

روشن کرنیں

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL, Jan 28, 2015.

Share This Page

  1. IQBAL
    Offline

    IQBAL Cruise Member
    • 36/49


    [​IMG]


    آئیڈیل زندگی ’’اورجو لوگ ایمان لائے اورا چھے عمل کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں،اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو گھنی چھاؤں میں رکھیں گے‘‘۔ )النسا 4:57
    عرب کے صحراؤں میں جہاں پانی وسبزہ کمیاب اور دھوپ کی شدت ناقابل برداشت ہے، اللہ تعالیٰ کی عطا اور کرم کا اس سے اچھا بیان ممکن نہیں۔جنت کا لفظی مطلب ’باغ‘ ہے۔ صحرا میں رہنے والے لوگوں کے لیے بہترین مقام کا تصور یہی ہے کہ وہ ایک باغ میں مقیم ہوں جس میں نہریں بہتی ہوں۔ یہ باغ اتنا گھنا ہو کہ صحرا کی تپتی دھوپ اور جھلسادینے والی ہوا ،دونوں اس کی چھاؤں میں غیر موثر ہوکر رہ جائیں۔ اس باغ کا پھل ان کی خوراک بنے، اس کے سبزے میں ان کے مویشی چرتے پھریں، اس کے پانی سے ان کی کھیتی سیراب ہو اور وہ ان نعمتوں میں پاکیزہ اہل خانہ کے ہمراہ اپنی زندگی کے دن گزاریں۔سب سے بڑھ کر انہیںیہ یقین ہو کہ زمانے کی رفتاراور ماہ و سال کی گردش انہیں ان کی اس کائنات سے محروم نہیں کریں گے اور وہ ہمیشہ اس جگہ مقیم رہیںگے۔ یہ عرب کے صحرا نشین ہی نہیں، عام انسان کی زندگی بھی حالات کی دھوپ چھاؤں میں کیا جانے والا ایک سفر ہے۔ انسان فطری طور پر سہولت پسند واقع ہوا ہے۔ وہ لذت کو پسند کرتا، آسانی کی خواہش کرتااور سکون کی تمنا کرتا ہے۔ مگر زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ناگوار واقعات اس کی پرسکون زندگی میں خلل ڈالدیتے ہیں۔ حالات کی تپش ا س کے وجود کو جھلسادیتی ہے۔محرومی کی آگ اس کے نشیمن کوراکھ کا ڈھیر بنادیتی ہے۔ ایسے میں یہ آیت انسان کو یقین دہانی کراتی ہے کہ وہ اپنی جنت کا جو نقشہ چاہے بنالے ، اللہ تعالیٰ اس نقشے میں زندگی کی روح پھونک کر کل قیامت کے دن اس کے حوالے کردیں گے۔ یہاں وہ اندیشوں کی ہر دھوپ اور پچھتاووں کی ہر جلن سے محفوظ رہ کر سکون کی چھاؤں میں زندگی گزارے گا۔وہ زندگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔ اس جنت کے خواہش مند انسان کے لیے البتہ یہ ضروری ہے کہ وہ اس عارضی دنیا کی ہر دھوپ اور ہر چھاؤں میں اپنے رب کی پسند کے اعمال کرتا رہے۔وہ ایک ایسا درخت بن جائے جس کی ہر شاخ ایمان و اطاعت کے ساتھ رب کے سامنے جھکی رہنے والی ہو، پاکیزہ اخلاق و اعمال کے پھل اس سے پھوٹتے رہیں اور مخلوق خدا کے لیے اپنی ذات میں ایک سایہ دار درخت ہو۔یہی وہ درخت ہے جسے آنے والے روز، قیامت کے دن، جنت کے باغ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لگادیا جائے گا۔ بادشاہوںکا بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک مشہور نبی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انہیںاپنے زمانے کا سب سے بڑا بادشاہ بنایا تھا۔ جنوں، پرندوں اورہواؤں کو بھی ا ن کا تابع فرمان کردیا تھا۔وہ پرندوں یہاں تک کہ چیونٹیوں کی باتیں بھی سمجھ لیتے تھے۔ان کے دربار میں ایسے باکمال لوگ موجود تھے جو ان کے حکم پر ہزار میل دور موجود ایک چیز کو لمحہ بھر میں ان کے دربار میں پہنچادیتے تھے۔مگر اس سب کے باجود وہ لمحہ بھر غافل نہ رہتے اور ہر لمحے رب کا شکر ادا کرتے رہتے۔ قرآن پاک کی سورہ نمل میںیہ ساری تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔اسی سورت میں یہ واقعہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان کے لشکر میں موجود پرندے ہد ہد نے ایک روز انہیں یہ اطلاع دی کہ یمن کی قوم سبا پر ایک عورت حکمران ہے جو بڑی شان و شوکت کی مالک ہے۔البتہ وہ اور اس کی قوم شرک کا شکار ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس خدمت پرمامور تھے کہ شرک کو ختم کردیں، انہیں جب یہ اطلاع ملی تو آپ نے ہد ہد کے ذریعے سے اسے ایک خط پہنچوایا کہ فرمانبرداری کے ساتھ فوراََ میری خدمت میں حاضر ہو۔ جب ملکہ سبا کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط ملا تو اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔وہ ایک طاقتور قوم کے سردار تھے اس لیے اپنی ملکہ کو جنگ کا مشورہ دیا۔اس پر ملکہ سبا نے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی طاقت سے واقف اور بہت سمجھدار خاتون تھی، اپنا وہ تاریخی جملہ کہا جو انسان کی ہزاروں سالہ سیاسی زندگی کا نچوڑ ہے۔ قرآن نے اس کی بات کو اس طرح بیان کیا ہے۔ ’’بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں (فتح کے بعد )داخل ہوتے ہیں تو وہاں فساد برپا کردیتے ہیں اور وہاں کے معززین کو ذلیل کرکے چھوڑتے ہیں۔‘‘(نمل 34:27) ملکہ سبا کا یہ جملہ بادشاہوں کے اس رویے کو بیان کرتا ہے جو ہمیشہ سے ان کا معمول رہا ہے۔ بادشاہ جب کسی ملک پر قبضہ کرلیتے ہیں تو ان کی طاقت کو یہ گوارہ نہیں ہوتا کہ کوئی ان کے خلاف اٹھنے کی جرأت کرے۔اس لیے جو کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسے کچل کر رکھ دیتے ہیں اور خاص طور پر وہاں کے عزت دار لوگ، جن کی طرف سے بغاوت کا اندیشہ سب سے بڑھ کر ہوتا ہے ، انہیں ذلیل اور بے وقعت بناکر رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کائنات کے بادشاہ ہیں ۔وہ بادشاہوںکے بادشاہ ہیں۔ان کی سنت بھی اس معاملے میںدوسرے بادشاہوں سے کچھ مختلف نہیں۔تاہم اللہ تعالیٰ کو کسی عام بستی کو فتح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔وہ بادشاہ کی حیثیت سے اگر داخل ہوتے ہیں تو دل کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔پھر اس کے بعد وہ دل کی اس بستی میں وہی کچھ کرتے ہیں، جو دوسرے بادشاہ اپنے مفتوحہ علاقوں میں کرتے ہیں۔ وہ اس بستی میں ہر اس تعمیر کو گرادیتے ہیں جس میں دنیا کی محبت آباد ہوتی ہے۔وہ ہر اس عمارت کو مسمار کردیتے ہیں جس میں غیر اللہ کا بسیرا ہوتا ہے۔وہ ان قلعوں اور چھاؤنیوں کو تاراج کردیتے ہیں جو نفس و شیطان کی پناہ گاہ ہوتی ہیں۔ وہ خواہشات کے اس محل سرا کو ویران کردیتے ہیں جس میں دنیا پرستی کا ڈیرا ہوتا ہے۔وہ دل کی دنیا کے ہر عزت دار کو اس طرح ذلیل و رسوا کرتے ہیںکہ وہ کبھی سرا ٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔مال و دولت، عزت و شہرت، جمال و کمال ، آسائش وزیبائش کے وہ بت جن کی پرستش ہر دل میں کی جاتی ہے ،اس بستی میں خدائے ذوالجلال کی دہشت سے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ اس کے بعد انسان چاہے سلیمان علیہ السلام کی طرح کا بادشاہ ہی کیوں نہ ہو، دنیا میں ہر طرف سے گھرا ہی کیو ں نہ ہو، اس کا دل خدا کی جاگیر بن جاتا ہے ۔اس مفتوحہ دل میں ہر طرف خدا کی عظمت کا راج ہوتا ہے۔ اسی کی بڑائی کے نغمے گائے جاتے ہیں۔ یہی تاراج دل ٹوٹا ہوا دل ہے…یہی وہ دل ہے جو آج نایاب ہوچکا ہے ۔ آج کے بے ایمان حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اہل مدین کی طرف رسول بناکر بھیجا۔اہل مدین کوئی اور نہیں حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے تھے۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان میں طر ح طرح کی برائیاں پیدا ہوگئیں تھیں۔اس دور کی دیگر اقوام کی طرح یہ لوگ بھی شرک کا شکار تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا مگر وہ بازنہ آئے۔ آخر کار اس قوم پر زلزلہ کا عذاب آیا اور پوری قوم تباہ کردی گئی۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے علاوہ ان کے ایک اور مرض کا بھی ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ لوگ ناپ تول میں ڈنڈی مارتے تھے۔قرآن میں ہے کہ جب حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اس حوالے سے سمجھایا تو انہوںنے طنزیہ جواب دیا کہ اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کرسکیں۔ بس تم ہی ایک دانشمند اور راستباز رہ گئے ہو؟ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ منافع کمانے کے ناجائز طریقے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہے۔ اس عمل میں چونکہ انسان جان بوجھ کر دوسرے انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اس لیے اس کا دل سخت ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ وقت کے پیغمبر کا مذاق اڑانے پر اتر آتا ہے۔اسی طرح یہ بات بھی اس واقعہ سے سامنے آتی ہے کہ اللہ پر ایمان رکھنے والا اورنماز پڑھنے والا انسان کبھی اس طرح کے بھیانک اخلاقی جرائم کا ارتکاب نہیں کرسکتا۔یہ اتنی واضح بات ہے کہ قوم شعیب کے کفار بھی اسے سمجھتے تھے۔ بدقسمتی سے آج ہماری مسلمان سوسائٹی میں لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ہمارے ہاں طرح طرح سے ناجائز طریقے سے منافع کمایا جاتا ہے۔ جن میں ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، جھوٹ بول کر مال بیچنا، ذخیرہ اندوزی وغیرہ بہت عام ہیں۔یہ کام کرنے والے لوگ حکومت کے دھوکے ، جھوٹ اور رشوت کے ذریعے سے دنیا کے قانون کی پکڑ سے بچ سکتے ہیں۔ مگر قوم ِ شعیب کا سبق یہ بتاتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچ سکتا۔جس خدا نے قوم شعیب کے بے ایمان لوگوں پر عذاب نازل کیا تھا، آج کے مسلمان بھی اس کی پکڑ سے ہر گز باہر نہیں ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ قوم ِشعیب کے مجرمین کو گزرے ہوئے کل میں پکڑا تھا۔ اور آج کے بے ایمان مجرموں کو وہ آنے والے کل میں پکڑے گا۔ گندے انڈے عام طور پر لوگوں کی یہ کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ جب وہ سودا سلف لینے باہر جائیں توکوئی دکاندار گلی سڑی اور باسی اشیا ان کے حوالے نہ کردے۔ تاہم دکانوں پر ملنے والی اشیا میں غالباََانڈا واحد چیز ہے جس کی ظاہری حالت دیکھ کر اس کے خراب ہونے کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔انڈے کا خراب ہونا اسی وقت معلوم ہوتا ہے جب گھر لانے کے بعد انڈے پر چڑھا خول توڑا جائے ۔تب ہی پتاچلتا ہے کہ کھانے کے استعمال میں آنے والی سفیدی اور زردی صحیح حالت میں ہے یا خراب ہوچکی ہے۔ آج کے انسان کا معاملہ بھی کچھ انڈے ہی جیسا ہے۔آج جس شخص سے بات کی جائے وہ اپنی گفتگو اور ظاہری چیزوں سے اپنے گرد انڈے کی طرح سفید خول چڑھائے ہوئے ملتا ہے۔ خوش اخلاق، باکردار، اصول پرست، معاشرتی خرابیوں سے نالاںاور اخلاقی انحطاط سے پریشان۔مگر جب معاملہ کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر لوگ گندے انڈے کی طرح ہیں۔ لوگ صرف اس وقت تک اچھے انڈے ثابت ہوتے ہیں جب تک ان کے مفادات اور خواہشات کے تحت معاملات چل رہے ہوں۔ مگر جیسے ہی ان کی انا کے خول پر ضرب لگے، ان کے مفادات کاگھروندابکھرنے لگے، ان کی خواہشات کا محل مسمار ہونے لگے، ان کے تعصبات کا علم سرنگوں ہونے لگے ، گندے انڈے کا سفید خول ٹوٹتا ہے اور اس کے اندر سے غلاظت اور بدبو کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ لوگ وعدہ کرتے ہیں مگر پورا نہیں کرتے۔لوگ بولتے ہیں مگر سچائی سے کام نہیں لیتے۔ لوگ تنقید کرتے ہیں مگر عدل و انصاف کو ملحوظ نہیں رکھتے۔لوگ یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ علم واخلاص کے دعوے بھی کرتے ہیں۔ اپنے نیک و صالح ہونے کا ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں۔اپنی پاکدامنی کا قصیدہ بھی پڑھتے رہتے ہیں۔مگر در حقیقت یہ لوگ گندے انڈے ہیں۔یہ گندے انڈے معاشرے کی اعلیٰ روایات کو ختم کررہے ہیں۔ایسے لوگوں کو کبھی ا ن کے الفاظ کے ترازو میں نہیں تولنا چاہیے بلکہ عمل کے آئینے میں ان کی تصویر دیکھنی چاہیے۔
     
  2. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

Share This Page