1. السلام علیکم
    آئی ٹی استاد ڈاٹ کام وزٹ کرنے کا شکریہ۔ ہم آپکو خوش آمدید کہتے ہیں۔ فورم کے کسی بھی حصے کو استعمال میں لانے جیسے پوسٹنگ کرنے، کوئی تھریڈ دیکھنے یا لکھنے کسی بھی ممبر سے رابطہ کرنے کے لئے اور فورم کے دیگر آلات وغیرہ کا استعمال کرنے کے لئے آپکا رجسٹر ہونا ضروری ہے۔ رجسٹر ہونے کے لئے یہاں کلک کریں۔ رجسٹریشن حاصل کرنا بالکل آسان اور بالکل مفت ہے۔

بات

Discussion in 'Urdu Shair or Qita' started by UmerAmer, Apr 12, 2015.

  1. UmerAmer

    UmerAmer VIP Member

    بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
    بات سے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے​
     
  2. PakArt

    PakArt May Allah bless all Martyre of Pakistan


    گلابی روشنیوں کی بشارت
    بہ احتیاطِ عقیدت بہ چشمِ تر کہنا
    زمانے والوں سے چھُپ کے رونے کے دن نہیں ہیں
    اِک پشیمان سی حسرت سے مُجھے سوچتا ہے
    دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
    کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے
    ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
    کون روک سکتا ہے
    بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
    خواہش کے اظہار سے ڈرنا سِیکھ لیا ہے
    یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
    پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے
    کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
    منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
    اب یہ بات مانی ہے
    حیرت
    ورثہ
    بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں
    نا دیدہ رفاقت میں
    اتنے سچّے کیوں ہوتے ہیں
    یہی نہیں کوئی طوفاں مِری تلاش میں ہے
    تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جا سکتی
    دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوا
    ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
    چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتے
    انحراف
    شامِ تنہائی میں
    جس طرح ماں کی دُعا ہوتی ہے
    مُجھے موت دے کہ حیات دے
    آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
    خامشی سے ہاری میں
    یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا
    اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا
    تُمھاری یاد کی دُنیا میں دن سے رات کروں
    عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
    یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی
    موت سے مُکر جائیں
    اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں
    اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا
    میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں
    بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
    تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے
    قبولیت کا گِلہ نہیں ہے
    لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے
    حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں
    دل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرف
    محّبت یاد رکھتی ہے
    خواب
    محّبت میں کہیں کم ہو گیا ہے
    ضمیرِ عالمِ انسانیت
    مُجھ کو رُسوا سرِ محفل تو نہ کروایا کرے
    یہ عُمر بھر کا سفر اور یہ رائیگانی تری
    ہمارے بس میں اگر اپنے فیصلے ہوتے
    جانے کیسے سنبھال کر رکھّے
    تہمتیں تو لگتی ہیں
    کُل اثاثہ تھا اِک دِیا لوگو
    کیا بتائیں کیوں دئیے دمساز نے
    لُطف سو گواری میں
    پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
    محّبت کم نہیں ہو گی
    ہجر سہنے کی غم شناسی کی
    وہ حرف حرف مِری رُوح مَیں اُترتا گیا
    عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے
    بشارت
    تُم سے کُچھ نہیں کہنا
    آخری خواہش
    میں تو ایک قدم چل کر ہی رُوح تلک تھک جاتی ہوں
    میری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیں
    بے نام اُلجھن
    خرچ اِتنا بھی نہ کر مُجھ کو زمانے کیلئے
    اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
    لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
    یہ گئے دنوں کا ملال ہے
    بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
    کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
    حقیقتوں کا تصّور محال لگتا ہے
    ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
    راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
     
  3. bohat khoob ... Very nice sharing
     
  4. sahil_jaan

    sahil_jaan Guest

    زبردست شاعری پوسٹ کی ہے
     

Share This Page