1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

لوگوں کے حقوق غضب کرنا

Discussion in 'General Topics Of Islam' started by IQBAL, Jan 28, 2015.

  1. IQBAL

    IQBAL Guru Member

    [​IMG]


    حکم ربانی اے مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچا دو۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ بے ایمانی نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو جبکہ تم جانتے ہوکہ یہ برافعل ہے۔
    فرمان نبوی ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں حق طلبی کا دعویٰ کروں گا۔ ایک وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد باندھے پھر اسے توڑ دے، اور وہ جو آزاد شخص کو بیچے اور اس کی قیمت ہڑپ کرجائے اور وہ جو کسی کو ملازم رکھے، اس سے پورا کام لے اور پھر اسے اجرت نہ دے۔ ’’ملعون من ضار مومناً أ ومکربہ ‘‘ وہ لعنتی ہے جو مسلمان کو نقصان پہنچائے اور اس کے ساتھ مکر کرے۔ س:تعریف ؟ ج: اس کی تعریف تو واضح ہے البتہ اتنی وضاحت ضروری ہے کہ حقوق کی چند قسمیں ہوتی ہیں۔ مسلم معاشرت میں ان تمام حقوق کی پاسداری یکساں طورپر لازمی ہے اور ان میں سے ہرایک کی خلاف ورزی شرعاً بڑا گناہ ہے۔ ایک انسان کے دوسرے پر جو حقوق ہوتے ہیں ان میں سے چند اہم یہ ہیں: 1۔ اس کے مال میں ناجائز تصرف نہ کیا جائے۔ چوری، فریب ، خیانت، جان بوجھ کر غلط مشورہ دینا وغیرہ ناجائز تصرف کی ذیل میں آتے ہیں۔ 2۔اس کی آبرو کو مجروح نہ کیا جائے۔ 3۔ اس کو جانی یا بدنی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ 4۔ اس کو ایسی اذیت نہ دی جائے جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ 5۔ اس سے جھوٹ نہ بولا جائے، وعدہ خلافی نہ کی جائے اور مشورہ دینے کی اہلیت نہ ہونے پر مشورہ نہ دیا جائے۔ تعلیم وغیرہ کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ نااہل معلم یا مربی اپنے شاگردوں کا یک بڑا حق غصب کرتا ہے۔ 6۔ اس کی خوشامد اور جھوٹی تعریف نہ کی جائے یعنی اس کے بگڑنے کا کوئی سامان نہ کیا جائے۔ 7۔ اس سے تعلق اور گفتگو میں دین کو مقدم رکھا جائے۔ ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی بھی یا تو گناہ ہے یا ایسی کوتاہی ہے جس کا آخر میں حساب دینا ہوگا ۔ ان کے علاوہ حقوق کی ایک ذاتی قسم بھی ہے۔ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنی ہدایت کا سامان کرے اور اپنے نفس پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ بلاضرورت نہ ڈالے۔ اس ضابطے کو فراموش کرنا گناہ بھی ہے اور نفسیاتی کجی بھی۔ اسی طرح شریعت نے اہل حقوق کے مختلف طبقات بھی مقرر کردیئے ہیں مثلاً والدین اولاد ، رشتہ دار پڑوسی، دوست احباب ، شوہر اور بیوی، عام مسلمان، غیر مسلم وغیرہ۔ ان کے حقوق بھی متعین ہیں اور ہرمسلمان انہیں ادا کرنے کا پابند بھی ہے۔ حقوق کی پوری تفصیل کو ہم اپنی سہولت کے لیے دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد ۔ ان کی ادائی کی طاقت اور جذبہ ایک ہی مرکز سے پھوٹتا ہے لہٰذا یہ بات کسی بھی درجے میں قابل قبول نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے حقوق ادا کرے اور بندوں کی طرف سے غافل ہوجائے یا بندوں کا خیال رکھے اور اللہ کی پرواہ نہ کرے۔ یہ اصول جاننا بہت ضروری ہے کہ حقوق و فرائض کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ اس بنیاد کو بھول کر یہ سارا قصہ محض بے معنی ہے اور شرعاً کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ مختصر یہ کہ اصل چیز اللہ اور اس کے رسول ؐ کی فرماں برداری ہے۔ یہ ہر نیکی اور خیر کی بنیاد ہے جس سے کٹ کر کوئی چیز خواہ کتنی بھی بھلی معلوم ہو بیکار ہے۔ س: اس تمہید میں بہت سی باتیں آپس میں الجھ گئی ہیں کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم حقوق اللہ سے بات شروع کریں اور پھر ہر جزو کی علیحدہ علیحدہ تفصیل بیان کریں ؟ ج: تمہید ہمیشہ بحث کے خلاصے کو بیان کرتی ہے۔ اس لیے وہاں ساری باتیں یکجا ہو گئی ہیں اب ہم آپ کی بتائی ہوئی ترتیب کے مطابق آگے بڑھیں گے۔ سب سے پہلے حقوق اللہ کی طرف آتے ہیں۔ ان کی ضروری تفصیل درج ذیل ہے : اللہ کا بندوں پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے اور اس کے احکام کی پوری اطاعت کی جائے۔ مختصر یہ کہ بندے کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ اللہ پر خود اسی کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق ایمان رکھا جائے اور اس ایمان کے تمام تقاضے ، خواہ وہ علمی ہوں یا عملی، پورے کیے جائیں۔ باقی اللہ کے حقوق کی فرداً فرداً تفصیل سب کو معلوم ہے، الگ سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ س: غالباً رسول اللہ ﷺکے حقوق بھی یہاں مجملاً بیان کیے جاسکتے ہیں ؟ ج: جی ہاں !رسول اللہ ﷺ کے حقوق کے معاملے میں بھی اصول یہی ہے کہ آپ ﷺ پر شریعت کی بتائی تفصیل کے مطابق ایمان رکھا جائے اور محبت واطاعت یا تعلق کی کسی بھی سطح پرآپ ﷺ کے مقابلے میں کسی کو ترجیح نہ دی جائے بلکہ کسی کو آپ ﷺکے برابر بھی نہ لایا جائے۔ عملی نقطہ نظر سے دیکھیں تو امت پررسول اللہ ﷺ کا سب سے بڑا حق یہ ہے کہ آپﷺ کے لائے ہوئے دین کو اس کی صحیح صورت میں محفوظ رکھا جائے اور اس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔ س:یہاں ایک خیال پیدا ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حقوق کا بیان حقوق العباد کے ساتھ کرنا مناسب تھا یعنی حقوق العباد کا آغاز اس سے کیا جاتا؟ ج: رسول اللہ ﷺ کے حقوق اصولی طورپر حقوق العباد ہی ہیں لیکن آپ ﷺ کے امتیاز کو اشتراک پر نوقیت دینا ضروری ہے۔ اسی لیے ہم نے آپﷺ کے حقوق کو حقوق العباد کی ذیل میں بیان کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ویسے بھی یہ سامنے کی بات ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حقوق کی تعمیل پر دین کا دارومدار ہے۔ یہ حیثیت حقوق العباد کی کسی بھی قسم کو حاصل نہیں۔ س: یہ بات تو سمجھ میں آگئی اب حقوق العباد کی بھی کچھ تفصیل بیان کردیں ؟ ج: اپنے نفس کے حقوق: 1۔ اس میں سے امارگی زائل کرنے کی کوشش کی جائے یعنی دین پر چلتے ہوئے اس کا تزکیہ کیا جائے۔ 2نفس کے دوحصے ہیں ایک طبیعت اور دوسرے ذہن طبیعت کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سچے تعلق کے احوال فراہم کرنے کی کوشش کی جائے اور ذہن کو دین کا صحیح فہم مہیا کیا جائے۔ 3۔ نفس کا وہ حصہ جو طبیعت کہلاتا ہے، اسے دین کے حالی فضائل سے اس طرح مانوس کیا جائے کہ ہر فضیلت سے مناسبت رکھنے والا ایک ماحول اس کودے دیا جائے مثلاً نفس میں تعلق باللہ کا سب سے سریع التاثیر حال شکر کا ہے ۔ جائز ذرائع سے اس کی راحت کا سامان کرکے اس میں یہ کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح مثال کے طورپر صبر کو لے لیں تو یہ چیز بھی اسے شکر کے زور پر سکھائی جاسکتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے جہاں اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں وہاں اگر میری ایک آدھ خواہش پوری نہیں ہوتی تو کیا ہوا؟ اسی طرح نفس کا وہ حصہ جو ذہن ہے اس کے دینی Contentکو بالکل واضح، فیصلہ کن اور صحیح صورت میں رکھا جاسکتا ہے۔ بس اصول یہ ہے کہ طبیعت کو ھوی اور ذہن کوررائے کے تابع نہ ہونے دیا جائے۔ 4۔اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ، خواہ وہ بوجھ اٹھانا موجب فضیلت ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اگر نفس تنگی میں پڑگیا تو ایک بڑا عمل تو ممکن ہے وہ کر گزرے لیکن پھر یہ روز مرہ کے معمول اعمال خیر کے بھی قابل نہیں رہتا۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نفس کی خوئے انکار اور سرکشی کو ابھرنے کا بہانہ نہیں دینا چاہیے۔ خواہ اس کے لیے رخصت ہی پر عمل کیوں نہ کرنا پڑے۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ بڑی بڑی دینی ذمہ داریاں خود پر لاد لیتے ہیں لیکن ابھی تھوڑی ہی مدت گزرتی ہے کہ فرائض ادا کرنے کے لائق بھی نہیں رہتے۔ 5۔نفس بمعنی ذات کے بھی کئی حقوق ہیں جن سے غفلت برتنا شرعاً نارواہے مثلاً خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا، اپنے مال وجان و عزت کی حفاظت کرنا، اپنی صحت کا خیال رکھنا، خود کو صاف ستھرا رکھنا وغیرہ۔ باقی رہے وہ اہل حقوق جن کی فہرست اوپر بنائی گئی ہے تو ان کے حقوق معروف ہیں اور ان کے اعادے کی ضرورت نہیں۔ البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ دو چیزیں ادائے حقوق کی روح ہیں، خوف خدا اور ایثار۔ ان کی نگہداشت اور نشوونما کی کوشش کرنے والا، لوگوں کے حقوق اچھی طرح پورے کرسکتا ہے۔ س: حقوق تلفی کے نقصانات کیا ہے ؟ ج: اس خرابی کے متعدد نقصانات گنوائے جاسکتے ہیں لیکن ان میں سے دو بنیادی ہیں: ایک: آدمی کے دل سے اللہ تعالیٰ کا خوف نکل جاتا ہے۔ دوسرے: انسانیت کے بنیادی اوصاف باقی نہیں رہتے یا کمزور پڑجاتے ہیں۔ جوشخص دوسروں کی حق تلفی کو اپنی عادات بنالیتا ہے وہ دین سے مجموعی وابستگی کا کوئی ایک تقاضا بھی پورا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس کی عبادات دکھاوا ہیں اور اس کے تمام اعمال بے روح، کیونکہ یہ ایک ایسی لعنت ہے جو آدمی کے پورے وجود کو لپیٹ میں لے لیتی ہے، یہ نہیں ہوتا کہ ایک حصہ خراب ہوگیا تو باقی بھی محفوظ ہے۔ گویا اس خرابی کی زد آدمی کے تمام دینی انسانی اوصاف پر پڑتی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس کے بعد نقصانات کی فہرست گنوانا غیرضروری ہے، یہی کافی ہے۔ س: اس بری عادت کا علاج کیا ہے؟ ج: اس کا بس ایک علاج ہے، بہت سادہ اور واضح، جو حقوق تلف ہوئے ہیں، ان کی تلافی کریں اور اس معاملے کو اس طرح نمٹائیں جس طرح کوئی دیانت دار شخص اپنے قرضے چکاتا ہے۔ یعنی یا تو متاثرہ لوگوں سے اپنی کوتاہی اور زیادتی معاف کروائی جائے یا پھر اس کے کفارے کی کوئی متفقہ صورت اختیار کی جائے۔ اس کے علاوہ اس کا نہ کوئی نفسیاتی علاج ہے نہ عملی۔ یہ ضرور ہے کہ اس عزم تک پہنچنے کے لیے کچھ محرکات درکار ہیں، ان میں سب سے بڑا محرک اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ اسے پیدا کرنے کی مختلف تدابیر کی جاسکتی ہیں: مثلاً آخر میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا تصور ، دوزخ کا خیال، عذاب قبر کا تصور اور یہ کہ اس خرابی کی وجہ سے میں رسول اللہﷺ کی نفرت کا نشانہ بنوں گا۔ یہ آخری خیال طبیعت کے لیے بہت مؤ ثر ہے۔ س: کیا ادائی حقوق میں کوتاہی اور غصب حقوق میں فرق ہے؟ ج: دوسروں کے حقوق کی ادائی میں کوتاہی اور ان کے حقوق غصب کرنا ایک لحاظ سے مختلف چیزیں ہیں۔ چوری، ڈاکے ، خیانت وغیرہ کا تعلق غصب حقوق سے ہے اور یہ حق تلفی یعنی دوسرے کے حقوق نہ ادا کرنے سے بڑا گناہ ہے۔ جیسے کسی کی رقم ضائع کردینا بھی گناہ ہے لیکن وہ رقم چھین لینا بلاشبہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔

     
  2. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    JazakAllah
     

Share This Page