1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔
  2. آئی ٹی استاد کے لیے ٹیم ممبرز کی ضرورت ہے خواہش مند ممبرز ایڈمن سے رابطہ کریں
    Dismiss Notice

سلطان محمود غزنوی

Discussion in 'History aur Waqiat' started by Xavier, Apr 11, 2015.

Share This Page

  1. Xavier
    Online

    Xavier Guest

    رات کا پچھلا پہر تھا۔ دنیا میٹھی نیند میں تھی، دو آدمی اپنی نیند قربان کرکے شہر کا گشت لگا رہے تھے۔ ایسے میں انہیں چوک میںکوئی کھڑا نظر آیا۔ وہ سرکاری لیمپ کے نیچے کھڑا تھا۔یہ اس کے نزدیک پہنچے تو معلوم ہوا، وہ دس بارہ سال کا ایک لڑکا ہے۔ انہوں نے دیکھا، وہ اپنا سبق یاد کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا:"کیا تم دن کے وقت مدرسے میں نہیں پڑھتے کہ رات کے وقت یہاں کھڑے سبق یاد کر رہے ہو؟"اس کی بات سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، کہنے لگا:"میرے والد مسلمانوں کے بادشاہ کے ہمراہ جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔ میں اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں، میرے والد ہمارے لیےکوئی سرمایہ نہیں چھوڑ گئے۔ اسلیے میری والدہ سارا دن ٹوکریاں بناتی ہیں، میں ان کو بازار میں بیچتا ہوں۔ اس لیے دن میں میرے پاس پڑھنے کا وقت نہیں ہوتا۔ میں روزانہصبح سویرے فجر کی نماز کے بعد محلے کے قاری صاحب سے سبق لیتا ہوں، رات کو یاد کرکے صبح انہیں سنا دیتا ہوں۔ میرا اور بادشاہ کا فیصلہ تو اللہ کی عدالت میں ہوگا۔۔۔ ۔ میں وہاں بادشاہ کا گریبان پکڑ کر عرض کروں گا، یا رب العزت! اس بادشاہ نے تیرے راستے میں شہید ہونے والے مجاہد کے گھرانے کی ذرا بھی خبر گیری نہیں کی۔ اس کے محل میں تو ہزار ہا چراغ جلتے تھے، لیکن مجھے گھر میں چراغ نہ ہونے کی وجہ سے سرکاری لیمپ کی روشنی میں پڑھنا پڑتا تھا۔"ان دو آدمیوں سے ایک خود بادشاہ تھا۔ وہ بچے کی باتیں سن کر بہت شرمندہ ہوا۔ اس نے آگے بڑھ کر کہا:"میں ہی تمہارا بادشاہ ہوں۔ اے لڑکے مجھے معاف کردے۔ اگر تو نے میری شکایت اللہ تعالیٰ کے دربار میں کردی تو میں کہیں کا نہیں رہوں گا۔"ساتھ ہی اس نے فرمان جاری کیا:"اس بچے اور اس کی والدہ کو شاہی محل میں جگہ دی جائے، اسے شہزادوں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مکتب بھیجا جائے۔" دنیا اس بادشاہ کو سلطان محمود غزنوی کے نام سے جانتی ہے​
     
  2. Net KiNG
    Offline

    Net KiNG VIP Member
    • 38/49

    Good Post ....

    ---------- Post added at 01:49 PM ---------- Previous post was at 01:47 PM ----------

    Moved to History & waqaiat section
     
  3. AsadUllah
    Offline

    AsadUllah Cruise Member
    • 36/49

    [FONT="Al_Qalam Tehreeri"]Goood post Brother
    nice Sharing . . . . . .
    [/FONT]
     
  4. UmerAmer
    Offline

    UmerAmer Moderator
    • 38/49

  5. sahil_jaan
    Online

    sahil_jaan Guest

    جزاک اللہ
    سلطان محمود غزنوی کے حوالے سے بہت اچھی شئیرنگ شئیر کی ہے
     
  6. IQBAL HASSAN
    Offline

    IQBAL HASSAN Designer
    • 83/98



    بہت ھی عمدہ شیرینگ ھے ۔
    اپ کابہت شکریہ۔ نوازش ۔


     

Share This Page